مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْجُزْءُ رَقْمُ 2
دوسرے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ [ ص: 74 ] عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْقَمَرَ كُسِفَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا صَلَّيْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. وَقَالَ: إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا خَاسِفًا فَلْيَكُنْ فَزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى.
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ چاند گرہن ہوگیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ میں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نکلے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر سوار ہو کر خطبہ دیا تو ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پڑھتے تھے۔“ اور کہا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان کو گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم ان میں گرہن دیکھو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي والحسن البصري مدلس وعنعن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1992).»
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ. قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. فَقَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آتِيَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ شَيْئًا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَأَنَّكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ:"إِنِّي رَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"بِكُفْرِهِنَّ"، قِيلَ: [ ص: 75 ] أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے لمبا قیام کیا، فرمایا: سورۃ البقرہ کی تلاوت کے برابر، فرمایا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر کھڑے ہوئے تو قیام بھی لمبا کیا لیکن پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا۔ پھر آخر کار سلام پھیر دیا تو (اس دوران) سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے اور نہ ہی زندگی سے، جب تم ان کو (گرہن میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھے اور پھر پیچھے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی یا مجھے دکھائی گئی، اور اس کا خوشہ توڑنا چاہا تھا، اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم دیکھی یا مجھے دکھائی گئی۔ اور میں نے اس سے بھیانک منظر نہیں دیکھا، میں نے اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کی کیا وجہ ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا اللہ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ فرمایا: ”شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کی وجہ سے۔ زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو، لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آگئی تو فوراً کہے گی، میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي والحسن البصري مدلس وعنعن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1992).»
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ الْقَمَرَ كُسِفَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا صَلَّيْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَقَالَ: إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا خَاسِفًا فَلْيَكُنْ فَزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ.
حسن بصری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ چاند گرہن ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بصرہ میں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نکلے اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، ہر رکعت میں دو رکوع کیے پھر سوار ہو کر ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: بے شک میں نے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا، اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں گرہن کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم ان میں کچھ بھی گرہن دیکھو تو تمہیں اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي والحسن البصري مدلس وعنعن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1992).»
حدیث نمبر: 551
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الشَّمْسَ كُسِفَتْ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَصَفْتُ صَلَاتَهُ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ سورج کو گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، انہوں نے بیان کیا کہ آپ کی نماز دو رکعتیں تھی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الكسوف، باب التعوذ من عذاب القبر في الكسوف، رقم: 1049، 1050 . ومسلم، الكسوف، باب ذكر عذاب القبر في الكسوف، رقم: (903).»
حدیث نمبر: 552
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الكسوف، باب الصدقة في الكسوف (1044) ومسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف (901).»
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثِلْهِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسَ عَشَرَ مِنْ كِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ وَالْقَسَامَةِ وَالْكُسُوفِ.
ایک اور سند سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق، اخرجه البخاري، الكسوف، باب الذكر في الكسوف (1059)، ومسلم، الكسوف، باب الذكر النداء بصلاة الكسوف ..... الخ (912).»