الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11120
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صِفْهُ لَنَا فَقَالَ كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ضَخْمَ الْهَامَةِ أَغَرَّ أَبْلَجَ هَدِبَ الْأَشْفَارِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
یوسف بن مازن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کریں، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ طویل قامت نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوسط قد سے قدرے دراز تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے توان سے نمایاں لگتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت چمکیلی سفید تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک بڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور خوب روشن تھا، ابرو آپس میں ملے ہوئے نہ تھے، پلکیں گھنی اور طویل تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک بھرے بھرے تھے،جب چلتے تو قوت سے یوں چلتے جیسے بلندی سے پستی کی طرف جا رہے ہوں، آپ کے چہرے پرپسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11120]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، يوسف بن مازن لم يدرك عليا،بينھما رجل لم يسمّ، وخالد بن خالد مجھول لايعرف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1300»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11121
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ هَدِبَ الْأَشْفَارِ مُشْرَبَ الْعَيْنِ بِحُمْرَةٍ كَثَّ اللِّحْيَةِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَعَدٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ
محمد بن علی اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں خوب موٹی، پلکیں طویل اور آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی گھنی تھی، رنگ خوب روشن تھا، آپ چلتے تو ذرا سامنے کو جھک کر چلتے، گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں، کسی طرف متوجہ ہوتے تو پوری طرح ادھر مڑتے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے بھرے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11121]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 660، وابويعلي: 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 684»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11122
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔(دوسری سند) نافع بن جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو بہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پست قد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر بڑا اور داڑھی گھنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں پر گوشت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سرخی مائل سفید تھا، اعضاء کی ہڈیاں مضبوط تھیں، سینہ سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو ذرا جھک کر یوں چلتے گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلندی سے اتر رہے ہیں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11122]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 947»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال کے بارے میں روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت تیز رفتار تھے، بازار میں چلنے والے شخص کی رفتار سے چلتے تھے، درماندہ اور سست نہ تھے، کوئی آپ کا ساتھ نہ پکڑ سکتا تھا، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر تیز رفتار نہیں دیکھا، گویا کہ زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے اور آپ بے پروائی سے چلتے رہتے۔
آپ جب قدم رکھتے تو پورا قدم رکھتے، چلتے توجھٹکے سے اٹھتے اور یوں چلتے گویا ڈھلوان سے اتر رہے ہوں، پھر جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور نرمی سے چلتے۔
آپ جب قدم رکھتے تو پورا قدم رکھتے، چلتے توجھٹکے سے اٹھتے اور یوں چلتے گویا ڈھلوان سے اتر رہے ہوں، پھر جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور نرمی سے چلتے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11123
عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ يُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِيعًا قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ بِأَبِي وَأُمِّي لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ
ابو صالح مولی التوأمہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کر رہے تھے، انھوں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ طویل (یا عریض) تھے، آنکھوں کی پلکیں بھی طویل تھیں، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا نمایاں فاصلہ تھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ چوڑا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرف بھی مڑتے، پوری طرح مڑتے اور متوجہ ہوتے۔روح راوی نے اپنی حدیث میں کہا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، آپ عادۃًیا تکلفاً فحش گو نہ تھے، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازاروں (اور گلیوں) میں بلند آواز سے بولتے تھے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک گوشت سے بھرے ہوئے تھے، میں نے آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11123]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البيهقي في دلائل النبوة: 1/ 244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9786»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11124
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے بالوں والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد درمیانہ تھا، آپ کے کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ کشادہ تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال کانوں کی لووں تک طویل تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ پوشاک زیب تن کی ہوئی تھی، میں نے آپ سے بڑھ کر خوبصورت آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11124]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3551، 5848، ومسلم: 2337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18665»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11125
