Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْلِهِ ﷺ بَيْنَهُنَّ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَطَوافِهِ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فِي سَاعَةٍ أَوْ ضَحْوَةٍ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور¤دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11472
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ جَلَسَ فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوروں کی ایک پلیٹ یا کھلا برتن دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ مٹھیاں بھر بھر کر کھجوریں اپنی ازواج کے ہاں بھجوانے لگے، اس کے بعد باقی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کھائیں کہ واضح طور پر پتہ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی حاجت تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11472]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابويعلي: 2896، وابن حبان: 695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12292»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11473
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2593، 2688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25371»
وضاحت: فوائد: … جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11474
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11474]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
وضاحت: فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہما۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11475
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت اپنی نو ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11475]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13539»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11476
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11476]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، أخرجه ابوداود: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25274»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی درج بالا تینوں احادیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ ظُهُورٍ عَدْلِهِ وَ كَرَمِ أَخْلَاقِهِ فِي قِصَّةِ الْقَصْعَةِ الَّتِي كَسَرَتْهَا عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11477
أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَ أَظُنُّهَا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ فَكُسِرَتِ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”غَارَتْ أُمُّكُمْ“ قَالَ وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ ثُمَّ قَالَ ”كُلُوا“ فَأَكَلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا کسی دوسری اہلیہ کے ہاں موجود تھے، کسی دوسری ام المؤمنین نے اپنے خادم کے ہاتھ کھانے کا ایک پیالہ بھیج دیا، تو آپ جس کے گھر تھے، اس نے اس خادم کے ہاتھ پر جھپٹا مار کر پیالے کو توڑ ڈالا۔ یہ عالم دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور کھانا اٹھا کر اس ٹوٹے ہوئے پیالے ہی میں ڈالنے لگے اور فرمایا: لو کھا لو۔ دوسرے موجود لوگوں نے کھانا کھا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا لانے والے خادم اور پیالے کو روک لیا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2481، 5225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12050»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11478
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتِ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ لِلَّتِي كَسَرَتْ
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کو روک لیا،یہاں تک کہ دوسری ام المؤمنین نے اپنا پیالہ لا کر دیا تو جس ام المؤمنین کا پیالہ ٹوٹا تھا، اس کی طرف دوسرا صحیح پیالہ اس خادم کے ہاتھ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا ان کے پاس رہنے دیا جنہوں نے توڑا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11478]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13808»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11479
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ ”إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا تیار کرتے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے کھانے کا ایک پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تھے، میں غیرت کی وجہ سے اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر سکی اور میں نے وہ پیالہ توڑ ڈالا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11479]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25670»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کی خواہشات کا خیال رکھتیں اور آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ آپ اگر کسی دوسری اہلیہ کے ہاں ہوتے تو کھانا وغیرہ ادھر ہی بھیج دیتی تھیں تاکہ آپ کھانا تناول کر لیں۔
عام عورتوں کی طرح امہات المؤمنین کو بھی آپس میں ایک دوسری پر غیرت آجاتی تھی،یہ ایسا طبعی معاملہ ہے کہ شاید ہی اس پر کنٹرول کیا جا سکے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا، کہتے ہیں کہ ایک خاتون پورے جہاں کو اپنے اندر سما سکتی ہے، البتہ ایک سوکن کو نہیں سما سکتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي رِفْقِهِ بِهِنَّ وَاهْتِمَامِهِ ﷺ بِأَمْرِ هِنَّ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11480
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَسُوقُ بِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَاشْتَدَّ فِي السِّيَاقَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک صحابی امہات المؤمنین کے اونٹوں کو ہانکا کرتا تھا، اس کو انجشہ کہا جاتا تھا، ایک بار اس نے اونٹوں کو تیز تیز چلانا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: انجشہ! ان آبگینوں کو آرام آرام سے لے کر چلو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11480]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12064»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11481
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَحَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَدْ تَنَحَّى بِهِنَّ قَالَ فَقَالَ لَهُ ”يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ“
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خوان حدی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں والے اونٹوں کو چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے، اس سے اس نے (مزید حدی کے ذریعے) ان کو تیزی کے ساتھ چلانا شروع کر دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11481]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6161، 6209، ومسلم: 2323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12761، 13377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12791»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں