Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبي بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11616
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أُبَيُّ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ ذُكِرْتُ هُنَاكَ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَفَرِحْتَ بِذَلِكَ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ هَذِهِ الْقِرَاءَةُ فِي الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11616]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه ابوداود: 3980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21455»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11617
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا قَالَ ”كَفَّارَاتٌ“ قَالَ أَبِي وَإِنْ قَلَّتْ قَالَ ”وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا“ قَالَ فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11617]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 995، والحاكم: 4/ 308،والنسائي في الكبري: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11201»
وضاحت: فوائد: … دنیوی تکالیف گناہوںکا کفارہ بنتی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11618
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ”إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا}“ قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ ”نَعَمْ“ فَبَكَى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیاہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11618]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3809، 4959،ومسلم: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12345»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11619
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أُبَيًّا قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي تَلَقَّيْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاهُ وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ يَتَلَقَّاهُ مِنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ رَطْبٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! میں نے قرآن کریم براہ راست اس ہستی سے سنا اور سیکھا ہے جنہوں نے جبریل علیہ السلام سے حاصل کیا، جبکہ وہ تروتازہ تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11619]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 2/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21429»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11620
عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ ”أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي“ فَقَالَ أُبَيٌّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11620]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير الجارود بن ابي سبرة، وھو صدوق لكنه لم يسمع من ابي، اخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام: 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21605»
وضاحت: فوائد: … بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھول جانا، یہ بشری تقاضا ہے، اس سے منصب ِ نبوت متاثر نہیں ہوتا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز میں بھی بھول جانے کی چند صورتیں موجود ہیں،یہ حقیقت الگ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بھول پر برقرار نہیں رکھا جاتا، بلکہ فوراً اس کا ازالہ کر دیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11621
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ ”أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ“ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ ”لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11621]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21602»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کتنی توجہ سے قرآن مجید کی تلاوت کی ہو گی اور اس کے مضمون پر کتنا غور کیا ہو گا کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک آیت کے بارے میں درست جواب دیا۔
تمام روایات سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور منقبت کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11622
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَيَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا بَعْدَهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اسامہ رضی اللہ عنہ کے سربراہ بننے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو امیر بنائے جانے پر طعن کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اسامہ کو سربراہِ لشکر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو اور ان کو امیر بنائے جانے پر طنز کرتے ہو، یہی کام تم نے اس سے قبل اس کے والد کے بارے میں بھی کیا تھا، حالانکہ وہ امیر بنائے جانے کا بجا طور پر حق دار تھا۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی تھا، اس کے بعد اس کا یہ بیٹامجھے سب سے زیادہ پیارے لوگوں میں سے ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11622]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3730،4250، ومسلم: 2426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5630»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۷۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری ایام میں ایک لشکر ترتیب دے کر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا، چونکہ یہ غلام خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور رنگت بھی سیاہ تھی، اس لیے کچھ لوگوں نے ان کو امیر بنائے جانے پر باتیں بنائیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا کہ تم لوگوں کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر اعتراض ہے اور اس سے پہلے اس کے والد پر بھی اعتراض کرتے تھے، یاد رکھو کہ امارت کا حق دار یہی ہے اور مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11623
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب اسامہ (بن زید) ہے، فاطمہ وغیرہ کے علاوہ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11623]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البخاري: 4468، وليس فيه ما حاشا فاطمة ولا غيرھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5707»
وضاحت: فوائد: … دراصل اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شدید محبت کا اظہار ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11624
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ مَعِيَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْمَتَ فَلَا يَتَكَلَّمُ فَجَعَلَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ يَصُبُّهَا عَلَيَّ أَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو میں اور میرے رفقاء ہم سب مدینہ کے ایک نواح میں ٹھہر گئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل خاموش تھے اور شدت مرض کی وجہ سے بول نہ سکتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر میری طرف جھکا کر اشارہ کرتے۔ میں جان گیا کہ آپ میرے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11624]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22098»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11625
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ يُحَدِّثُهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَضُمُّنَا ثُمَّ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا“ قَالَ أَبِي قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ هُوَ السَّلِّيُّ مِنْ عَنَزَةَ إِلَى رَبِيعَةَ يَعْنِي أَبَا تَمِيمَةَ السَّلِّيَّ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور دوسری ران پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے سینے سے چمٹا کر فرماتے: یا اللہ! میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما دے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11625]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22130»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں