🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بابُ مَا جَاءَ فِي الثلاثيات
ثلاثیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9578
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9578]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6587»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9579
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی سخاوت اس کا دین ہے، اس کے نفسیاتی آداب اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9579]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مسلم بن خالد سييء الحفظ كثير الاوھام، أخرجه البزار: 3607، والطبراني في الاوسط: 6682، وابن حبان: 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8759»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کا شرف اس کے آباء و اجداد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حسن اخلاق ہوتا ہے، اسی کو اپنا کر وہ بلند مقام حاصل کر سکتا ہے اور اسی کو ترک کر کے وہ تمام دوسری صلاحیتیں ہونے کے باوجود لوگوں کی نگاہوں میں گر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9580
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ صَنَعَ وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ فَإِنَّ اللَّوَّ يَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9580]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8777»
وضاحت: فوائد: … قوی مؤمن اسلام کے تمام ارکان و احکام کو کما حقہ پورا کر سکتا ہے، جیسے جہاد، حج، کمائی وغیرہ، جبکہ کمزور مومن کو رخصتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے،بہرحال دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ صحت و قوت مسلمان کے لیے تب مفید ہے، جب وہ اس سے استفادہ کر رہا ہو۔
دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔
لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9581
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9581]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن مسعدة الباھلي، أخرجه البيھقي في الشعب: 5005، والطبراني في الاوسط: 6559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13079»
وضاحت: فوائد: … دل، زبان اور اعضائ، ہر ایک کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے۔
اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9582
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ الْمُؤْمِنِ قَالَ يَا عُقْبَةُ أَمْلِكْ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ قَالَ ثُمَّ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ قَالَ قُلْتُ بَلَى جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ فَأَقْرَأَنِي قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} {الإخلاص: 1-4} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} {الفلق: 1-5} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} {الناس: 1-6} ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةُ لَا تَنْسَاهُنَّ وَلَا تَبِتَنَّ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ قَالَ فَمَا نَسِيتُهُنَّ مُنْذُ قَالَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ قَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مؤمن کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! اپنی زبان کو قابو میں رکھ، تیرا گھر تجھے اپنے اندر سما لے (یعنی ضرورت کے بغیر گھر سے نہ نکل) اور اپنی غلطیوں پر رو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے ایسی بہترین سورتوں کی تعلیم نہ دوں کہ ان جیسی سورتیں نہ تورات میں نازل ہوئیں، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن مجید (کے بقیہ حصے) میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} پڑھائیں اور پھر فرمایا:اے عقبہ! ان کو نہیں بھولنا اور ان کی تلاوت کیے بغیر کوئی رات نہیں گزارنی۔ پس جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ تونے ان سورتوں کو نہیں بھولنا اس وقت سے میں نہ ان کو بھولا اور نہ میں نے ایسی رات گزاری، جن میں ان کی تلاوت نہ کی ہو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فضیلت والے اعمال کے بارے میں مجھے بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ!جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے، تو اسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے، تو اسے معاف کر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9582]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17467»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9583
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَوْ أَيْنَمَا كُنْتَ قَالَ زِدْنِي قَالَ أَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا قَالَ زِدْنِي قَالَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: مزید نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برائی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ برائی کو مٹا دے۔ انھوں نے کہا: اور زیادہ نصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9583]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير ‘: 20/ 296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22409»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9584
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمِعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ (مسناد أحمد: 23894)
۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصرنصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (اور غنی) ہو جا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9584]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 4171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23498 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین نصیحتوں میں پوری زندگی کا سکون جمع کر دیا ہے۔ کوئی بشر اپنی موت سے آگاہ نہیں ہے، اس لیے اسے چاہئے کہ وہ ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر انتہائی خوبصورت انداز میں ادا کرے، تاکہ اگر اس نماز کے بعد اس کو موت آ جاتی ہے تو وہی نماز اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔ دوسری نصیحت میں شارع علیہ السلام نے زبان کی حفاظت کی تعلیم دی ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ زبان ہی ہے جس سے آدمی کی شخصیت عیاں ہوتی ہے، اگر زبان میں وقار ہے تو پورے وجود میں سنجیدگی ہو گی اور اگر زبان ہر چراگاہ میں چرنے کی عادی ہو تو جسم بھی بے حیا ہو جاتا ہے۔ تیسری نصیحت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لالچ اور حرص جیسی مذموم صفات سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ ان قبیح صفات کی وجہ سے انسان میں کمینگی اور گھٹیاپن پیدا ہو جاتا ہے، جو اس کے مقام و مرتبہ کو جانوروں سے بھی گھٹا دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اسے رازق سمجھے، لوگوں کے مال و دولت پر نگاہ نہ رکھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی فاقہ میں مبتلا ہو جائے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کرے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا اور جو آدمی اس کا اظہار اللہ تعالیٰ کے سامنے کرے تو اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا، وہ جلد ہو یا بہ دیر۔ (ابوداود، ترمذی)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ الثَّلَاثِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9585
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9585]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،ابو اليقظان ضعّفه غير واحد من الأئمة، لكن يكتب حديثه في المتابعات والشواھد، أخرجه الترمذي: 1986، 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4799»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9586
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9586]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 2518، والترمذي: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7410»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9587
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ) الْوِتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9587]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 2518، والترمذي: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7452»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں