Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12467
عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیں گے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12467]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةحال ابي حلبس يزيد بن ميسرة، اخرجه البزار: 2845، والطبراني في الاوسط: 3276، والحاكم: 1/ 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28095»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12468
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَإِنَّهُ لَكَظِيظٌ“
سیدنا معاویہ بن جیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12468]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرج الشطر الاول الطبراني في الكبير: 19/ 1030، وأخرج الشطر الثاني ابن حبان: 7388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20278»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12469
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا ”وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي“ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12469]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6480، ومسلم: 522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23640»
وضاحت: فوائد: … سورۂ بقرہ کی آخری آیات سے مراد {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ} سے سورت کے آخر تک دو آیات ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12470
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ“ وَهُوَ يَشُكُّ فِي السَّادِسَةِ قَالَ ”فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي أَبُو سَلَمَةَ هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کو اللہ کے ہاں قدرو منزلت، بلند مرتبت، دین داری، تائید و نصرت اور زمین پر غلبہ کی بشارت دے دیں۔ راوی کو یہ پانچ چیزیں یاد رہیں اور چھٹی اس کے ذہن سے محو ہوگئی،اس کے بارے میں اسے شک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کا جوآدمی آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے بتلایا کہ اس حدیث کے راوی ابو سلمہ کا اصل نام مغیرہ بن مسلم ہے اور وہ عبدالعزیز بن مسلم قسملی کا بھائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12470]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه الحاكم: 4/ 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21539»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12471
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِنَّمَا عَذَابُهُمْ فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ“ قَالَ أَبُو النَّضْرِ بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر رحمت کر دی گئی ہے، اسے آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا، میرے امتیوں کا عذاب دنیا میں قتل، پریشانیوں، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12471]
تخریج الحدیث: «ضعيف، روي يزيد بن ھارون و ھاشم بن القاسم عن عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي بعد الاختلاط، اخرجه ابوداود: 4278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19914»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12472
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِلَّا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَاءُ وَالزَّلَازِلُ“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہو گا، اس کا عذاب تو دنیا میں قتل، پریشانیوں اور زلزلوں کی صورت میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12472]
تخریج الحدیث: «ضعيف، انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19990»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12473
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} [الأنفال: 33]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12473]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19836»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و امان کے دو اسباب تھے، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور دوسرا استغفار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سبب ختم ہو چکا ہے اور استغفار کا سبب باقی ہے۔ اس آیت سے استغفار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12474
عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا“
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا،ایک تلوار اس امت کی اپنی اور دوسری دشمن کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12474]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24489»
وضاحت: فوائد: … امت ِمسلمہ کی تاریخ یہی ہے کہ جب تک خارجی دشمنوں سے مقابلہ جاری رہا، اس وقت تک اندرونی دشمنوں سے نجات ملی رہی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12475
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میر ی امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر لیا ہے، ایک وہ گروہ، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ، جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12475]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه النسائي: 6/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22759»
وضاحت: فوائد: … مولانا عطاء اللہ بھوجیانی نے کہا: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ۴۴ ھ میں مسلمانوں نے ہند پر چڑھائی کی تھی، پھر چوتھی سن ہجری میں محمود غزنوی نے بلادِ ہند میںجہاد کیا اور کافروں کو قتل کیا اور قیدی بنایا اور سومنات میں داخل ہو کر بڑے بت کو توڑا، جس کی وہ عبادت کرتے تھے، پھر وہ امن و سلامتی کے ساتھ لوٹ گئے۔ (التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی: ۲/ ۵۶)
اس کے بعد بھی بلادِ ہند میں جہاد بعض صورتوںمیں جاری رہا اور اب بھی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12476
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مَيْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرَارِهَا“ قَالَهَا ثَلَاثًا
سیدنا میمون بن سنباذ رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12476]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، ھارون بن دينار العجلي البصري ضعيف وابوه دينار مجھول، وميمون بن سنباذ مختلف في صحبته، اخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 20/ 835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22334»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دومفہوم بیان کیے گئے ہیں:
(۱) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔)) … اللہ تعالیٰ اس دین کو فاجر آدمی کے ذریعے مضبوط کرے گا۔ (صحیح ابن حبان: ۱۶۰۷، طبرانی کبیر: ۸۹۶۳،۹۰۹۴، صحیحہ: ۱۶۴۹)
اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کیسے کرتا ہے، اس کی ایک صورت درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے، ایک آدمی مسلمان ہونے کا دعوی کرتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ جہنمی ہے۔
جب ہم نے جنگ لڑنا شروع کی تو اس آدمی نے (لشکرِ اسلام کی طرف سے) بڑی زبردست لڑائی کی۔ خود اس کو بھی ایک زخم لگ گیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، وہ تو آج بہت خوب لڑا اور شہید ہو گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ قریب تھا کہ بعض مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اس قول کی وجہ سے شک میں پڑ جائیں۔ اتنے میں کہا گیا کہ وہ آدمی تو ابھی تک نہیں مرا، لیکن شدید زخمی ضرور ہے۔ رات کا وقت تھا، اس نے زخم پر صبر نہ کیا اور خود کشی کر لی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال پر مطلع کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری: ۳۰۶۲، مسلم)
(۲) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے اکثر زمانے میں برے اور ظالم امراء و حکام رہیں گے، جبکہ بیچ میں اللہ تعالیٰ کے دین کا کام بھی ہوتا رہے گا، گویا برے لوگ اس امت کے استحکام کاسبب بنے ہوئے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں