مسند الشافعی سے متعلقہ
1. بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ
جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، وَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے موافق ہو، اس پر عدل کے ساتھ قیمت لگائی جائے۔ اور تمام شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت (اسی کے مال سے) دے کر غلام کو اس کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا، ورنہ غلام کا جو حصہ آزاد ہو چکا وہ ہو چکا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى العتق باب اذا اعتق عبدًا بين اثنين أو امة بين الشركاء (2522)، 2523- ومسلم، العتق، باب من اعتق شر كاله في عبد (1501).»
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ أَوْ قِيمَةِ الْعَدْلِ لَيْسَتْ بِوَكْسٍ وَلَا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرَمُ لِهَذَا حِصَّتَهُ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام دو حصہ داروں کے درمیان مشترک ہو، اور ان دونوں میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو اس کی اعلیٰ قیمت یا انصاف والی قیمت لگائی جائے گی، جو نہ کم ہو اور نہ ہی زیادہ پھر اس حصے کا اس سے مال لیا جائے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين أو امة بين الشركاء (2521) ومسلم، الايمان، باب من أعتق شركا له فى عبد (1501 - بعد 1667).»
2. بَابُ الْعِتْقِ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ
مرض الموت میں غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: أَعْتَقَتِ امْرَأَةٌ أَوْ رَجُلٌ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهَا، وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَالٌ غَيْرُهُ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَهُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ ذَلِكَ فِي مَرَضِ الْمُعْتِقِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت یا ایک مرد نے اپنے چھ غلام آزاد کیے، جبکہ اس کا اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ اس معاملہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ثلث (یعنی دو) کو آزاد کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ آزاد کرنے والے کی اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں وہ فوت ہوا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه مسلم الایمان، باب من اعتق شركاله في عبد (1667).»
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمَالِيكَ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، أَوْ قَالَ: أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ مَمَالِيكَ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعَتْقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلاموں کو آزاد کر دیا، اور اس کا ان کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ یا فرمایا (راوی کو شک ہے کہ الفاظ یہ تھے کہ) اپنی موت کے وقت چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کے پاس ان کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، پھر ان غلاموں کو بلایا اور ان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے قرعہ اندازی کے ذریعے دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو غلام (ورثاء کی ملکیت) برقرار رکھا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1072).»
3. بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ولاء صرف اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1074
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ [ ص: 12 ] عَدَدْتُهَا، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى [ ص: 13 ] عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئی اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ قسط ادا کرنی ہے، لہذا آپ میری مدد کریں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اگر تیرے آقا یہ چاہتے ہیں کہ میں یہ مال ان کو دے دوں تو میں دینے کے لیے تیار ہوں، البتہ تیری آزادی کی نسبت میری طرف ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں اور ان سے یہ بات کہی تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس سے واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے کہا: ”میں نے ان کے سامنے یہ بات رکھی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۔“ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ساری بات پوچھی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”اس کو خرید لو اور ان کے لیے ولاء کی شرط لگا دو کیونکہ ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں؟ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ زیادہ سچا اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے اور بے شک ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا اشترط في البيع شروطا لا تحل (2168). مسلم، العتق، باب بيان أن الولاء عن أعتق (1504).»
حدیث نمبر: 1075
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ.
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الصلاة، باب ذكر البيع والشراء على المنبر في المسجد (456).»
حدیث نمبر: 1076
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث المطابق برقم (1064).»
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا. فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقاؤں نے کہا: ”ہم اس شرط پر آپ کو بیچتے ہیں کہ اس کی ولاء ہمارے لیے ہو۔“ تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روک دے، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا اشترط في البيع شروطا لا تحل (2169) ومسلم، العتق، باب بيان أن الولاء لمن اعتق (1504).»
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ لَمْ يَقُلْ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَلِكَ مُرْسَلٌ.
یحییٰ بن سعید نے عمرہ کے واسطہ سے (سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے کے بغیر مرسل بیان کیا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1075).»
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكَ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئی اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ چاندی، ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنے پر مکاتبت کی ہے، لہذا آپ میری مدد کریں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اگر تیرے آقا چاہیں تو میں یہ مال ان کو دینے کے لیے تیار ہوں، البتہ تیری ولاء میرے لیے ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں (پھر واپس آئیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے آکر کہا: ”میں نے یہ بات ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے انکار کر دیا مگر یہ کہ ولاء کی نسبت ان کی طرف ہو۔“ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتلائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لے لو اور ولاء کی شرط عائد کر لو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی بنیاد اللہ کی کتاب میں نہیں، جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ زیادہ سچا اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے اور بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1974).»