Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ رضي الله عنهما مَانَا إِلَى الْيَمَنِ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کییمن کی طرف مہم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10958
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ يَا بُرَيْدَةُ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کی معیت میںیمن کی طرف ایک غزوہ میں گیا، میں نے ان کے رویہ میں سختی دیکھی، سو جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو میں نے آپ کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے ان کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو نے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کامولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں جس کا دوست ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10958]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 83، والنسائي في الكبري: 8145، وفي خصائص علي: 82، والحاكم: 3/ 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23333»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ ورع اور تقوی سے متصف تھے، ممکن ہے ان کے کسی معاملے سے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ متاثر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول و فعل کی روشنی میں وضاحت کر دی کہ کسی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10959
فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ يُبْغِضْهُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ فَصَحِبْتُهُ مَا أَصْحَبُهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْيًا قَالَ فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبْيِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُهُ مُغَطًّى فَقُلْنَا يَا أَبَا الْحَسَنِ مَا هَذَا قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ وَوَقَعْتُ بِهَا قَالَ فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْعَثْنِي فَبَعَثَنِي مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُبْغِضْهُ وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ قَالَ فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ أَبِي بُرَيْدَةَ
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہیں تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ نے ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال غنیمتکے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب باہر آئے تھے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو حسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی رضی اللہ عنہ کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہیں تھا۔عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اس حدیث کے بیان کرنے میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان صرف میرے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10959]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3051م،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23355»
وضاحت: فوائد: … استبرائے رحم کے لیے حاملہ لونڈی کا وضع حمل تک اور غیر حاملہ لونڈی کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جس لونڈی سے جماع کیا تھا، ممکن ہے کہ ان کے پہنچنے تک اس کو حیض آ چکا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کنواری ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10960
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ وَإِنِ افْتَرَقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ قَالَ فَلَقِينَا بَنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَاقْتَتَلْنَا فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَيْنَا الذُّرِّيَّةَ فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ لِنَفْسِهِ قَالَ بُرَيْدَةُ فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعْتُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ بَعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف دو دستے روانہ فرمائے تھے،ایک دستے پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم آپس میں ملو تو سب لوگوں پر نگران علی ہوں گے اور اگر تم الگ الگ رہو تو تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے لشکر پر امیر ہو گا۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارا اہل یمن کے قبیلہ بنو زید سے آمنا سامنا ہوا اور ان سے لڑائی ہوئی، مسلمان مشرکوں پر غالب رہے، ہم نے جنگ جو لوگوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیدی عورتوں میں سے ایک کو اپنے لیے چُن لیا۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس صورت حال پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خط لکھ کر مطلع کیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ خط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خط پڑھا گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ پناہ کے طالب کی جگہ ہے یعنی میں آپ سے گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک شخص کی زیرِ امارت بھیجا اور پابند کیا ہے کہ میں اس کی اطاعت کروں، میں نے تو وہی کام کیا جس کے لیے مجھے بھیجا گیا،یعنی میں نے تو کوئی غلطی نہیں کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم علی پر کسی قسم کی انگشت نمائی نہ کرو، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور میرے بعد وہی تمہارا دوست ہو گا، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور میرے بعد وہی تمہارا دوست ہو گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10960]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة من اجل اجلح الكندي، فھو ضعيف، أخرجه البزار: 2563، والنسائي في خصائص علي: 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23400»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه إِلَى اليمن
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10961
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا أَوْ قَبْرِي فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روپڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: سب لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10961]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 647، والطبراني في المعجم الكبير: 20/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22402»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع اور حسن اخلاق تھا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر جا رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو الوداع کرنے کے لیے پیدل جا رہے ہیں۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاضی، جہاد کے مسئول اور صدقہ و زکوۃ وصول کرنے والے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے اکاسی دن بعد وفات پا گئے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10962
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ بر حق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کویہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پرزکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی،ا گر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10962]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1395، 2448، ومسلم: 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2071»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نمائندوں، قاصدوں اور مسئولوں کو لوگوں کی تربیت کے لیے کس ترتیب سے احکام دے رہے ہیں، کاش عصر حاضر کے مسلم حکمران بھی ان ہی ہدایات کو اپنی کامیابی کا راز سمجھ لیتے۔
جو کوئی کلمۂ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُوْم جَرِيرِ بن عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَيْعَتِهِ وَإِسْلَامِهِ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10963
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ وَقَالَ جَرِيرٌ لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ قَالَ جَرِيرٌ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي وَقَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ نَعَمْ
مغیرہ بن شبل سے مروی ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا کر اپنا سامان کھول کر ایک طرف رکھ کر شان دار لباس زیب تن کیا اور میں مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، لوگوں نے میری طرف تیز نظروں سے دیکھا، میں نے اپنے قریب بیٹھے آدمی سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد کیا ہے؟ اس نے بتایا: جی ہاں، آپ نے ابھی ابھی بڑے خوبصورت الفاظ سے تمہیںیاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دورانِ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا ذکرکیا اور فرمایا کہ اس دروازے سے یا اس راستے سے تمہارے پاس فضلائے اہلِ یمن میں سے ایک آدمی داخل ہونے والا ہے، اس کے چہرے سے بادشاہوں کی سی شان جھلکتی ہے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اپنے اس اعزاز پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10963]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 8304، وابن حبان: 7199، والحاكم: 1/ 285، والبيھقي: 3/ 222. ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19394»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جریر مشاہیر صحابہ میں سے ہیں، ان کے قبیلہ بجلیہ اور خثعم کا ایک بت اور ایک بہت بڑا بت خانہ تھا، جسے ذوالخلصہ کہتے ہیں، وہ اس سے خانہ کعبہ کی ہمسری کرتے تھے، اسی لیے وہ کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے اور اپنے بت خانہ کو کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے ذوالخلصہ کو ویران کر دیا، اس کا ذکر اگلے باب میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10964
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي قَالَ فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَسَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ذکر کیاہے؟۔۔۔پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10964]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19394»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10965
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَعَلَى فِرَاقِ الشِّرْكِ أَوْ كَلِمَةٍ مَعْنَاهَا
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اقامت ِ صلوۃ، ادائے زکوۃ، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور شرک سے مکمل اجتنا ب کرنے کی بیعت کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10965]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19377»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10966
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ
۔(دوسری سند) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ پر کوئی شرط عائد کریں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرض نماز ادا کرنا، فرض زکوۃ ادا کرنا اور ہر مسلم کے ساتھ خیر خواہی کرنا اور کافروں سے لا تعلق رہنا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10966]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19366»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي إِلَى هَدَمِ ذِي الْخَلَصَةِ
ذوالخلصہ نامی بت خانہ کو منہدم کرنے کے لیے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی مہم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10967
عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةِ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ) وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ بت خانہ سے راحت نہیں پہنچا سکتے؟ وہ یمن کے قبیلہ خثعم میں ایک بت خانہ تھا، جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا، چنانچہ میں ایک سو پچاس (اور ایک روایت کے مطابق ایک سو ستر) گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر روانہ ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک اس قدر زور سے مارا کہ میں نے آپ کی انگلیوں کے نشانات اپنے سینہ پر محسوس کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا دی: یا اللہ اسے جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہ ہدایت دکھانے والا اور ہدایتیافتہ بنا دے۔ یہ اس بت خانے کی طرف گئے، جا کر اسے توڑ ڈالا اور جلا کر خاکستر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک آدمی کو خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا، سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، میں آپ کی طرف اس وقت تک روانہ نہیں ہوا، جب تک کہ میں نے اسے جلنے کے بعد خارش زدہ اونٹ کی طرح بالکل سیاہ شدہ نہیں دیکھ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور پا پیادہ لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2823، 4355، ومسلم: 2476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19402»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۶۳)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»