صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب
حدیث نمبر: 5097
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا القَعْنَبيُّ قَالَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا هَذَا الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ هَذَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو یہ غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5075»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 42): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
2. ذكر الأمر بالتسوية بين الأولاد في النحل إذ تركه حيف-
- اس بات کا بیان کہ اولاد کو عطیہ (نحل) دیتے وقت سب کے درمیان برابری کا حکم ہے، کیونکہ ترکِ مساوات ظلم ہے۔
حدیث نمبر: 5098
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَيْدٍ بِفَمِ الصُّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ، وَلَدٌ غَيْرَهُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" سَوِّ بَيْنَهُمْ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (عطیہ دینے میں) تم ان کے درمیان برابری رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5076»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
3. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 5099
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" سَوِّ بَيْنَهُمْ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی: میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ان کے درمیان برابری کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5077»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
4. ذكر لفظة أوهمت عالما من الناس أن الإيثار في النحل بين الأولاد جائز-
- اس لفظ کا بیان جس نے بعض اہلِ علم کو یہ وہم میں مبتلا کیا کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ترجیح (ایثار) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5100
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟" فَقَالَ: لا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَارْجِعْهُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے، انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے واپس لے لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5078»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 41 / 1598): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
5. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فارجعه أراد به لأنه غير الحق-
- اس وضاحت کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «فارجعه» کا مطلب یہ تھا کہ یہ کام حق کے خلاف تھا۔
حدیث نمبر: 5101
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ:" انْحَلِ ابْنِي هَذَا غُلامًا، وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَهُ إِخْوَةٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُهُ؟" فَقَالَ: لا، فَقَالَ:" لا يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لا أَشْهَدُ إِلا عَلَى الْحَقِّ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو غلام عطیے کے طور پر دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد سے) دریافت کیا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو اسی طرح عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1624، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5101، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12120، 12121، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14716، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5841، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5080» «رقم طبعة با وزير 5079»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (6/ 42): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
6. ذكر الخبر المصرح بنفي جواز الإيثار في النحل بين الأولاد-
- اس خبر کا بیان جو صراحتاً اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار کے عدمِ جواز پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا الْغُلامُ؟" قَالَ: غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: " فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ"، وَقَالَ لأَبِيهِ:" لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں غلام عطیے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کس کا غلام ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا انہوں نے تمہارے تمام بھائیوں کو اسی طرح عطا کیا ہے، جس طرح تمہیں عطا کیا ہے؟“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے واپس کر دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: ”تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5080»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
7. ذكر خبر ثان يصرح بأن الإيثار بين الأولاد غير جائز في النحل-
- دوسری خبر کا بیان جو صراحتاً واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان ترجیح (ایثار) عطیہ میں جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5103
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ فَالْتَوَى بِهِ سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَوَهَبَهَا لِي، وَإِنَّهَا قَالَتْ: لا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ مَوْهِبَةٍ لابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ تُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" يَا بَشِيرُ، أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے میرے والد سے یہ گزارش کی کہ وہ اپنے مال میں سے کوئی چیز مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ ایک سال تک اسے ملتوی کرتے رہے، پھر انہیں یہ مناسب لگا، انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کر دی۔ میری والدہ نے یہ کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ نہیں بنا لیتے، تو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس لڑکے کی والدہ جو رواحہ کی صاحب زادی ہے، وہ ایک سال سے مجھے یہ کہہ رہی تھیں کہ میں اپنے اس بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کروں، اب مجھے مناسب لگا تو میں نے اسے ہبہ کر دیا۔ اس عورت کی یہ خواہش ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کے گواہ بن جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے بشیر! کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5103]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5081»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
8. ذكر خبر ثالث يصرح بأن الإيثار بين الأولاد في النحل حيف غير جائز استعماله-
- تیسری خبر کا بیان جو واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار ظلم ہے اور جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5104
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: طَلَبَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ إِلَى بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنْ يَنْحِلَنِيَ نَحْلا مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّهُ أَبَى عَلَيْهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ بَعْدَ حَوْلٍ أَوْ حَوْلَيْنِ أَنْ يَنْحَلَنِيهِ، فَقَالَ لَهَا: الَّذِي سَأَلْتِ لابْنِي كُنْتُ مَنَعْتُكِ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أَنْحَلَهُ إِيَّاهُ، قَالَتْ: لا وَاللَّهِ، لا أَرْضَى حَتَّى تَأْخُذَ بِيَدِهِ فَتَنْطَلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُشْهِدَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مَعَهُ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ آتَيْتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي آتَيْتَ هَذَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا، هَذَا جَوْرٌ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلادِكُمْ فِي النَّحْلِ كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ، وَاللُّطْفِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْفِعْلِ الْمَأْمُورِ بِهِ لَوْ فَعَلَهُ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الأَمْرِ بِضِدِّهِ، كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ: اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (میری والدہ) عمرہ بنت رواحہ نے (میرے والد) سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ وہ اپنے مال میں سے مجھے (یعنی سیدنا نعمان بن بشیر کو) کوئی عطیہ دیں، لیکن انہوں نے اس خاتون کی بات تسلیم نہیں کی۔ ایک یا دو سال گزرنے کے بعد انہیں یہ مناسب لگا تو انہوں نے مجھے ایک عطیہ دے دیا۔ انہوں نے اس خاتون سے کہا: تم نے جو میرے بیٹے کے بارے میں درخواست کی تھی اسے میں نے پورا نہیں کیا تھا، اب مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے عطیہ دے دوں۔ اس خاتون نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا گواہ نہیں بناتے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”جس طرح تم نے اسے دیا ہے، اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں اس بات کا گواہ نہیں بنتا، یہ زیادتی ہے، تم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو، تم لوگ اپنی اولاد کے درمیان عطیات کے حوالے سے انصاف سے کام لو، جس طرح تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی اور بھلائی کے حوالے سے تمہارے ساتھ انصاف سے کام لیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ اس کے ذریعے اس بات کی اطلاع دینا مراد ہے کہ اگر وہ یہ فعل کر لیتے ہیں، تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی ممانعت اس کے متضاد کا حکم دینے کے الفاظ کے ذریعے کی ہے، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”تم (ولاء) کی شرط ان کے لیے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5082»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3098): م نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
9. ذكر خبر رابع يدل على أن الإيثار في النحل من الأولاد غير جائز-
- چوتھی خبر کا بیان جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَرَادَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا بِصَدَقَةٍ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَلا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری بیوی) عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس کے بیٹے کو کوئی چیز عطیے کے طور پر دوں، اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بچے ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ان سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح تم نے اسے عطیہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5083»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
10. ذكر خبر خامس يصرح بترك استعمال الإيثار للمرء في النحل بين ولده-
- پانچویں خبر کا بیان جو واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار کا استعمال ترک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: إِنَّ أَبِي نَحَلَنِي كَذَا وَكَذَا، فَأَتَى بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ، أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ؟ فَقَالَ: لا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، هَذَا جَوْرٌ" ثُمْ قَالَ:" أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَلا إِذًا" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے فلاں، فلاں چیز عطیے کے طور پر دی، وہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، یہ ظلم ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہاری تمام اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ درست نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5084»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3946): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم