Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. صِفَةُ الدَّجَّالِ وَانْطِبَاقُهَا عَلَى ابْنِ صَيَّادٍ
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12951
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا زَيْدٌ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”مَسْرُورًا مَخْتُونًا“) ”أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“ ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ ”أَبُوهُ رَجُلٌ طِوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ طَوِيلُ الْأَنْفِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَةٌ عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”طَوِيلَةٌ“) قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنَ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ هَمْهَمَةٌ فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ ”فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ“) فَقَالَ مَا كُنْتُمَا فِيهِ قُلْنَا وَسَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس سال تک کوئی ولادت نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں کانا بچہ پیدا ہوگا۔ (ایک روایت میں ہے: اس کا ناڑو پہلے سے ہی کٹا ہوگا اور وہ پیدائشی طور پر ختنہ شدہ ہوگا۔) وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، وہ جب سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والدین کے بارے میں بتایا کہ اس کا باپ طویل قد اور کمزور جسم والا ہوگا، اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی ہو گی اور اس کے پستان بڑے بڑے اور لمبے لمبے ہوں گے۔ بعد ازاں ہمیں اطلاع ملی کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، میں (ابو بکرہ) اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے والدین کے ہاں چلے گئے، ہم نے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ نشانیاں دیکھیں، اُدھر وہ بچہ دھوپ میں چادر اوڑھے ہوئے لیٹا تھا اور اس کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی، ہم نے اس کے ماں باپ سے کچھ باتیں پوچھیں، انہوں نے بتلایا: تیس سال تو ہمارے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس کے بعد ہمارے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوا، جو بڑا ضرر رساں اور کم نفع والا تھا۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلے تو اس بچے کے پاس سے گزرے، میں نے اس کے سر سے کپڑا ہٹایا تو وہ بولا: تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے کہا: کیا تو ہماری باتیں سن رہا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا، وہ ابن صیاد تھا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12951]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20689»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12952
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ قَالَ ”سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ“ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ ”سَلْهَا عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ“ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ صَاحَ صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ خَبَأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَالَ الدُّخَ الدُّخَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر میں دس دفعہ قسم اٹھا کر کہوں کہ ابن صائد (یعنی ابن صیاد) ہی دجال ہے، تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ قسم اٹھا کر یہ کہوں کہ وہ دجال نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھ کرآؤ کہ اس بچے کا حمل کتنا عرصہ اس کے پیٹ میں رہا۔ میں اس کے ہاں گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے بتلایا کہ بارہ مہینے اسے اس کا حمل رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دوبارہ بھیج دیا اور فرمایا کہ یہ پوچھ کر آؤ کہ ولادت کے وقت اس کی چیخ کیسی تھی میں اس کے پاس دوبارہ گیا اور اس سے یہ سوال کیا، اس نے بتلایا کہ اس کی چیخ ایک ماہ کے بچے کی سی تھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے اپنے دل میں ایک چیز چھپائی ہے، (وہ کیا ہے)؟ ابن صیاد نے کہا:آپ مجھ سے خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ کے الفاظ چھپائے ہیں، وہ کہتا تو الدُّخَانَ چاہتا تھا، لیکن پورا لفظ کہنے کی اسے طاقت نہ ہوئی اس لیے اس نے کہہ دیا: اَلدُّخَ اَلدُّخَ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12952]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21645»
وضاحت: فوائد: … خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ وَالدُّخَانَ کے معانی ہیں: سفید رنگ کی بکری کا ناک اور دھواں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. مُقَابَلَهُ ابْن عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ ابْنَ صَيَّادٍ وَضَرْبُهُ إِيَّاهُ وَمَا حَصَلَ مِنَ ابْنِ صَيَّادِ عِنْدَ ذلِكَ مِنَ الْخَوَارِقِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12953
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَيَّادٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِيهِ فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ يُولِعُكَ بِهِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن صیاد کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں دیکھا، تو انھوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی، ابن صیاد غصے سے اس قدر پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انہوں نے اسے مار مار کر لاٹھی توڑ دی، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے؟ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: دجال اس وقت نکلے گا، جب اسے شدید غصہ آیا ہوا ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12953]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26957»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12954
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَيَّادٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي قَالُوا نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ قَالُوا لَا قُلْتُ كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ قَالَ فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لَا أَدْرِي قُلْتُ مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ فَقَالَ مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ مِنْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن صیادسے دو دفعہ میری ملاقات ہوئی، ایک دفعہ جب میں اسے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی بھی تھے، میں نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو تم سچ بولو گے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا: کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ (ابن صیاد) وہی (دجال) ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں ہے، میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، اللہ کی قسم! تم ہی میں سے بعض نے مجھے بتلایا تھا کہ دجال شروع میں مال و اولاد کے لحاظ سے سب سے کم ہوگا، لیکن جب اسے موت آئے گی تو اس کا مال بھی سب سے زیادہ ہوگا اور اولاد بھی، یہ ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں، اس کے بعد میں اسے چھوڑ کر چلا گیا، پھر جب میری اس سے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی، میں نے پوچھا: میں تمہاری آنکھ کو خراب دیکھ رہا ہوں، یہ کب سے ایسے ہے؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: یہ آنکھ تمہارے سر میں ہے اور تم نہیں جانتے کہ ایسا کب سے ہوا ہے؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اگر اللہ نے چاہا تو تمہاری اس لاٹھی سے دجال کو پیدا کر دے گا، اس کے بعد وہ زور سے گدھے کی طرح خرّاٹے لینے لگا، میں نے ایسی (مکروہ) آواز کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک لاٹھی تھی اورمیں نے اس کو اتنا زدو کوب کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے تو اس چیز کا بالکل علم نہیں ہوا۔ نافع کہتے ہیں: پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا،انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: دجال کا لوگوں کے سامنے پہلا ظہور شدید غصے کی صورت میں ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12954]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26958»
وضاحت: فوائد: … ابن صیاد میں بعض خارق عادت امور پائے جاتے تھے، بہرحال وہ مسیح دجال نہیں تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. جُرءَةُ ابْنِ صَيَّادٍ وَ مُحَاوَلَهُ عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَتْلَهُ وَمَنْعُ النَّبِيِّ ﷺ إِيَّاهُ عَنْ ذلِكَ
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12955
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ“) فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ“ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يَأْتِيكَ“ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خُلِّطَ لَكَ الْأَمْرُ“ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا“ وَخَبَأَ لَهُ {يَوْمَ تَأْتِ السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ابن صیاد کے پاس سے گزر ہوا، جبکہ آپ کے ہمراہ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سمیت کچھ صحابہ بھی تھے، ابن صیاد ابھی بچہ تھا اور وہ بنو مغالہ کے قلعہ کے قریب بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، ایک روایت کے مطابق وہ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا، اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا پتہ نہیں چل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قریب گئے اور اپنا ہاتھ اس کی پشت پر رکھا اور پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کرکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُمّی لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کون آتا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس ایک سچا آتا ہے اور ایک جھوٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر معاملہ خلط ملط ہوگیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک چیز اپنے ذہن میں سوچ رہا ہوں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں وہ چیز {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} تھی۔ اس نے کہا: وہ الدخ ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اُدھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کو قتل ہی نہیں کر سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12955]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1354، 3055، ومسلم: 2930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6360»
وضاحت: فوائد: … ابن صیاد نے کہانت کی مدد سے الدخ کا جواب دیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12956
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي فَلَا أَضْرِبَ عُنُقَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزرچند بچوں کے پاس سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے اور ان میں ابن صیاد بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواباً وہ کہنے لگا: اور کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ یہ صورتحال دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کر سکو گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12956]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4371»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12957
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ دُخٌّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”لَا إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہے، تو بتا وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو ہر گز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کو قتل کرنے دو۔ آپ نے فر مایا: نہیں، اگر یہ وہی دجال ہے، جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کرسکو گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12957]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ا3610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3610»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذہن میں {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} والی آیت تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12958
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12958]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11798»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. اهْتِمَامُ النَّبيﷺ بِأَمْرِ ابْن صَيَّادٍ وَذَهَابُهُ إِلَيْهِ مُتَخَفْيًا وَمُحَاوَلَتْهُ سِمَاعَ شَيْءٍ مِنْهُ خِلْسَةٌ وَتَنْبِيَهُ أمه إيَّاهُ لِذلِك
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12959
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ عَنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ قَالَ فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس نخلستان میں گئے، جہاں ابن صیاد موجود تھا، جب باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ طور پر اس کی باتیں سننے کے لیے کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ چھپ کر اس کی طرف بڑھنے لگے، تاکہ قبل اس کے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کچھ سن سکیں، جبکہ وہ (ابن صیاد) ایک چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی گنگناہٹ کی آواز آ رہی تھی، لیکن جب اس کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، تو اس نے آواز دی: ارے صاف! (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہ سن کر وہ جھٹ سے اٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسے خبردار نہ کرتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت واضح کر دیتا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12959]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1355، 3056، ومسلم: 2931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6363»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12960
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةً عَيْنُهُ طَالِعَةً نَاتِئَةً فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالُ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ ”فَلُبِّسَ عَلَيْهِ“ فَقَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمَ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ فَقَالَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ فَلُبِّسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ“ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ اخْسَأْ“ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ“ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک یہودی عورت نے ایک بچہ جنم دیا، اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی تھی اور وہ اوپر کی طرف ابھری ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ یہی دجال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ اس نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کی گنگناہٹ کی آواز بھی آرہی تھی، لیکن اس کی ماں نے اسے متنبہ کرتے ہوئے کہا: اے عبد اللہ! یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے ہیں،ـ تو ان کی طرف جا، پس وہ چادر کے نیچے سے نکل کرآ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو کیا تھا؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے اسی طرح لیٹا رہنے دیتی تو وہ خود ہی اپنی باتوں سے اپنی اصلیت کو واضح کر دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں اور باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر تو معاملہ خلط ملط کر دیاگیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے چھوڑ کر واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ پھر اس کی طرف تشریف لے گئے اوراس کو کھجور کے درختوں کے درمیان پایا، وہ کچھ گنگنا رہا تھا، لیکن اس دفعہ بھی اس کی ماں نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا: عبد اللہ! یہ ابوالقاسم آگئے ہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا ہے، اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اس کو اسی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے خود ہی اپنی حقیقت بیان کر دیتا۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی باتیں سننا چاہتے تھے، تاکہ آپ کو علم ہو جاتا کہ یہ دجال ہے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن صائد! تم کیا چیز دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں، باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ پس اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے چھوڑ کر چلے گئے، اور پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار و مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ اس کی طرف گئے، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہوا یوں کہ اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے ہم سے آگے بڑ ھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوشش تھی کہ اس کی کوئی بات سن لیں، لیکن اس کی ماں جلدی جلدی اس کی طرف گئی اور کہا: عبد اللہ! یہ ابو القاسم آگئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہو اس کو؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے ا سی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت کو واضح کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق اور باطل دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ابن صائد! ہم تیرے لیے یعنی تجھے آزمانے کے لیے اپنے دل میں ایک کلمہ سوچ رہے ہیں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ الدخ ہے، الدخ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: دفع ہو، دفع ہو۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ واقعی دجال ہے تو تمہارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں، اس کا مقابلہ کرنے والے جنابِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو آپ کے لیے ایک ذِمّی کو قتل کرنا روا نہیں ہے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندیشہ رہا کہ یہی دجال ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12960]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2942، وأخرجه باخصر مما ھنا مسلم: 2926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15018»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں