الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ وَحَاضِيَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11991
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تھا تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، ان سے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال پر کیوں روتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ بات جانتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عنقریب وفات پا جائیں گے، میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11991]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13247»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11992
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ، قَالَ عَفَّانُ: يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلَاتِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَجَعَلَتْ تَقُولُ: كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، أَوْ كَمَا قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَكِ كَذَا وَكَذَا.“ وَتَقُولُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قَالَ: وَيَقُولُ: ”لَكِ كَذَا وَكَذَا.“ قَالَ: حَتَّى أَعْطَاهَا فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، أَوْ قَالَ قَرِيبًا مِنْ عَشَرَةِ أَمْثَالِهَا أَوْ كَمَا قَالَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھجوروں کے چند درخت یا حسب تو فیق کوئی چیز مقرر کر دیتا۔ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی تو آپ اس کے بعد لوگوں کی طرف سے دیئے ہوئے اموال ان کو واپس کرنے لگے، میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے اس چیز کا یا اس میں سے کچھ کا مطالبہ کروں، جو وہ آپ کو دے چکے تھے۔ میرے گھر والوں کے دیئے ہوئے کھجوروں کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اور کچھ دوسرے افراد کو دے چکے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جا کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درختوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ نے مجھے وہ واپس کر دیئے۔ لیکن سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے آکر میری گردن میں کپڑا ڈال دیااور کہنے لگیں: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول یہ درخت مجھے دے چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب یہ درخت تمہیں نہیں دیں گے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کے عوض اتنے درخت دے دیتا ہوں۔ لیکن وہ کہتی جاتیں کہ ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہتے جاتے کہ آپ کوکھجور کے اتنے درخت دے دیتا ہوں، یہاں تک کہ آپ نے حسب وعدہ ان کو عنایت کر دیئے۔ سلیمان کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے ان کو دس گنا یا دس گنا کے قریب کھجوروں کے درخت عنایت فرمائے تھے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11992]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3128، 4030، 4120،ومسلم: 1771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13324»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی اور آپ کی مربیہ ہیں، ان کا نام برکہ ہے، نام اور کنیت دونوں سے ان کی شہرت ہے، عام لوگوں میں ان کی کنیت ہی مشہور ہے، اصل میں حبشہ کی رہنے والی تھیں۔ بعض مورخین نے کہا ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے والے ہاتھیوں کے لشکر والے ابرہہ کے لشکر کے اسیروں میں سے تھیں،یہ عبدالمطلب کے حصہ میں آئیں، ان کے بعد وہ ان کے بیٹے عبداللہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد)کے حصہ میں آئیں اور ان کے بعد بطور وراثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح کے موقع پر ان کو آزاد کرکے بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص عبید بن زید سے ان کا نکاح کر دیا، وہ مکہ آئے تھے، ان کے ہاں ان کے بطن سے ان کے فرزند ایمن کی ولادت ہوئی۔ اسی کی نسبت سے ان کی کنیت ہے،شوہر کی وفات کے بعد یہ واپس مکہ آگئیں اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کے بطن سے اسامہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ صحیح مسلم میں امام زہری سے مروی ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عبدالمطلب کی لونڈی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور تربیت کیا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کرکے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد ان کا انتقال ہوا۔
ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ام ایمن نام کی ایک اور خاتون بھی ہیں، وہ بھی حبشہ سے تھیں اور ان کا نام بھی برکہ تھا، وہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ام ایمن نام کی ایک اور خاتون بھی ہیں، وہ بھی حبشہ سے تھیں اور ان کا نام بھی برکہ تھا، وہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ حَرَامٍ خَالَةٍ أَنَسِ بْنِ مالك رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11993
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: ”عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ.“ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: ”عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: ”أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ.“ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، شہباء خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11993]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2799، 2800، ومسلم: 1912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27572»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11994
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ”مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ.“ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11994]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، کی بہن ہیں۔ یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، (۲۷یا۲۸) سن ہجری میں بحری غزوہ سے واپسی پر ان کی وفات ہوئی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11995
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: ”مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ؟“ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: ”ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ.“ فَأُتِيَ بِهَا فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ: ”أَبْلِي وَأَخْلِقِي.“ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ: ”سَنَا سَنَا يَا أُمَّ خَالِدٍ.“ وَسَنَا فِي كَلَامِ الْحَبَشِ الْحَسَنُ.
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی ایک اونی چادر بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم اس چادر کا سب سے زیادہ کس کو مستحق سمجھتے ہو؟ صحابۂ کرام خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔ پس اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے وہ کپڑا اسے پہنا دیا اور دو دفعہ فرمایا: تم اس کو بوسیدہ کرو، تم اس کو بوسیدہ کرو (یعنی تم زندہ رہو اور دیر تک اسے استعمال کرو)۔ اور آپ اس چادر کے اوپر موجود سرخ یا زرد علامات کو اچھی طرح دیکھتے اور فرماتے: ام خالد! بہت اچھے، بہت اچھے۔ حدیث میں وارد لفظ سناہ حبشی زبان کا ہے، اس کے عربی میں معانی عمدہ، اچھا اور بہترین کا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2874، 5823، 5845، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27597»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا اموی خاندان کی خاتون ہیں، ان کی شہرت کنیت سے ہے۔ ان کا اصل نام امۃ ہے، ان کو اور ان کے والدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کی اہلیہ ہمینہ بنت خلف بھی ان کے ساتھ تھیں، وہیں ان کی بیٹی امہ کی ولادت ہوئی، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا تھا،انہوںنے کا فی طویل عمر پائی، بلکہ امام بخاری کہتے ہیں کہ خواتین میں سے کسی نے ان جتنی عمر نہیں پائی۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمْ شَرِيكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11996
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ أَنَّهَا كَانَتْ مِمَّنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:27621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28173»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا اپنی کنیت کے ساتھ مشہور ہیں، ان کا نام عزیلہیا غُزیّہیا غَزِیّہ تھا، یہ ابو العسکر بن سمی بن حارث ازدی دوسی کے نکاح میں تھیں،ان کے ہاں شریک کو جنم دیا۔ خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے لیے ہبہ کر دینا اور اس شخص کا اس عورت سے خود شادی کر لینا اور کسی سے کروا دینا،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اور یہ کسی خلیفہ اور امتی کا حق نہیںہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ فَرْوَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11997
عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ فَقَالَ: ”الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا.“
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت پر ادا کرنا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11997]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابوداود: 426،والترمذي: 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27645»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی باپ کی طرف سے بہن ہیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس سے ان کا نکاح کیا تھا اور ان سے ان کی اولاد ہوئی تھی، ایک بیٹے کا نام محمد تھا۔
یاد رہے کہ ام فروہ رضی اللہ عنہا یہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں اور سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی پدری ہمشیرہ ہیں۔ ان کے شوہر کا نام ابو بکر الاشعث بن قیس ہے۔ ان کے بطن سے محمد بن الاشعث وغیرہ نے جنم لیا۔
یاد رہے کہ ام فروہ رضی اللہ عنہا یہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں اور سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی پدری ہمشیرہ ہیں۔ ان کے شوہر کا نام ابو بکر الاشعث بن قیس ہے۔ ان کے بطن سے محمد بن الاشعث وغیرہ نے جنم لیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمُّ الْفَضْلِ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الهلالية رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11998
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي مَنَامِي فِي بَيْتِي أَوْ حُجْرَتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ زِيَادَةُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ) قَالَ: ”تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا فَتَكْفُلِينَهُ.“ فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَزُورُهُ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ إِزَارَهُ، فَزَخَخْتُ بِيَدِي عَلَى كَتِفَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَضَرَبْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ) فَقَالَ: ”أَوْجَعْتِ ابْنِي أَصْلَحَكِ اللَّهُ.“ أَوْ قَالَ: ”رَحِمَكِ اللَّهُ.“ فَقُلْتُ: أَعْطِنِي إِزَارَكَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ: ”إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ.“
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے واقعی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11998]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 375، وابن ماجه: 522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27416»
وضاحت: فوائد: … قثم: یہ امر الفضل کا بیٹا ہے اس کے دودھ سے دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حسن (ایک روایت کے مطابق حسین) کو دودھ پلا رہی تھیں تو اس وقت قثم چھوٹے بچے تھے اور اپنی ماں کا دودھ پیتے تھے گویا قثم کے حصہ کا دودھ حسن نے پیا تھا۔
طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔
ان کے نام درج ذیل ہیں:
فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔
ان کے نام درج ذیل ہیں:
فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11999
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أُعْلِمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ.
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن یہ شک ہونے لگا کہ آیا آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے سے ہیں یا نہیں، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں اس کا پتہ کرا کے دیتی ہوں،پھر انہوں نے دودھ کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پی لیا (اور اس طرح پتہ چل گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ نہیں ہے)۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11999]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1658، 1988، ومسلم: 1123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27409»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12000
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ.
۔ (دوسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہونے لگا، تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا اورآپ نے وہ نوش فرما لیا، اس وقت آپ عرفہ میں اونٹ پر سوار ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12000]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہ انتہائی زیرک خاتون تھیں اور انھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں صحابۂ کرام کے اس شک کو دور کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح