الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. مجيءُ رِيحٍ بَارِدَةٍ تَقْبِضُ أَزْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
حدیث نمبر: 13038
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتَخْطِمُ الْكَافِرَ وَفِي رِوَايَةٍ وَجْهَ الْكَافِرِ وَفِي أُخْرَى أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ وَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ عَلَى خِوَانِهِمْ فَيَقُولُ هَذَا يَا مُؤْمِنُ وَيَقُولُ هَذَا يَا كَافِرُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ ظاہر ہوگا، اس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی مہر ہوگی، وہ کافر کے چہرے یا ناک پر اس مہر سے نشان لگائے گا، او راس عصا کے ساتھ اہل ایمان کے چہروں کو چمکا دے گا، یہاں تک کہ ایک دسترخوان پر جمع ہو کر لوگ بیٹھے ہوں اور وہ (اس علامت کی وجہ سے شناخت کر کے) کہیں گے: اے مومن، اے کافر! (اس علامت کو دیکھ کر) ایک دوسرے کو کہیں گے کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13038]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 3187، وابن ماجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7924»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13039
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجِينُ بْنُ الْمُثَنَّى ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَسْلَمَةَ الْمَاجِشُونَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ دِلَافٍ الْمُزَنِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ ثُمَّ يَعْمُرُونَ فِيكُمْ حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ فَيَقُولُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ“ وَقَالَ يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ثُمَّ يَعْمُرُونَ فِيكُمْ وَلَمْ يَشُكَّ قَالَ فَرَفَعَهُ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ نکلے گا‘ وہ لوگوں کی ناک پر ایک علامت لگائے گا اور وہ تم میں لمبی عمریں پائیں گے‘ حتی کہ ایک آدمی اونٹ خریدے گا، جب کوئی اس سے پوچھے گا کہ تو نے یہ اونٹ کس سے خریدا ہے، تو وہ جواب دے گا: میں نے یہ نشان زدہ لوگوں میں سے ایک آدمی سے خریدا تھا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13039]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 6/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22664»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13040
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ“ فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے ساتھ لیے مکہ کے قریب ایک دیہاتی جگہ تشریف لے گئے، وہاں ایک خشک زمین تھی، اس کے ارد گرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقام سے چوپایہ ظہور پذیر ہوگا۔ وہاں ایک بالشت کے برابر دراڑسی تھی۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13040]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من اجل خالد بن عبيد ابي عصام العتكي، فھو متروك الحديث، أخرجه ابن ماجه: 4067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23411»
وضاحت: فوائد: … دابّۃ (زمین کا چوپایہ)، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲): جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13041
عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَجِيءُ رِيحٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقْبَضُ فِيهَا أَرْوَاحُ كُلِّ مُؤْمِنٍ“
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی، اس میں ہر اہل ایمان کی روح قبض کر لی جائے گی۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13041]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه عبد الرزاق: 20802، والحاكم: 4/ 489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15542»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13042
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِي أَوَّلِهِ الدَّجَّالَ ثُمَّ نُزُولَ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَتْلَهُ الدَّجَّالَ قَالَ: ”ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ“، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ“، الْحَدِيثَ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع میں دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، … …۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13042]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6555»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13043
عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ، لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا“
سیدنا مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ بچی ہوئی خراب اور ردی کھجور یا جو کی طرح گھٹیا قسم کے لوگ رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17881»
وضاحت: فوائد: … جب اس ہوا کی وجہ سے سارے مؤمن فوت ہو جائیں گے تو صرف برے لوگ رہ جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. هَدمُ الْكَعْبَةِ وَاسْتِخْرَاجُ كَنُرِهَا بِأَيْدِي الْحَبْشَةِ
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
حدیث نمبر: 13044
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُبَايَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا يُسْأَلْ عَنْ هَلَاكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمُ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک (خلیفہ) کی حجراسود اور مقام ِ ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور اسی بیت اللہ والے یعنی اسی امت کے لوگ اس گھر کو حلال سمجھیں گے (اور اس پر چڑھائیاں کریں گے) اور جب ایسے ہو گا تو اس وقت کے عربوں کی تباہی کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے، پھر حبشی لوگ آکر بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، اس کے بعد یہ گھر کبھی بھی آباد نہیں ہو گا، وہ لوگ اس کے خزانوں کو نکالیں گے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13044]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 6827، والحاكم: 4/ 452، وابن ابي شيبة: 15/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7897»
وضاحت: فوائد: … اسی امت کے لوگ بیت اللہ کو حلال سمجھیں گے
یعنی اہل اسلام خود بیت اللہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ایسے ہی ہوا، اپنوں کے ہاتھوں حرم کی بے حرمتی ہوتی رہی، تفصیل آ رہی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا}، کیونکہ اس آیت کے مطابق تو حرم کو امن والا قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اصحاب الفیل کو اس سے روک لیا تھا، جب یہ مسلمانوں کا قبلہ ہی نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب حبشی اس پر کیسے مسلط آئیں گے، جبکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی بن چکا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حبشی کا یہ واقعہ آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیش آئے گا، اس وقت اللہ اللہ کہنے والا کوئی ایک شخص بھی اس زمین میں نہیں ہو گا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک اللہ اللہ کہا جانا بند نہ ہو جائے۔ اسی لیے سعید بن سمعان کی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بیت اللہ کبھی بھی آباد نہیں ہو گا۔
لیکن یہ بات ضرور ہے کہ بیت اللہ میں قتال تو کیا گیا، پھر شامیوں نے یزید بن معاویہ کے زمانے میں اس پر چڑھائی کی، اس کے بعد بھی کئی حملے کیے گئے، جن میں سب سے بڑا حملہ قرامطہ کا تھا، جو چوتھی صدی ہجری میں پیش آیا، انھوں نے بے شمار مسلمان کو مَطاف میں قتل کیا اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے علاقے میں لے گئے، پھر طویل مدت کے بعد واپس کیا تھا، اس کے بعد کئی لڑائیاں ہوئیں۔ لیکن اس سب کچھ کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} سے کوئی تناقض اور تضاد نہیں، کیونکہ یہ سارا مسلمانوں نے خود کیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پیشین گوئی پیش کی، معاملہ اسی طرح ہوا، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ امن کا وجود استمراراً قائم رہے گا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۸۹) یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مصداق کو اغلب اوقات پر محمول کیا جائے۔
یعنی اہل اسلام خود بیت اللہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ایسے ہی ہوا، اپنوں کے ہاتھوں حرم کی بے حرمتی ہوتی رہی، تفصیل آ رہی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا}، کیونکہ اس آیت کے مطابق تو حرم کو امن والا قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اصحاب الفیل کو اس سے روک لیا تھا، جب یہ مسلمانوں کا قبلہ ہی نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب حبشی اس پر کیسے مسلط آئیں گے، جبکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی بن چکا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حبشی کا یہ واقعہ آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیش آئے گا، اس وقت اللہ اللہ کہنے والا کوئی ایک شخص بھی اس زمین میں نہیں ہو گا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک اللہ اللہ کہا جانا بند نہ ہو جائے۔ اسی لیے سعید بن سمعان کی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بیت اللہ کبھی بھی آباد نہیں ہو گا۔
لیکن یہ بات ضرور ہے کہ بیت اللہ میں قتال تو کیا گیا، پھر شامیوں نے یزید بن معاویہ کے زمانے میں اس پر چڑھائی کی، اس کے بعد بھی کئی حملے کیے گئے، جن میں سب سے بڑا حملہ قرامطہ کا تھا، جو چوتھی صدی ہجری میں پیش آیا، انھوں نے بے شمار مسلمان کو مَطاف میں قتل کیا اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے علاقے میں لے گئے، پھر طویل مدت کے بعد واپس کیا تھا، اس کے بعد کئی لڑائیاں ہوئیں۔ لیکن اس سب کچھ کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} سے کوئی تناقض اور تضاد نہیں، کیونکہ یہ سارا مسلمانوں نے خود کیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پیشین گوئی پیش کی، معاملہ اسی طرح ہوا، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ امن کا وجود استمراراً قائم رہے گا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۸۹) یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مصداق کو اغلب اوقات پر محمول کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13045
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَظْهَرُ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ عَلَى الْكَعْبَةِ“، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: ”فَيَهْدِمُهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں باریک پنڈلیوں والا ایک آدمی کعبہ پر چڑھے گا اور اس کو گرا دے گا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13045]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1591، ومسلم: 2909، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8080»
وضاحت: فوائد: … آگے حدیث آرہی ہے کہ وہ حبشی آدمی کعبہ چڑھ کر اس کا ایک ایک پتھر گرائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ، وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا، وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أُصَيْلِعَ أُفَيْدِعَ، يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کا باریک پنڈلیوں والا ایک حکمران کعبہ کو منہدم کر کے اس کے خزانوں کو لوٹے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا، میں گویا کہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس کا سر گنجا اور پنڈلیاں مڑی ہوئی ہیں اور اس گھر پر اپنا کدال اور گینتی چلا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13046]
تخریج الحدیث: «بعضه مرفوع صحيح، وبعضه يروي مرفوعا وموقوفا، والموقوف اصح، أخرجه بنحوه ابوداود: 4309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7053»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13047
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”أُتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ“
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی کو سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حبشی لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑو، جب تک وہ تمہیں چھوڑیں رکھیں، کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو نکالنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ہو گا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13047]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23542»
وضاحت: فوائد: … حبشیوں کے بارے میں یہ رخصت دینے کا پس منظر یہ تھا کہ حبشی علاقہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت دور تھا، اس تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ محنت و مشقت درکار تھی، اسی قسم کا معاملہ ترکوں کا ہے، کہ ان کا علاقہ بہت ٹھنڈا تھا، جبکہ اس وقت عرب لوگوں کا خطہ گرم تھا اور ترک لوگ لڑنے میں بھی بڑے سخت تھے۔ ان امور کو دیکھ کر مشروط خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔ لیکن اگر ایسے ہو کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئیں تو ان سے ہر ایک کا لڑنا ضروری ہو جائے گا۔
کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح