الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. البَابُ الْأَوَّلُ فِيْمَا جَاءَ فِي مَنَاقِبِهِ
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
حدیث نمبر: 12460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ يَقُولُ النَّاسُ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ زَاهِدٌ إِنَّمَا الزَّاهِدُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الَّذِي أَتَتْهُ الدُّنْيَا فَتَرَكَهَا
مالک بن دینار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار زاہد اور نیک ہیں، جبکہ زاہد تو عمر بن عبد العزیز ہیں، جن کے پاس دنیا تو آئی مگر انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12460]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه حماد بن واقد العيشي متفق علي ضعفه، وأما ابنه فطر بن حماد، فمختلف فيه، اخرجه البيھقي في الزھد: 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22495»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12461
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْدَوَيْهِ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ قَالَ فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا فَقَالَ أَنَسٌ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ
عثمان بن یزدویہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں عمر بن یزید کی معیت میں مدنیہ منورہ گیا، ان دنوں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے سے قبل وہاں کے عامل اور گورنر تھے،، اس وقت میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جن کے جسم پر پھلبہری کے کافی سفید نشانات تھے، کو یہ کہتے ہوئے سنا،انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہ پوری نماز پڑھنے کے باوجود مختصر پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12461]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 888، والنسائي: 2/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13707»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12462
عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، عمر بن عبدالعزیز نماز میں طویل قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12462]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12492»
وضاحت: فوائد: … عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ بنو امیہ کے نیک سیرت انسان تھے، ان کی نیکی، تقوی اور حسنِ سیرت کی بنا پر علمائے کرام نے ان کو خلیفۂ راشد کے پر فخار لقب سے یاد کیا ہے۔
ان کی مدت ِ خلافت دو برس، پانچ مہینے اور چار دن تھی، ان کی وفات ۲۵ رجب سنہ ۱۰۱ہجری کو ہوئی۔
ان کی مدت ِ خلافت دو برس، پانچ مہینے اور چار دن تھی، ان کی وفات ۲۵ رجب سنہ ۱۰۱ہجری کو ہوئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. خِلَافَهُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ رُوجُ يَزِيدَ بْنِ الْمُهَلَبِ عَنْ طَاعَةِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
حدیث نمبر: 12463
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ الزُّجَيْجُ فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزُّجَيْجَ فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهِ أَشْيَاخٌ مُخَضَّبُونَ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ قُلْنَا هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ بَيْتُهُ قَالُوا نَعَمْ صَحِبَهُ وَهَذَاكَ بَيْتُهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَذِنَ لَنَا فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ قُلْتُ أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا أَنَّهُ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قُلْنَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ مَرْحَبًا بِكُمْ مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ قُلْنَا هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِلَى سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ أَوْ يَزِيدَ قَالَ إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدُكُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ“ قَالَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ“ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ“ ذَكَرَ مِرَارًا فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَهُ
قبیلہ بنو عقیل کے ایک بڑے شیخ عبدالمجید عقیلی نے بیان کیاکہ جن دنوں یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے خلاف خروج کیا، ان دنوں ہم حج کرنے کے لیے گئے، ہمارے سامنے العالیہ کے نواح میں الزجیج نامی ایک مقام کا ذکر کیا گیا، ہم جب مناسک حج سے فارغ ہوئے تو الزجیج پہنچے، ہم نے وہاں اپنی سواریوں کو بٹھایا اور ہم چلتے چلتے ایک کنوئیں پر جا پہنچے، وہاں کچھ بزرگ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ان کے بال رنگے ہوئے تھے، ہم نے پوچھا، یہاں جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے، اس کا گھر کہاں ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ ہاں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے اور وہ اس کا گھر ہے، ہم اس کے گھر چلے، ہم نے جا کر انہیں سلام کہا، تو انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ ایک عمر رسیدہ بزرگ آدمی تھے، وہ لیٹے ہوئے تھے ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا،میں نے کہا: کیا آپ ہی وہ شخص ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگر اب رات نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ خط پڑھاتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لکھا تھا،انہوں نے کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم بصرہ کے باشندے ہیں،انہوں نے کہا: آپ کی آمد مبارک ہو، بزید بن مہلب کیا کر رہا ہے؟ ہم نے بتلایا کہ وہ وہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہے، انہوں نے کہا: اس کی وہاں کیا پوزیشن ہے؟ میں نے پوچھا، ہم وہاں کس کا ساتھ دیں؟ اہل شام یا یزید کا؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر ایک طرف ہو کر بیٹھ رہو تو فلاح پاؤ گے اور کامیاب رہوگے، انہوں نے یہ بات تین دفعہ دہرائی اور کہامیں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر کھڑے بلند آواز سے فرما رہے تھے،: لوگو! آج کونسا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے، یہ مہینہ بھی حرمت والا ہے، یہ شہر بھی حرمت والا ہے، خبردار! تمہارے خون اور اموال قیامت تک ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح آج کے دن کی اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے، پس وہ تم سے ملاقات کے دن تمہارے اعمال کی بابت پوچھ گچھ کرے گا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: یااللہ گواہ رہنا یا اللہ ان پر گواہ رہنا۔ انہوں نے اس بات کا کئی دفعہ ذکر کیا مجھے یاد نہیں کہ کتنی دفعہ کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12463]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 13، والبخاري في التاريخ الكبير: 7/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20602»
وضاحت: فوائد: … یزید بن عبد الملک کی مدت ِ خلافت چار سال اور ایک ماہ ہے، یہ ۲۵ شعبان سنہ ۱۰۵ ہجری کوبلقاء کے مقام پر ۳۸ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. خلافَةُ الْوَلِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
حدیث نمبر: 12464
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ فَسَمَّوْهُ الْوَلِيدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَمَّيْتُمُوهُ بِأَسْمَاءِ فَرَاعِنَتِكُمْ لَيَكُونَنَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْوَلِيدُ لَهُوَ شَرٌّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ فِرْعَوْنَ لِقَوْمِهِ“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی، انہوں نے اس کا نام ولید رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا نام اپنے فرعونوں میں سے ایک فرعون کے نام پر رکھا ہے، اس امت میں ولید نامی ایک شخص ہوگا، وہ اس امت کے لیے اس سے بھی برا اور سخت ثابت ہوگا، جیسے بنی اسرائیل کے لیے فرعون تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12464]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن المسيب لم يسمعه من عمر، وذكر عمر فيه خطا، اخرجه الحاكم: 4/ 494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 109»
وضاحت: فوائد: … ولید بن یزید کی مدت ِ خلافت ایک برس اور تین ماہ ہے، یہ ۲۸ جمادی الثانیہ سنہ ۱۲۶ ہجری کو مقتول ہوئے، جبکہ ان کی ولادت سنہ ۹۰ ہجری میں ہوئی تھی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
4. ابْتَدَاءُ الدَّوْلَةِ الْعَبَّاسِيَّةِ وَاخْبَارُ النَّبِيِّ ﷺ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس سے مطلع کرنا
حدیث نمبر: 12465
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”مَا تَرَى“ قَالَ قُلْتُ أَرَى الثُّرَيَّا قَالَ ”أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَانِ فِي فِتْنَةٍ“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم آسمان پر کوئی تارا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ثریا تارے دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسل میں سے ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر دو آدمی ہر ایک فتنہ کے زمانہ میں اس امت پر حکمرانی کریں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12465]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد بن ابي فروة، قال البخاري: لايتابع في حديثه في قصة العباس، اخرجه الحاكم: 3/ 326، والبيھقي في الدلائل: 6/ 518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1786»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12466
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے ختم ہونے اور فتنوں کے ظہور کے وقت سفاح نامی ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ دونوں ہاتھ بھر بھر کر لوگوں میں مال و دولت تقسیم کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12466]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه بنحوه ابن ابي شية: 15/ 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11779»
وضاحت: فوائد: … یہ روایات تو ضعیف ہیں، البتہ سفاح سے مراد ابو العباس عبد اللہ بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم ہے، یہ سنہ ۱۰۴ ہجری میں بمقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں پیدا ہوا، وہیں پرورش پائی، اپنے بھائی ابراہیم امام کا جانشین ہوا، اپنے بھائی منصور سے عمر میں چھوٹا تھا، یہ عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔
عبد اللہ سفاح خون ریزی، سخاوت، حاضر جوابی اور تیز فہمی میں ممتاز تھا، سفاح کے عمال بھی خون ریزی میںمشّاق تھے۔
ابو مسلم اور ابو جعفر کو روانہ کرنے کے بعد ابو العباس عبد اللہ سفاح چار برس اور آٹھ ماہ خلافت کر کے ۱۳ ذوالحجہ سنہ ۱۳۶ ہجری کو فوت ہوا۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ اسلام از محمد اکبر شاہ نجیب
! مستدرک حاکم اور بیہقی کی شعب الایمان میں صرف درج ذیل الفاظ ہیں: اِنَّہٗ یَمْلِکُ ہٰذِہِ الْاٗمَّۃَ بِعَدَدِھَا مِنْ صُلْبِکَ یعنی تیری اولاد میں سے ان ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر افراد اس امت پر حکم زنی کریں گے۔ مفہوم کے لحاظ سے یہ بات کافی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
عبد اللہ سفاح خون ریزی، سخاوت، حاضر جوابی اور تیز فہمی میں ممتاز تھا، سفاح کے عمال بھی خون ریزی میںمشّاق تھے۔
ابو مسلم اور ابو جعفر کو روانہ کرنے کے بعد ابو العباس عبد اللہ سفاح چار برس اور آٹھ ماہ خلافت کر کے ۱۳ ذوالحجہ سنہ ۱۳۶ ہجری کو فوت ہوا۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ اسلام از محمد اکبر شاہ نجیب
! مستدرک حاکم اور بیہقی کی شعب الایمان میں صرف درج ذیل الفاظ ہیں: اِنَّہٗ یَمْلِکُ ہٰذِہِ الْاٗمَّۃَ بِعَدَدِھَا مِنْ صُلْبِکَ یعنی تیری اولاد میں سے ان ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر افراد اس امت پر حکم زنی کریں گے۔ مفہوم کے لحاظ سے یہ بات کافی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: ضعیف