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْعَتَهُ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَا بِالْأَبْيَضِ وَلَا الْأَمْهَقِ رَجِلَ الشَّعْرِ لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ بُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک اپنے ہی انداز میں بیان کر رہے تھے، میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں میانہ قد والے تھے، نہ بہت پست قد تھے، نہ بہت زیادہ طویل قامت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ چمکیلا تھا، نہ گندم گوںتھا، نہ بالکل سفید، بلکہ گورا چمک دار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ سخت گھنگھریالے، بلکہ ہلکا سا خم لیے ہوئے تھے۔ چالیس برس کی عمر میں نبوت سے سرفراز ہوئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام کیا، ساٹھ برس کی عمر میں وفات پائی،آپ کے سر اور داڑھی میں سفید بال بیس بھی نہ تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11125]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3547، 3548، 5900، ومسلم: 2347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13553»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں تیرہ برس قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی، اس حدیث میں اکائیوں کا ذکر نہیں کیا گیا اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں۔
امام ابن حزم نے کہا: رنگ کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ بالکل سفید تھے نہ گندم گوں، بلکہ رنگ کی سفیدی کے ساتھ سرخی لیے ہوئے تھے، چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن اور چمکدار تھا۔ سر کے بال نہ بالکل سیدھے اور نہ بالکل پیچدار، بلکہ ہلکی سی پیچیدگی کے ساتھ گھونگریالے تھے۔ (جوامع السیرۃ)
امام ابن حزم نے کہا: رنگ کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ بالکل سفید تھے نہ گندم گوں، بلکہ رنگ کی سفیدی کے ساتھ سرخی لیے ہوئے تھے، چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن اور چمکدار تھا۔ سر کے بال نہ بالکل سیدھے اور نہ بالکل پیچدار، بلکہ ہلکی سی پیچیدگی کے ساتھ گھونگریالے تھے۔ (جوامع السیرۃ)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11126
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ عَظِيمُ الْفَمِ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شُفْرِ الْعَيْنِ قُلْتُ مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ
سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ کشادہ تھا، آنکھوں کی سفیدی میں سرخی تھی اور ایڑیوں کا گوشت کم تھا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے دریافت کیا کہ ضَلِیعُ الْفَمِ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: کشادہ منہ والا۔ میں نے پوچھا: أَشْکَلُ الْعَیْنِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: طویل پلکوں والا۔میں نے دریافت کیا کہ مَنْہُوسُ الْعَقِبِ کا کیا معنیٰ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جس کی ایڑیوں کا گوشت کم ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11126]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21297»
وضاحت: فوائد: … سماک نے أَشْکَلُ الْعَیْنِ کے معانی طویل پلکوں والا بیان کیے، اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ معنی بیان کرتے وقت سماک کو وہم ہو گیا ہے، یا پھر غلطی لگ گئی، ان الفاظ کا وہی معنی درست ہے، جو ہم نے بیان کیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخی تھی اور یہ حسن کی علامت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11127
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیاں دوسرے اعضا کے مطابق مناسب حد تک باریک تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلکھلا کر نہیں ہنستے تھے، بلکہ صرف مسکراتے تھے۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتاتویوں محسوس ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمہ نہ ڈالا ہوتا تھا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں قدرتی طور پر سرمگیں تھیں)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11127]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، اخرجه الترمذي: 3645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21224»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11128
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِصْبَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَظَاهِرَةٌ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہی کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی، انگوٹھے سے لمبی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11128]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سلمة بن حفص، قال ابن حبان: شيخ من اھل الكوفة كان يضع الحديث، لايحل الاحتجاج به ولا الرواية عنه الا عند الاعتبار، وذكر له ھذا الحديث، وقال: ھذا خبر منكر لا اصل له، كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم معتدل الخلق۔ ويحيي بن يمان ضعيفيعتبر به، اخرجه البيھقي في الدلائل: 1/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21257»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11129
عَنْ أَشْعَثَ أَنَّهُ قَالَ لِشَيْخٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ
اشعث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے والے بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ سے کہا: تم ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ بیان کرو، اس نے کہا: آپ سرخ رنگ کی دو چادریں زیب تن کیے، میانہ قامت، پرگوشت جسم، خوب رو، بال ازحد سیاہ، رنگ انتہائی گورا، اور سر کے بال لمبے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11129]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23579»
الحكم على الحديث: صحیح