🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ وَكَمِيَّتِهَا
نماز کی فرضیت اور اس کی تعداد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ". قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ فَقَالَ:"لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"  .
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسلام) دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے۔ اس نے کہا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: الايمان، باب الزكاة من الاسلام (46، 1891) ومسلم، الايمان، بيان الصلوات التي هي احد اركان الاسلام (11)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ، وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى إِذَا دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ". قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:"لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ". وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:"لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ". فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ"  . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: نجد والوں میں سے ایک دیہاتی آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی اور سمجھ نہ آتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آیا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں سوال کر رہا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’(اسلام) دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے‘۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ تو مجھ پر کوئی نماز فرض نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے‘۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے رمضان کے روزوں کا ذکر کیا، اس نے کہا: کیا (اس کے علاوہ) اور تو کوئی روزہ مجھ پر فرض نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی رکھے‘۔ (صحابی کہتے ہیں) وہ آدمی یہ الفاظ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ اللہ کی قسم نہ میں اس میں زیادتی کروں گا نہ کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اگر یہ سچا ہے تو کامیاب ہو گیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: الايمان، باب الزكاة من الاسلام (46، 1891) ومسلم، الايمان، بيان الصلوات التي هي احد اركان الاسلام (11)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ تَعْيِينِ أَوْقَاتِ الصَّلَاةِ
نماز کے اوقات کے تعین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ ظِلِّهِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَرَّةَ الْأَخِيرَةَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ قَدْرَ ظِلِّهِ قَدْرَ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِقَدْرِ الْوَقْتِ الْأَوَّلِ لَمْ يُؤَخِّرْهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ  . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهَذِهِ الْمَوَاقِيتُ فِي الْحَضَرِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کی۔ پہلی بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سایہ (نعلین کے) تسمہ کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب اس وقت پڑھی جب روزے دار نے روزہ کھولا (یعنی غروب آفتاب)، پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جب سرخی غائب ہوگئی۔ پھر صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب روزہ دار پر کھانا، پینا حرام ہو گیا، (یعنی طلوع فجر کے وقت)۔ پھر دوسری بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، جس وقت انہوں نے کل عصر کی نماز پڑھی تھی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ دو گنا ہو گیا۔ پھر مغرب کی نماز اسی وقت پڑھی جس وقت پہلی بار پڑھی تھی۔ پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب زمین خوب روشن ہوگئی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ سے پہلے پیغمبروں کا یہی وقت تھا اور نماز کا وقت انہیں دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذى الصلاة، باب ماجاء في مواقيت الصلاة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: 149 - وقال حسن صحيح ابوداود، الصلاة، باب في المواقيت: 393 و صححة ابن الجارود: 149، 150 - وابن خزيمة: (325).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الصَّلَاةَ. فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"نَزَلَ جِبْرَئِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ"  . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُرْوَةُ، وَانْظُرْ مَا تَقُولُ. فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَخْبَرَنِيهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے نماز میں تاخیر کی تو عروہ رحمہ اللہ نے انہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل آئے، میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی... پھر جبرئیل آئے، میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر جبرئیل آئے میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر جبرئیل آئے، میری امامت پھر جبرئیل آئے میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ پانچ نمازوں کو شمار کیا۔ یہاں تک کہ پانچ نمازوں کو شمار کیا۔ تو عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے فرمایا: عروہ اللہ سے ڈرو! کیا کہہ رہے ہو۔ عروہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہا مجھے بشیر بن ابی مسعود نے اپنے باپ سے خبر دی ہے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: مواقيت الصلاة، باب مواقيت الصلاة وفضلها: (521) - ومسلم، المساجد، باب اوقات الصلوة الخمس: (610).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الْغَلَسِ
اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفْنَ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے اور عورتیں اپنی چادروں میں لیٹی ہوئی واپس ہوتیں تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الاذان، باب خروج النساء الى المساجد بالليل والغلس: (867)- ومسلم، المساجد، باب استحباب التكبير بالصبح في أول وقتها وهو الغلس، وبيان قدر القرأة فيها: (645).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں مومنہ عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں اور وہ چادروں میں لپٹی ہوتیں، پھر اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى: الصلاة، باب في كم تصلي المرأة من الثياب: (372) - ومسلم، المساجد، باب استحباب التكبير بالصبح في اول وقتها وهو الغلس ..... الخ: (645).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے، تو عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی واپس آتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى: الصلاة، باب في كم تصلي المرأة من الثياب: (372) - ومسلم، المساجد، باب استحباب التكبير بالصبح في اول وقتها وهو الغلس ..... الخ: (645).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلَهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (120)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا وَهُوَ يُعَسْكِرُ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى، فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ. قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ. قَالَ: وَأَنَا أُرِيدُهُ، فَدَنَوْتُ فَأَكَلْتُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَابْنَ التَّيَّاحِ أَقِمِ الصَّلَاةَ.  
حبان بن حارث کہتے ہیں میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ وہ ابو موسیٰ میں ان کے گھر لشکر کے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: آؤ کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا، روزے کا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا میرا بھی یہی ارادہ تھا، پھر میں نے بھی کھانا کھایا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے تیاح کے بیٹے! آؤ نماز پڑھیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعيف: لجهالة حبان بن الحارث اخرجه البيهقي: 1 / 456، 383 وفي المعرفة السنن والآثار له (639) .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ يَسَارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ مِنَّا جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.  أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر واپس مڑتے تو ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے کو (اندھیرے کی وجہ سے) نہیں پہچان سکتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى مواقيت الصلاة، باب وقت الظهر عند الزوال: 541 - ومسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح: 461 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں