Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ وَاسْتِشْهَادِهِ مَعَ حُبَيْبٍ
سریہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10743
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَّةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ قَالُوا نَوَى تَمْرِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ فَلَمَّا أُخْبِرَ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَأُوا إِلَى فَدْفَدٍ فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا لَهُمْ انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ الْقَوْمِ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَلَمَّا تَمَكَّنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَيْبًا وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا لِلْقَتْلِ فَأَعَارَتْهُ إِيَّاهَا فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا قَالَتْ وَأَنَا غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ فَوَجَدْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ قَالَتْ فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنِّي أَقْتُلُهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ دَعُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعًا مِنَ الْقَتْلِ لَزِدْتُ اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَى بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس آدمیوں کی ایک جماعت کو روانہ فرمایا تاکہ وہ قریش کے حالات کو معلوم کریں کہ وہ آج کل کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا عاصم بن ثابت بن ابی اقلح کو ان پر امیر مقرر فرمایا،یہلوگ اپنے مشن پر روانہ ہوئے جب عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک مقام الھدۃ پر پہنچے تو بنو ہذیل کے ایک قبیلے بنولحیان کے لیے ان کا ذکر کیا گیا۔ اس قبیلے کے ایک سو کے لگ بھگ تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا،یہ مسلمان ایک مقام پر ٹھہرے تھے، بنو لحیان کے لوگوں نے وہاں ان کے طعام میں دیکھا کہ انہوں نے وہاں کھجوریں کھائی ہیں، کہنے لگے یہ تو یثرب کی کھجوروں کی گٹھلیاں ہیں، وہ ان کے قدموں کے آثار پر ان کا پیچھا کرتے کرتے، ان تک جا پہنچے۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں کو ان کے بارے میں خبر دی گئی تو یہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ گئے۔ دشمن نے ان کا محاصرہ کر لیا اور کہا تم نیچے اتر آؤ تمہارے پاس جو کچھ ہے، ہمیں دے دو، ہم تمہارے ساتھ پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے، تو عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ امیر قافلہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو کسی کافر کی امان میں نہیں جاتا، یا اللہ! ہمارے متعلق اپنے نبی کو مطلع کر دے، پھر کافروں نے ان مسلمانوں پر تیر برسانا شروع کر دیئے اور سات مسلمانوں کو شہید کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ باقی تین آدمی سیدنا خبیب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن دثنہ اور ایک تیسرا آدمییہ ان کے عہدو پیمان کے نتیجے میں نیچے آگئے۔ کافروں نے جب ان تینوں کو قابو کر لیا تو ان کی کمانوں کی رسیاں کھول کر انہیں انہی سے باندھ دیا۔ ان تین میں سے تیسرے صحابی نے کافروں سے کہا: یہ تمہارا دھوکا ہے، اللہ کی قسم! میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے ان شہیدوں میں بہترین نمونہ ہے۔ کافروں نے اسے گھسیٹا اور ساتھ لے جانے کی پوری کوشش کی، مگر اس نے ساتھ جانے سے صاف صاف انکار کر دیا، بالآخر انھوں نے اسے بھی قتل کر ڈالا اور سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے گئے او رجا کر مکہ میں فروخت کر دیا،یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن حارث بن عامر بن نوفل کو قتل کیا تھا، اس کی اولاد نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاں قیدی کی حیثیت سے رہے حتی کہ انہوں نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اپنے قتل سے قبل سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی کسی بیٹی سے استرا طلب کیا، اس نے انہیں استرا لا دیا، اس دوران اس عورت کا چھوٹا سا بیٹا خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، وہ کہتی ہے کہ میں بچے کی طرف سے غافل تھی، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا اور وہ خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچا، جب میں نے خبیب کو دیکھا کہ انہوں نے بچے کو اپنی ران پر بٹھایا ہوا تھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ کہتی ہے: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی، خبیب رضی اللہ عنہ میری گھبراہٹ کو جان گئے۔ کہنے لگے: کیا تمہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ میں اسے قتل کردوں گا؟ میں یہ کام نہیں کر سکتا، وہ کہتی ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ان کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے ان کو ایک دن انگور کھاتے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھے۔ حالانکہ وہ تو زنجیروں میںبندھے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں پھل تھے ہی نہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خصوصی رزق عطا فرمایا تھا، وہ لوگ قتل کرنے کے لیے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر حرم کی حدود سے باہر گئے تاکہ ان کو وہاں جا کر قتل کریں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے اجازت دو، تاکہ میں دو رکعت نماز ادا کروں۔ چنانچہ انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر کہا اللہ کی قسم! اگر یہ اندیشہ نہ ہو کہ تم سمجھو گے کہ میں قتل سے گھبرا رہا ہوں تو میں مزید نماز پڑھتا، یا اللہ ان میں سے ایک ایک کو شمار کر اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہلاک کر، اور ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑ، پھر انھوں نے یہ اشعار پڑھے: فَلَسْتُ أُبَالِی حِینَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا، عَلَی أَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِی، وَذٰلِکَ فِی ذَاتِ الْإِلٰہِ وَإِنْ یَشَأْیُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ۔ (میں جب اسلام کی حالت میں قتل ہوںکر مر رہا ہوں تو مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ اللہ کی خاطر میں کس پہلو پر گرتا ہوں، میرے ساتھ یہ سلوک اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ہو رہا ہے کہ میں اس پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں، اگر وہ چاہے گا تو میرے جسم کے کٹے ہوئے اعضاء کو برکتوں سے نواز دے گا۔) اس کے بعد ابو سروعہ عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر ان کو شہید کر دیا۔ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے باندھ کر قتل کئے جانے والے ہر مسلمان کے لیے قتل سے قبل نماز کا طریقہ جاری کیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کی دعا کو قبول کیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن صحابہ کرام کو ان کے واقعہ کی خبر دی۔ قریش کو پتہ چلا کر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے ہیں تو انہوں نے کچھ قریشی لوگوںکو بھیجا تاکہ وہ جا کر عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کے کچھ اعضاء کاٹ لائیں تاکہ انہیں مزیدیقین ہو جائے کہ وہ واقعی قتل ہو چکے ہیں۔ دراصل عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن قریش کے ایک سردار کو قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے بھڑ جیسے زہریلے جانوروں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے، جنہوں نے عاصم رضی اللہ عنہ کے اوپر چھتری کی مانند سایہ کر دیا اور قریش کے بھیجے ہوئے لوگوں کے برے ارادے سے ان کو بچا لیا، وہ ان کے جسم کے کسی بھی حصہ کو کاٹنے کی جرأت نہ کر سکے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10743]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8082»
وضاحت: فوائد: … یہ حادثہ صفر ۴ سن ہجری میںپیش آیا، ایک روایت میں ہے کہ عضل اور قارہ قبائل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ذکر کیا کہ ان کے اندر اسلام کا کچھ چرچا ہے، لہٰذا آپ انہیں دین سکھانے اور قرآن پڑھانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیج دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی امارت میں دس صحابہ کو روانہ فرمایا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَاب مَا جَاءَ فِي سَرِيةِ بِثْرِ مَعُونَةً وَهِيَ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا الْقُرَّاء رضي الله عنهم
سریہ بئر معونہ کابیان اور یہ وہی سریہ ہے، جس میں ستر افراد شہید ہو گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10744
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَهُ أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ قَالَ فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ائْتُونِي بِفَرَسِي فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ وَرَجُلٌ أَعْرَجُ فَقَالَ لَهُمْ كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ قَالَ فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ فَقَالَ أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَأُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ثُمَّ قَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ قَالَ أَنَسٌ فَأُنْزِلَ عَلَيْنَا وَكَانَ مِمَّا يُقْرَأُ فَنُسِخَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا قَالَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی میرے ماموں حرام کو ستر افراد کے ایک دستہ کے ہمراہ بھیجا تھا اور یہ لوگ بئر معونہ کے دن قتل کر دئیے گئے تھے۔ ان دنوں مشرکین کا لیڈر عامر بن طفیل بن مالک عامری تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر پیش کش کی تھی کہ آپ میری طرف سے تین میں سے کوئی ایک بات قبول کر لیں: (۱) دیہاتی علاقے آپ کے اور شہری علاقے میرے ہوں، یا (۲) آپ کے بعد خلافت مجھے دی جائے، یا (۳)میں بنو غطفان کو ساتھ ملا کر ایک ہزار اونٹوں اور ایک ہزار اونٹنیوں کے ساتھ آپ سے لڑوں گا۔ (اس موقعہ پر آپ نے دعا کی کہ یا اللہ عامر کے مقابلے میں میری مدد فرما) چنانچہ وہ بنو سلول کے ایک گھرانے میں تھا کہ اسے طاعون نے آلیا، وہ کہنے لگا: یہ تو بنو فلاں کی عورت کے گھر میں اونٹوں کی گلٹی جیسی گلٹی ہے، میرا گھوڑا میرے پاس لاؤ۔ اس کا گھوڑا اس کے پاس لایا گیا،یہ اس پر سوار ہو ا اور اس کی پشت پر ہی اسے موت آگئی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بھائی سیدنا حرام رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھ دو آدمی ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا اعرج یعنی لنگڑا تھا، کو ساتھ لئے چلا، اور اس نے ان تینوں سے کہا: تم میرے قریب قریب رہنا تاآنکہ میں ان کے پاس جا پہنچوں، انہوں نے اگر مجھے کچھ نہ کہا تو بہتر اور اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہوئی تو تم میرے قریب ہی ہو گے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر ڈالا تو تم پیچھے والے اپنے ساتھیوں کواطلاع تو دے سکو گے۔ چنانچہ حرام رضی اللہ عنہ ان کے قریب پہنچے اور ان سے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا سکوں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، یہ ان کے سامنے گفتگو کرنے لگے اور ان لوگوں نے حرام رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا ور اس نے ان پر نیزے کا وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انہوں نے اعرج کے سوا باقی دو کو قتل کر دیا، وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا اس لئے بچ گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسی واقعہ کے سلسلہ میں ہم پر یہ آیت نازل ہوئی، اس کی باقاعدہ تلاوت کی جاتی تھی،یہ بعد میں منسوخ کر دی گئی: بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ (ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا ہے۔)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان رِعل، ذکوان، بنو لحیان اور بنو عصیہ پر چالیس دن تک بددعا کی، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصیت کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10744]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2801، 4091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13227»
وضاحت: فوائد: … یہ حادثہ بھی صفر ۴ سن ہجری میں ہی پیش آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سریہ عاصم اور بئر معونہ کے ان حادثات سے سخت رنج و الم پہنچا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10745
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَكَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ أَهْلِهِ فَقَالَ اشْهَدُوا يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ قَالَ ثَابِتٌ فَكَأَنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ لَوْ سَمَّيْتَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ أَنْ أَقُولَ لَكُمْ قُرَّاءُ أَفَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ إِخْوَانِكُمْ الَّذِينَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبْعِينَ فَكَانُوا إِذَا جَنَّهُمُ اللَّيْلُ انْطَلَقُوا إِلَى مُعَلِّمٍ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ فَيَدْرُسُونَ اللَّيْلَ حَتَّى يُصْبِحُوا فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ قُوَّةٌ اسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ وَأَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سَعَةٌ اجْتَمَعُوا فَاشْتَرَوُا الشَّاةَ وَأَصْلَحُوهَا فَيُصْبِحُ ذَلِكَ مُعَلَّقًا بِحُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَفِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ دَعْنِي فَلْأُخْبِرْ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ حَتَّى يُخْلُوا وَجْهَنَا وَقَالَ عَفَّانُ فَيُخْلُونَ وَجْهَنَا فَقَالَ لَهُمْ حَرَامٌ إِنَّا لَسْنَا إِيَّاكُمْ نُرِيدُ فَخَلُّوا وَجْهَنَا فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِالرُّمْحِ فَأَنْفَذَهُ مِنْهُ فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِي جَوْفِهِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي هَلْ لَكَ فِي قَاتِلِ حَرَامٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا لَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ قَالَ مَهْلًا فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ وَقَالَ عَفَّانُ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ رَفَعَ يَدَيْهِ
ثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے، انہوں نے اپنے اہل کے درمیان بیٹھ کر ایک مکتوب لکھا اور کہا: اے قراء کی جماعت! حاضر ہو جاؤ، ثابت کہتے ہیں:مجھے یہ لفظ کچھ اچھا نہ لگا، سو میں نے عرض کیا: اے ابو حمزہ! کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ ان لوگوں کو ان کے ناموں سے پکارتے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ میں تمہیں قراء کہوں، کیا میں تمہیں تمہارے ان بھائیوں کے متعلق نہ بتلاؤں، جنہیں ہم عہدِ رسالت میں قراء کہا کرتے تھے۔ پھر انہو ں نے بیان کیا کہ وہ ستر افراد تھے، ان کی حالت یہ تھی کہ جب رات ہوتی تو وہ مدینہ میں اپنے ایک استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے اور وہاں ساری رات صبح تک قرآن کا سبق لیتے اور جب صبح ہوتی تو جس میں استطاعت ہوتی وہ شیریں پانی لاتا۔(اور اسے فروخت کرتا) اور کوئی ایندھن کی لکڑیاں لا کر بیچ لیتا اور جس میں استطاعت ہوتی وہ مل کر بکری خرید لیتے، اسے خوب بنا سنوار کر ذبح کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں کے پاس لٹکا دیتے، جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قراء کو ایک مہم پر روانہ فرمایا،یہ بنو سلیم کے ایک قبیلے میں گئے، ان کے ہمراہ میرے ماموں سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے امیرِ قافلہ سے گزارش کی کہ مجھے اجازت دیں تاکہ میں ان لوگوں کو بتا دوں کہ ہم ان سے لڑائی کرنے کے لیے نہیں آئے، تاکہ وہ ہمارا راستہ نہ روکیں، پس سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے جا کر ان سے کہا: ہم تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے، لہٰذا تم ہمارا راستہ نہ روکو۔ ایک آدمی نیزہ لے کر سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور اس نے ان پر نیزے کا وار کر دیا، نیزہ ان کے جسم سے پار ہو گیا۔ انہوں نے جب اپنے پیٹ پر نیزے کا وار محسوس کیا تو زور سے کہا: اللہ اکبر، ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ پھر وہ لوگ باقی قافلہ والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی موقع پر اس قدر غمگین نہیں دیکھا، جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس واقعہ سے غمگین ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں ہاتھ اُٹھا کر ان ظالموں پر بددعا کرتے تھے، سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے: کیا میں تمہیں تمہارے ماموں سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کے قاتل کے متعلق بتلاؤں؟ میں نے کہا: اللہ نے اس کے ساتھ جو کرنا تھا کر لیا،اس نے کہا وہ تو اسلام قبول کر چکا ہے۔ عفان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر ان پر بددعائیں کیں۔اور ابو النضر نے یوں کہا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10745]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12429»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ بَنِي النَّصِيرِ وَاجَلَائِهُمْ عَنِ الْمَدِينَةِ
غزوۂ بنی نضیر اور بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10746
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور ان پر احسان فرمایا، لیکن جب بنو قریظہ نے لڑائی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کرو ادیا اوران کی عورتوں، بچوں اور مالوں کومسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا، البتہ ان میں سے بعض آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے سارے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بنو قینقاع کو بھی،یہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو اور باقی تمام یہودی جو جو مدینہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو جلا وطن کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10746]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4028، ومسلم: 1766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6367»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10747
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} [الحشر: 5]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے بویرہ نخلستان کی کھجوروں کو جلایا اور کاٹ ڈالا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلٰی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} … تم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جن کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا، یہ اس لیے ہوا کہ اللہ فاسقین کو رسوا کرنا چاہتا تھا۔ (سورۂ حشر: ۵) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10747]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري4031، 4884، ومسلم: 1746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6054»
وضاحت: فوائد: … مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان یہودیوں سے صلح کر لی تھی کہ نہ آپ ان سے لڑیں نہ یہ آپ سے لڑیں، لیکن ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا، جن کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور آپ نے انہیںیہاں سے نکال دیا، مسلمانوں کو کبھی اس کا خیال تک نہ تھا، خود یہیہود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان مضبوط قلعوں کے ہوتے ہوئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئییہ سب چیزیںیونہی رکھی کی رکھی رہ گئیں اور اچانک اس طرح گرفت میں آ گئے کہ حیران رہ گئے اور آپ نے انہیں مدینہ سے نکلوا دیا، بعض تو شام کی زراعتی زمینوں میں چلے گئے، جو حشر و نشر کی جگہ ہے اور بعض خیبر کی طرف جا نکلے، ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے اونٹوں پر لاد کر جو سامان لے جا سکو اپنے ساتھ لے جاؤ، اس لئے انہوں نے اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ کر جو چیزیں لے جا سکتے تھے، اپنے ساتھ اٹھالیں، جو رہ گئیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ اس آیت میںبنونضیر کا ذکر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا تو ان کے کھجور کے درختوں کو آگ لگا دی اور کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے، جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب آ گئے ہیں۔
یہ ربیع الاول ۴ سن ہجری کا واقعہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي زَوَاجِهِ ﷺ بِأَمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10748
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَانِي أَبُو سَلَمَةَ يَوْمًا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا فَسُرِرْتُ بِهِ قَالَ لَا تُصِيبُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُصِيبَةٌ فَيَسْتَرْجِعَ عِنْدَ مُصِيبَتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا فُعِلَ ذَلِكَ بِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَحَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ اسْتَرْجَعْتُ وَقُلْتُ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ مِنْ أَيْنَ لِي خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَدْبُغُ إِهَابًا لِي فَغَسَلْتُ يَدَيَّ مِنَ الْقَرَظِ وَأَذِنْتُ لَهُ فَوَضَعْتُ لَهُ وَسَادَةَ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَقَعَدَ عَلَيْهَا فَخَطَبَنِي إِلَى نَفْسِي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا تَكُونَ بِكَ الرَّغْبَةُ فِيَّ وَلَكِنِّي امْرَأَةٌ فِيَّ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَخَافُ أَنْ تَرَى مِنِّي شَيْئًا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ بِهِ وَأَنَا امْرَأَةٌ دَخَلْتُ فِي السِّنِّ وَأَنَا ذَاتُ عِيَالٍ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْغَيْرَةِ فَسَوْفَ يُذْهِبُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ السِّنِّ فَقَدْ أَصَابَنِي مِثْلُ الَّذِي أَصَابَكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْعِيَالِ فَإِنَّمَا عِيَالُكِ عِيَالِي قَالَتْ فَقَدْ سَلَّمْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَدْ أَبْدَلَنِي اللَّهُ بِأَبِي سَلَمَةَ خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے تشریف لائے اورکہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ایسی بات کہتے سنا ہے کہ جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان کو کوئی مصیبت آئے اور وہ اس وقت (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھے اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا (یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کا نعم البدل عطا فرما) تو اللہ اسے یہ چیزیں عطا فرما دیتا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان کییہ بات یاد رکھی اور جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھی اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ لیکن ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر اور اچھا انسان کون ہو سکتا ہے؟ (بہرحال میں نے دعا جاری رکھی)، سو جب میری عدت پوری ہوئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاں داخل ہو نے کی اجازت طلب کی، اس وقت میں چمڑا رنگ رہی تھی، میں نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر آنے کی اجازت دی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا، اس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ شادی کا پیغام دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسی تو کوئی بات نہیں کہ مجھے آپ میں رغبت نہ ہو، درحقیقت بات یہ ہے کہ میرے اندر غیرت کا جذبہ بہت زیادہ ہے، مجھے ڈر ہے کہ مبادا آپ میرے اندر ایسی کوئی بات دیکھیں، جس کی وجہ سے اللہ مجھے عذاب سے دو چار کر دے، نیز میں اب کافی عمر رسیّدہ بھی ہو چکی ہوں اور میں اولاد والی بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے جو غیرت کا ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے عنقریب ختم کر دے گا، تم نے عمر رسیدہ ہونے کی جو بات کی ہے تو میرا حال بھی ایسا ہی ہے اور جو تم نے اولاد کی بات کی ہے تو وہ میری اپنی اولاد ہو گی۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات تسلیم کر لی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے نکاح کر لیا، سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے میں اس سے بہتر شوہر یعنی اللہ کے رسول عطا کر دئیے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10748]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، الا ان المطلب بن عبد الله، روايته عن الصحابة مرسلة، الا انس بن مالك، وسھل بن سعد، وسلمة بن الاكوع ومن كان قريبا من طبقتھم، وھو عند مسلم بغير ھذه السياقة من حديث ام سلمة بلفظ: ما من مسلم تصيبه مصيبة فيقول ما أمره الله: انا لله وانا اليه راجعون، اللھم اأجُرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منھا، الا اخلف الله له خيرا منھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16455»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10749
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ فَلَمَّا قُبِضَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا قَالَتْ وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا فَقُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَدَّتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَدَّتْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِرَسُولِهِ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي مُصْبِيَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَوْنِي قَالَتْ يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا يَسْتَحْيِي فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا وَقَالَ دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ وَيَقُولُ أَيْنَ زَنَابُ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ قَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت آئے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، عِنْدَکَ اِحْتَسَبْتُ مُصِیبَتِی وَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم نے اسی کی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ میں اپنی اس مصیبت کا تجھ سے اجر چاہتا ہوں، تو مجھے اس کا اجر اور اس کا نعم البدل عطا فرما)۔ جب میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے کہا: یا اللہ! میرے بعد میرے اہل میں اچھا نائب بنانا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے کہا:إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، عِنْدَکَ اِحْتَسَبْتُ مُصِیبَتِی وَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا۔سیّدہ فرماتی ہیں: میں نے یوں کہنا چاہا کہ وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا (اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما)، لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ میں یہ سوچتی رہی، آخر کا میں نے یہ لفظ بھی کہہ ہی دئیے، جب ان کی عدت پوری ہوئی تو سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے ان کو رد کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے ان کو بھی رد کر دیا، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، لیکن تم جا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرو کہ میں تو بہت زیادہ غیرت والی ہوں اور میں صاحبِ اولاد بھی ہوں اور میرے سر پر ستوں میں سے یہاں کوئی بھی موجود نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی جواب بھیجا کہ تمہارا یہ کہنا کہ تم صاحبِ اولاد ہو اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، بچوں کے بارے میں اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارا یہ کہنا کہ تم انتہائی غیرت مند ہو تو میں اللہ سے دعا کر وں گا کہ وہ تمہاری غیر ت کی اس شدت کو ختم کر دے اور تمہارا یہ کہنا کہ تمہارے سر پرستوں میں سے کوئی بھییہاں موجود نہیں، تو یاد رہے کہ تمہارا کوئی بھی سر پرست، وہ موجود ہو یا غائب، وہ میرے متعلق رضا مندی کا ہی اظہار کرے گا۔ یہ سن کر میں نے اپنے بیٹے عمر سے کہا کہ اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا نکاح کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہاری فلاں بہن کوجو کچھ دیا ہے، تمہیں اس سے کم نہ دوں گا، اسے دو چکیاں، دو مٹکے، اور چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کی چھال بھری تھی، دئیے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں آتے اور وہ اپنی دختر زینب کو گود میں اٹھائے دودھ پلا رہی ہوتی تو چوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انتہائی حیا دار اور مہربان تھے، ان کو اس کیفیت میں دیکھتے تو واپس چلے جاتے، اس قسم کی صورت حال کئی مرتبہ پیش آئی، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس کا پتہ چل گیا وہ ان کا مادری بھائی تھا، تو ایک دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آکر زینب کو ان کی گود سے اٹھالے گئے اور کہا کہ تم اس بچی کو چھوڑو، جس کی وجہ سے تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان کرتی ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو ادھر ادھر دیکھنے لگے اور فرمایا: زناب کہاں ہے؟ زناب کدھر گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد زینب تھی، سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ عمار رضی اللہ عنہ آئے تھے اور وہ اسے لے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارا اور فرمایا: اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن قیام کروں گا، لیکنیاد رکھو پھر میں اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن قیام کرنے بعد میں تمہارے پاس آؤں گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10749]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27204»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10750
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ حَلَلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمِّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زَنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا وَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلِ اقْسِمْ لِي
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے گزشتہ حدیث کی مانند ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں آئے تو دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ واپس لوٹ گئے، اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورانہیں دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر واپس چلے گئے۔ جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ ان کے ہاں آئے اور کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی حاجت کے درمیان حائل ہو، تم یہ بچی مجھے دے دو، پس وہ اسے لے گئے اور اسے دودھ پلانے والی عورت کا بندوبست کر دیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے عمار لے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف رکھی اور فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاں پچھلے پہر تک قیام کیا اورپھر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کر سکتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن گزاروں گا اور اگر چاہو تو تمہارے لیے باری مقرر کردوں؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے باری ہی مقرر کر دیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10750]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد العزيز بن بنت ام سلمة، ولضعف اسماعيل بن عبد الملك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27257»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10751
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا وَيَقُولُونَ مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ إِلَى الْحَجِّ فَقَالُوا مَا تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ يُصَدِّقُونَهَا فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً قَالَتْ فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ مَا مِثْلِي يُنْكَحُ أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِيَّ وَأَنَا غَيُورٌ وَذَاتُ عِيَالٍ فَقَالَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَتَزَوَّجَهَا فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ أَيْنَ زُنَابُ حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا فَاخْتَلَجَهَا وَقَالَ هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ قَالَتْ فَقُمْتُ فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ لَهُ قَالَتْ فَبَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ فَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي
ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتلایا کہ وہ جب مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتلایا: میں ابو امیہ بن مغیرہ کی دختر ہوں، لوگوں نے ان کو جھوٹا سمجھا اور انھوں نے کہا: یہ کیسی عجیب وغریب جھوٹی بات ہے، یہاں تک کہ وہاں سے کچھ لو گ حج کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے کہا: کیا آپ اپنے اہلِ خانہ کے نام خط نہیں لکھ دیتیں؟ سو انہوں نے انہیں خط لکھ دیا، پھر انہوں نے مدینہ واپس آکر ان کی باتوں کی تصدیق کی (کہ واقعی وہ ابو امیہ کی بیٹی ہیں)، پس لوگوں میں ان کا مقام مزید بڑھ گیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں نے اپنی بیٹی زینب کو جنم دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاں آکر مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کیا: مجھ جیسی عورت سے نکاح نہیں کیا جاتا، اب مجھ سے اولاد ہونے کی امید نہیں اور پھر میں بہت زیادہ غیرت کھانے والی ہوں اور صاحبِ اولاد بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے زیادہ عمر رسیّدہ ہوں، باقی رہی غیرت کی بات تو اللہ اسے ختم کر دے گا اور اولاد تو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ زناب کہاں ہے؟ یہاں تک کہ ایک دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بچی کو لے گئے اور انہوں نے کہا:یہ بچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان حائل ہے، کیونکہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسے دودھ پلا رہی ہوتی تھیں، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت آئے تھے کہ قُریبہ بنت ابی امیہ بھی اپنی بہن کے ہاں آئی ہوئی تھیں، انہوں نے کہا:بچی کو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ لے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ہاں رات کو آؤں گا۔ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے میں اٹھی اور ایک مٹکے میں کچھ جو تھے، میں نے انہیں نکال کر ان کا مغز نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات بسر کی، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن راتیں گزاروں گا، اور اگر تمہارے ہاں سات راتیں گزاریں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات راتیں گزاروں گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الرابعة للهجرة/حدیث: 10751]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الحميد بن عبدالله، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 23/ 858، وعبد الرزاق في مصنفه: 10644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27154»
وضاحت: فوائد: … ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ رضی اللہ عنہا پہلے سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں اور ان سے ان کی کئی اولاد بھی تھی، سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جمادی الثانیۃ۴ ہجری میں وفات پا گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوال ۴ ہجری میں چند روز باقی تھے کہ ان سے شادی کر لی،یہ فقیہ ترین اور عقلمند ترین عورتوں میں سے تھیں،۸۴ سال کی عمر میں۵۹یا۶۲ ہجری میں وفات پائی اور بقیع میں دفن ہوئیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں