الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي كُتبه إلى مُلوكِ الْكُفَّارِ وَغَيْرِهِمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
حدیث نمبر: 11498
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“ وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخرت میں انسان اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے قبل کسری، قیصر اور تمام سر کشوں کے نام خطوط لکھے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11498]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14604م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14659»
وضاحت: فوائد: … مسلم حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت کا حق ادا کریں اور کفریہ مملکتوں کے وزرا و سلاطین کو اسلام کی طرف دعوت دیں اور انجام کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش سے حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کر کے اور ان کی طرف سے مطمئن ہو کر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو بادشاہوں اور امرا کے نام خطوط لکھ کر انہیں دعوتِ اسلام دی اور ان کو ان کی دوہری ذمہ دارییاد دلائی۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش سے حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کر کے اور ان کی طرف سے مطمئن ہو کر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو بادشاہوں اور امرا کے نام خطوط لکھ کر انہیں دعوتِ اسلام دی اور ان کو ان کی دوہری ذمہ دارییاد دلائی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11499
ثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَجَدْتُ مَرْثَدَ بْنَ ظَبْيَانَ قَالَ جَاءَنَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدْنَا لَهُ كَاتِبًا يَقْرَؤُهُ عَلَيْنَا حَتَّى قَرَأَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ ”مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا“
قتادہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مرثد بن ظبیان کو پایا، انھوں نے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکتوب آیا اورہمیں کوئی ایسا آدمی نہ مل سکا جو ہمیں وہ پڑھ کر سناتا، بالآخر بنو ضبیعہ کے ایک آدمی نے وہ مکتوب پڑھا، اس میں یہ تحریر تھی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ابو بکر بن وائل کے نام، تم مسلمان ہو جاؤ، سلامت رہو گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11499]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20943»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11500
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُطَرِّفٍ فِي سُوقِ الْإِبِلِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَوْ جِرَابٍ فَقَالَ مَنْ يَقْرَأُ أَوَ فِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخَذْتُهُ فَإِذَا فِيهِ ”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ حَيٍّ مِنْ عُكْلٍ إِنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ“ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُحَدِّثُنَاهُ قَالَ نَعَمْ قَالُوا فَحَدِّثْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنْ وَحَرِ صَدْرِهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ“ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُهُمْ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَرَاكُمْ تَتَّهِمُونِي أَنْ أَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً تَخَافُونَ وَاللَّهِ لَا حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا سَائِرَ الْيَوْمِ ثُمَّ انْطَلَقَ
ابو علاء بن شخیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مطرف کے ہمراہ اونٹوں کی منڈی میں تھا کہ ایک بدّو مطرف کے پاس آیا، اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: کیا تم میں سے کوئییہ پڑھ سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے مجھے پکڑایا تو دیکھا کہ اس میںلکھا ہوا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عکل خاندان کی ایک شاخ بنو زہیر کے نام ہے، یہ لوگ اگر اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ مشرکین سے الگ تھلگ ہو جائیںاور اموال غنیمتمیں سے خمس کے متعلق اقرار کریں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور اللہ کے رسول مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے بھی مال غنیمت میں سے جو لینا چاہیں لے سکتے ہیں، تو انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے امان دی جائے گی۔ یہ سن کر کچھ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، کیا تم اس میں سے کچھ ہمیں بیان کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔لوگوں نے کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ ہمیں وہ سنائیں۔ انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے سینے میں سے غصہ اور کینہ نکل جائے اسے چاہیے کہ وہ صبر والے مہینےیعنی ماہ رمضان کے اور ہر ماہ تین روزے رکھے۔ اس کییہ بات سن کر کچھ لوگوں نے کہا: کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا: خبر دار! میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگ اس بارے میں میرے متعلق یہ بد گمانی کر رہے ہو کہ شاید میں نے یہ بات کہہ کر اللہ کے رسول پر بہتان باندھ دیا ہے، تم تو یہ سن کر ڈر گئے ہو، اللہ کی قسم! میں تمہیں مزید کوئی حدیث بیان نہ کروں گا، اس کے بعد وہ آگے چل دیئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11500]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 2999، والنسائي: 7/ 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21017»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11501
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ كُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا فَأَتَى عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ الْمُتَقَدِّمِ
۔(دوسری سند) سیدنایزید بن عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم جانوروں کے باڑے میں بیٹھے تھے کہ ایک دیہاتی ہمارے پاس آیا، اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11501]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21020»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11502
قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى قَالَ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى قَالَ يَعْقُوبُ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ
سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو اپنا مکتوب دے کر کسریٰ کی طرف روانہ فرمایا، انہوں نے وہ مکتوب بحرین کے حاکم کے سپرد کیا تاکہ وہ اسے کسریٰ تک پہنچا دے،پس حاکم بحرین نے وہ مکتوب کسریٰ تک پہنچا دیا، اس نے جب وہ مکتوب پڑھا تو اسے پھاڑ ڈالا۔ سعید بن مسیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کے اس عمل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر یہ بد دعا کی کہ (ان کو یوں ہلاک کیا جائے کہ) وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11502]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2939، 4424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2184»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت میں اس حدیث کا مفصل ذکر موجود ہے:
محمد بن عمر اسلمی اپنی سندوں کے ساتھ چند ایک صحابہ، جن میں سے بعض کی احادیث کے الفاظ دوسروں کی احادیث میں خلط ملط ہو گئے، سے بیان کرتے ہیں، انھوںنے کہا:بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّھْمِیَّ، وَھُوَ أَحَدُ السِّتَّۃِ، إِلٰی کِسْرٰییَدْعُوْہُ إِلَی الْإِسْلَامِ وَکَتَبَ مَعَہٗکِتَابًا: قَالَعَبْدُاللّٰہِفَدَفَعْتُإِلَیْہِ کِتَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُرِئَ عَلَیْہِ، ثُمَّ أَخَذَہٗفَمَزَّقَہٗ،فَلَمَّابَلَغَذٰلِکَرَسُوْلَاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ مَزِّقْ مُلْکَہٗ۔)) وَکَتَبَ کِسْرٰی إِلٰی بَاذَانَ عَامِلِہٖعَلَی الْیَمَنِ أَنِ ابْعَثْ مِنْ عِنْدِکَ رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ إِلٰی ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ بِالْحِجَازِ، فَلْیَأْتِیَانِیْ بِخَبَرِہٖ،فَبَعَثَبَاذَانُقَھْرَمَانَہُوَرَجُلًاآخَرَوَکَتَبَمَعَھُمَاکِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِیْنَۃَ، فَدَفَعَا کِتَابَ بَاذَانَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَتَبَسَّمَ
رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَدَعَاھُمَا إِلَی الْإِسْلَامِ وَفَرَائِصُھُمَا تَرْعَدُ وَقَالَ: ((اِرْجِعَا عَنِّیْیَوْمَکُمَا ھٰذَا حَتّٰی تَأْتِیَانِیَ الْغَدَ فَأُخْبِرُکُمَا بِمَا أُرِیْدُ۔)) فَجَائَ اہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ لَھُمَا: ((أَبْلِغَا صَاحِبَکُمَا أَنَّ رَبِّیْ قَدْ قَتَلَ رَبَّہٗکِسْرٰی فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ، جو چھ میں ایک تھے، کو کسری کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا اور ایک خط بھی لکھا۔ عبد اللہ بن حذا فہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط کسری تک پہنچایا، وہ اس پر پڑھا گیا، اس نے خط پکڑا اور پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی بادشاہت کے پرخچے اڑا دے۔ پھر کسری نے یمن کے گورنر باذان کی طرف خط لکھا کہ کوئی دو باہمت آدمی اس حجاز والے شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج تاکہ وہ ہمیں اس کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ باذان نے اپنے میرمنشی اور ایک دوسرے آدمی کو اپنا خط دے کر بھیجا۔ یہ دونوں مدینہ پہنچے اور باذا ن کا خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور انھیں دعوتِ اسلام دی، اس وقت ان کے مونڈھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ تم دونوں آج چلے جاؤ، کل مجھے ملنا، میں تمھیں اپنے ارادے پر مطلع کروں گا۔ جب وہ دوسرے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں فرمایا: میری بات اپنے لیڈر (باذان) تک پہنچا دو کہ اِس رات میرے ربّ نے اس کے ربّ کسری کو ہلاک کر دیا ہے۔
(ابن سعد: ۱/۲۵۸۔ ۲۶۰، صحیحہ: ۱۴۲۹)
خسرو پرویز کی بادشاہت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا کا مصداق بنی، رومیوں نے کسری کے لشکر کو بدترین شکست دی، پھر خسرو کے بیٹے شیرویہ نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اسے قتل کر کے بادشاہت پر قبضہ کر لیا، پھر وہاں افتراق و انتشار کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا، تا آنکہ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلامی لشکر نے اس ملک پر قبضہ کر لیا اور یہ بادشاہت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
محمد بن عمر اسلمی اپنی سندوں کے ساتھ چند ایک صحابہ، جن میں سے بعض کی احادیث کے الفاظ دوسروں کی احادیث میں خلط ملط ہو گئے، سے بیان کرتے ہیں، انھوںنے کہا:بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّھْمِیَّ، وَھُوَ أَحَدُ السِّتَّۃِ، إِلٰی کِسْرٰییَدْعُوْہُ إِلَی الْإِسْلَامِ وَکَتَبَ مَعَہٗکِتَابًا: قَالَعَبْدُاللّٰہِفَدَفَعْتُإِلَیْہِ کِتَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُرِئَ عَلَیْہِ، ثُمَّ أَخَذَہٗفَمَزَّقَہٗ،فَلَمَّابَلَغَذٰلِکَرَسُوْلَاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ مَزِّقْ مُلْکَہٗ۔)) وَکَتَبَ کِسْرٰی إِلٰی بَاذَانَ عَامِلِہٖعَلَی الْیَمَنِ أَنِ ابْعَثْ مِنْ عِنْدِکَ رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ إِلٰی ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ بِالْحِجَازِ، فَلْیَأْتِیَانِیْ بِخَبَرِہٖ،فَبَعَثَبَاذَانُقَھْرَمَانَہُوَرَجُلًاآخَرَوَکَتَبَمَعَھُمَاکِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِیْنَۃَ، فَدَفَعَا کِتَابَ بَاذَانَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَتَبَسَّمَ
رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَدَعَاھُمَا إِلَی الْإِسْلَامِ وَفَرَائِصُھُمَا تَرْعَدُ وَقَالَ: ((اِرْجِعَا عَنِّیْیَوْمَکُمَا ھٰذَا حَتّٰی تَأْتِیَانِیَ الْغَدَ فَأُخْبِرُکُمَا بِمَا أُرِیْدُ۔)) فَجَائَ اہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ لَھُمَا: ((أَبْلِغَا صَاحِبَکُمَا أَنَّ رَبِّیْ قَدْ قَتَلَ رَبَّہٗکِسْرٰی فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ، جو چھ میں ایک تھے، کو کسری کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا اور ایک خط بھی لکھا۔ عبد اللہ بن حذا فہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط کسری تک پہنچایا، وہ اس پر پڑھا گیا، اس نے خط پکڑا اور پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی بادشاہت کے پرخچے اڑا دے۔ پھر کسری نے یمن کے گورنر باذان کی طرف خط لکھا کہ کوئی دو باہمت آدمی اس حجاز والے شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج تاکہ وہ ہمیں اس کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ باذان نے اپنے میرمنشی اور ایک دوسرے آدمی کو اپنا خط دے کر بھیجا۔ یہ دونوں مدینہ پہنچے اور باذا ن کا خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور انھیں دعوتِ اسلام دی، اس وقت ان کے مونڈھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ تم دونوں آج چلے جاؤ، کل مجھے ملنا، میں تمھیں اپنے ارادے پر مطلع کروں گا۔ جب وہ دوسرے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں فرمایا: میری بات اپنے لیڈر (باذان) تک پہنچا دو کہ اِس رات میرے ربّ نے اس کے ربّ کسری کو ہلاک کر دیا ہے۔
(ابن سعد: ۱/۲۵۸۔ ۲۶۰، صحیحہ: ۱۴۲۹)
خسرو پرویز کی بادشاہت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا کا مصداق بنی، رومیوں نے کسری کے لشکر کو بدترین شکست دی، پھر خسرو کے بیٹے شیرویہ نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اسے قتل کر کے بادشاہت پر قبضہ کر لیا، پھر وہاں افتراق و انتشار کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا، تا آنکہ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلامی لشکر نے اس ملک پر قبضہ کر لیا اور یہ بادشاہت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11503
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ اس کا جانشین نہیں ہوگا اور جب قیصر (رومی بادشاہ) ہلاک ہو گاتو اس کے بعد بھی کوئی قیصر نہیں ہوگا یعنی ان کی بادشاہت ختم ہو جائے گی، اللہ کی قسم! تم ضرور ضرور ان کے خزانوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11503]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3618،ومسلم: 2918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7184»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11504
عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ“
عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہیہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11504]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3062، 3063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785»
وضاحت: فوائد: … یہ زمین بھی کسی کی مملوکہ نہ تھی، حاکم وقت ایسی قیمتی چیز بھی کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، لیکنیہاں ایک اور روایت بھی قابل توجہ ہے:
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نمک کی کان عنایت کر دی،یہ معاملہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ نے تو اس شخص کو دائمی منفعت عطا کر دی ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہ کان واپس لے لی۔ (ابوداود: ۳۰۶۴، ترمذی: ۱۳۸۰)
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
(۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔
(۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔
حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نمک کی کان عنایت کر دی،یہ معاملہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ نے تو اس شخص کو دائمی منفعت عطا کر دی ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہ کان واپس لے لی۔ (ابوداود: ۳۰۶۴، ترمذی: ۱۳۸۰)
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
(۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔
(۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔
حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11505
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُ كِتَابًا بِالْوَصَاةِ لَهُ إِلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنْ وُلَاةِ الْأَمْرِ وَخَتَمَ عَلَيْهِ
حارث بن مسلم بن حارث تمیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دی، جس میں اپنے بعد آنے والے خلفاء کے نام ان کے حق میں وصیت کرکے اس پر مہرثبت فرمائی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11505]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھاله التابعي، اخرجه ابوداود: 5080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18219»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11506
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي بِأَرْضِ كَذَا وَكَذَا بِأَرْضِ الشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا“ فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَظْهَرُنَّ عَلَيْهَا قَالَ فَكَتَبَ لَهُ بِهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ كَلْبِيَ الْمُكَلَّبَ وَكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ قَالَ ”إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ وَإِنْ قَتَلَ وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ وَكُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ وَإِنْ قَتَلَ وَسَمِّ اللَّهَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ قَالَ ”إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيْنَا قَالَ ”لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ“
حارث بن مسلم بن حارث تمیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دی، جس میں اپنے بعد آنے والے خلفاء کے نام ان کے حق میں وصیت کرکے اس پر مہرثبت فرمائی تھی۔
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سرزمین شام کی فلاں فلاں زمین کے متعلق میرے حق میں تحریر لکھ دیں، حالانکہ ابھی تک وہ سر زمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے میں نہیں آئی تھی۔ تو اس کی بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: کیا تم سن رہے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ ضرور بالضرور اس سر زمین کے مالک بنیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس زمین کے بارے میں تحریر لکھ دی، سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہمارا علاقہ شکار کا علاقہ ہے، میں اپنے سدھا ئے ہوئے اور غیر سدھائے کتے کو شکار کی طرف بھیجتا ہوں، اس بارے میں ہدایت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکارکی طرف بھیجو اور بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے لو تو تمہارا سدھایا ہوا کتا تمہارے لیے جو جانور پکڑ کر لائے گا،تم اسے کھا سکتے ہو، خواہ وہ مر چکا ہو اور اگر تم اپنا غیر سدھایا کتا شکار کی طرف بھیجو اور وہ جس جانور کو پکڑ کر لائے اسے تم خود ذبح کر لو تو کھا سکتے ہو اور جس شکار کو تمہارا تیر جا لگا خواہ وہ چیز
مر جائے تو اللہ کا نام لے کر کھا لو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ اہل کتاب کا ہے، وہ لوگ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ ہم ان کے برتنوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے سوا کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو اسے اچھی طرح مانجھ کر ان میں پکا سکتے ہو اور پی بھی سکتے ہو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کونسے جانور حلال ہیں اور کونسے حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم گھریلو گدھے اور کجلی والے درندے نہیں کھا سکتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11506]
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سرزمین شام کی فلاں فلاں زمین کے متعلق میرے حق میں تحریر لکھ دیں، حالانکہ ابھی تک وہ سر زمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے میں نہیں آئی تھی۔ تو اس کی بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: کیا تم سن رہے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ ضرور بالضرور اس سر زمین کے مالک بنیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس زمین کے بارے میں تحریر لکھ دی، سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہمارا علاقہ شکار کا علاقہ ہے، میں اپنے سدھا ئے ہوئے اور غیر سدھائے کتے کو شکار کی طرف بھیجتا ہوں، اس بارے میں ہدایت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکارکی طرف بھیجو اور بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے لو تو تمہارا سدھایا ہوا کتا تمہارے لیے جو جانور پکڑ کر لائے گا،تم اسے کھا سکتے ہو، خواہ وہ مر چکا ہو اور اگر تم اپنا غیر سدھایا کتا شکار کی طرف بھیجو اور وہ جس جانور کو پکڑ کر لائے اسے تم خود ذبح کر لو تو کھا سکتے ہو اور جس شکار کو تمہارا تیر جا لگا خواہ وہ چیز
مر جائے تو اللہ کا نام لے کر کھا لو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ اہل کتاب کا ہے، وہ لوگ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ ہم ان کے برتنوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے سوا کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو اسے اچھی طرح مانجھ کر ان میں پکا سکتے ہو اور پی بھی سکتے ہو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کونسے جانور حلال ہیں اور کونسے حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم گھریلو گدھے اور کجلی والے درندے نہیں کھا سکتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11506]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قصة الارض، وھذا اسناد منقطع، ابو قلابة الجرمي لم يسمع من ابي ثعلبة، أخرجه الترمذي: 1797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17889»
وضاحت: فوائد: … شکار وغیرہ کے احکام کتاب الصید والذبائح میں گزر چکے ہے، یہاں اس روایت سے مقصود زمین کے بارے میں تحریر کرناہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11507
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے ما بین ایک تحریر لکھی کہ وہ ایک دوسرے کی دیتیعنی خون بہا ادا کریں گے اور ان کے قیدی کو چھڑانے کے لیے معروف فدیہ ادا کریں گے اور مسلمانوں کے ما بین اصلاح کے لیے کوشاں رہیں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11507]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس الحجاج، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2443»
الحكم على الحديث: ضعیف