Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ ذِكْرِ مَنَاقِبِهِمْ عَلَى الإِجْمَالِ
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11522
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ ”اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11522]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»
وضاحت: فوائد: … اس میں صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کے فضائل و مناقب کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ان پاکیزہ ہستیوں کا خیال رکھا جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ان مقدس زمانوں کے لوگوں سے بتقاضۂ بشریت ہونے والی لغزشوں کو نظر انداز کر دیں اور ان پر کسی قسم کی نقطہ چینی نہ کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11523
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11523]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13848»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام جس زمان و مکاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا، اپنا گھر بار چھوڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھ کے اشارے پر جان و مال تک قربان کر دیا، بعد والے کسی دور کی قربانیوں کا ایسی نیکیوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11524
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جب یہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11524]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے زمانے میں ہی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، لیکن ان پاکیزہ ہستیوں کا دور گزر جانے کے بعد جن بدعات، خرافات، آزمائشوں اور فتنوں کا سلسلہ شروع ہوا، اس کی دورِ صحابہ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11525
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ أَذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ“
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11525]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن زياد او عبد الرحمن بن عبد الله، اخرجه الترمذي: 3862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20854»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11526
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُهُمْ أُحُدًا ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ“
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیں یا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11526]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24336»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11527
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3673،ومسلم: 2540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11095»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11528
عَنْ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ“
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کا قتل ہو جانا ہی کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11528]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 92، والبزار: 3263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15971»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی صحابی سے خطا ہو جائے اور وہ فتنوں کے دور کے قتال میں شریک ہو جائے اور پھر وہ اس لڑائی میں قتل ہو تو اس کا قتل اس کے لیے کفارہ ہو گا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بہت کچھ ہو گا۔ ہم نے کہا:اگر ہم نے یہ زمانہ پایا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے لیے قتل کا فتنہ ہی کافی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ان فتنوں میں لوگ جلدی جلدی فنا ہوں گے۔ (طبرانی، بزار) (صحیحہ: ۱۳۴۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11529
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء (اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1 [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11529]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 130، والطبراني في الكبير: 8582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3600»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11530
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ ”أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَمَنْ وَلِيَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ“ وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11530]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الاوسط: 8892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22989»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انصار کے ساتھ کمال محبت کا اظہار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کی گھاٹی میں چلنا پسند کریں گے۔! یہ حدیث موقوف یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اس لیے اس سے کسی شرعی مسئلہ کا استدلال نہیں ہو سکتا۔ (عبداللہ رفیق)
انصار وہ لوگ ہیں، جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے، انھوں نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شہر میں پناہ دی، پھر ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی بھی خوب دل پذیرائی اور تواضع کی اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی سرزمین میں دین ِ الہی کی تبلیغ شروع کی، توحید و سنت کی دعوت جاری رکھی، لیکن لوگ نہ صرف شرک و بدعت پر ڈٹے رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلعہ قمع کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیا۔ ایک انصاری صحابی سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (خلاصہ یہ ہے): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تقریبا دس سال مقیم رہے، لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں، ڈیروں اور عکاظ و مجنہ کی مارکیٹوں میں جا کر نوائے حق بلند کرتے رہے، حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منٰی کے مقام پر لوگوں سے کہتے: ((مَنْ یُّؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃ۔)) … کوئی ہے جو مجھے پناہ مہیا کرے؟ کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں، (جو ایسا کرے گا) اسے جنت ملے گی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، حتی کہ ہم انصاری لوگ یثرب (یعنی مدینہ) سے اٹھ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھکانا مہیا کیا اور آپ کی سچائی کا اعلان کیا۔ ہم اکا دکا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے، قرآن سنتے اور گھر واپس پلٹ کر یہ پیغام اپنے گھر والوں تک پہنچاتے۔ بالآخر ہم نے مشورہ کیا کہ کب تک یہی سلسلہ جاری رہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑوں میں مارے مارے ٹھوکریں کھاتے رہیں اور شرک پرستوں سے ڈرتے رہیں، چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق حج کے موقع پر ہم ستر انصاری حج کے موسم میں عقبہ (گھاٹی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ کی بیعت کی اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ (مسند احمد)
یہ انصار ہی وہ صحابہ تھے جو اسلام، بانی ٔ اسلام اور اہل اسلام کا سہارا بنے اور سارے عرب سے اعلانِ جنگ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاں نثاروں سمیت ہجرت کی گھاٹیاں طے کر کے مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے تو انصار صحابہ نے تائید و نصرت، محبت و الفت، اخوت و بھائی چارہ اور برادری و بھائی بندی کی جو مثال پیش کی، ماضی میں اس کی نظیر ملی نہ مستقبل میں امید ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مہاجر بھائی سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میرا آدھا مال لے لو اور میری دو بیویاں ہیں، ان کو دیکھ لو، جو تمہیںپسند ہو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا۔ (بخاری) پھر دس سال کی طویل مدت تک یہ انصار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں ان لوگوں کی محبت تھی۔
انصار نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی، اپنے شہر کو مرکزِ اسلام قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ قریشیوںنے مجھے تبلیغِ اسلام سے روک رکھا ہے، کون ہے جو مجھے پناہ دے، تاکہ میں ربّ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں؟ انصاریوں نے مال و جان داؤ پر لگا کر اور دوستوں کی دشمنیاں مول لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا۔ مہاجرین، جو اسلام کا سرمایہ تھے، کو اپنے گھروں اور جائدادوں میں حصہ دار قرار دیا۔ ان نفوس قدسیہ کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے نفرت کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔ جو بد بخت اسلام کے ان سپوتو ں اور ستونوں کا پاس لحاظ نہیں کرتا، اسے ایمان و ایقان کی نعمت کیسے نصیب ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوں نے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11531]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13562»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں