🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ مَا كَانَ مِنَ الطَّلَاقِ وَالرَّجْعَةِ
طلاق اور رجوع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ، فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا، ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمَئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ.
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اگرچہ وہ اسے ہزار مرتبہ طلاق دیتا تب بھی آدمی اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کر لیتا۔ پھر ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد مہلت دے دی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی، وہ اس سے رجوع کر لیتا پھر طلاق دے دیتا، اور وہ کہتا: اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے آزاد کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا، جس نے ان میں سے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذى الطلاق واللعان، باب نزول قوله ﴿الطلاق مرتان ...﴾ (1192) وقال ”صحیح“ والبيهقي: 7/ 444 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4425) وصححه الحاكم: (2/ 279).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَتِهِ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يُطَلِّقْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اور اگر وہ اسے ایک ہزار مرتبہ طلاق دیتا تو دوبارہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کر لیتا، اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی تو وہ پھر اس سے رجوع کر کے طلاق دے دیتا، پھر کہتا: اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے بالکل چھوڑوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: کہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا پھر اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں میں سے جس نے طلاق دی اور جس نے نہ دی سب نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم: (1277).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ الرَّجْعَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ
ایک اور دو طلاقوں میں رجوع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْبَتَّةَ، وَوَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً"، فَقَالَ رُكَانَةُ: مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ.
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ (قطعی علیحدگی) دے دی ہے، اور اللہ کی قسم میرا ایک ہی کا ارادہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تصدیق طلب کرتے ہوئے) فرمایا: اللہ کی قسم! کیا تیرا ایک ہی کا ارادہ تھا؟ تو رکانہ نے کہا: ہاں میرا ایک کا ہی ارادہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوبارہ ان کے پاس بھیج دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «ضعيف اخرجه البيهقي: 342/7، وفي المعرفة السنن والآثار له (4431).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْمُزَنِيَّةَ أَلْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ أَلْبَتَّةَ، وَوَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ:"وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟"، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ المزنیہ رضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتہ دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاقِ بتہ دے دی ہے، اور اللہ کی قسم، میرا ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے کہا: اللہ کی قسم! کیا تیرا ایک ہی کا ارادہ تھا؟، پھر رکانہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ایک ہی کا ارادہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکانہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹا دیا، پھر رکانہ نے اس کو دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ (خلافت) میں دی اور تیسری طلاق عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ (خلافت) میں دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداؤد،الطلاق، باب في البتة، (2206)، (2207) والترمذي، الطلاق، واللعان، باب ما جاء في الرجل يطلق امرأته البتة (1177) وقال سألت محمداً عن هذا الحديث فقال فيه اضطراب وابن ماجة، الطلاق، باب طلاق البتة (2051).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1281
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: فَقَرَأَ: وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا [النِّسَاءِ: 66] مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ تَبُتُّ.
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے مطلب بن حنطب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی، پھر وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو یہ بات ان سے عرض کی تو انہوں نے کہا: تو نے یہ کام کیوں کیا؟ مطلب کہتے ہیں میں نے کہا: بس میں نے یہ کام کر دیا، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے، تو یقیناً یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ مضبوطی والا ہو۔ (النساء: 66)۔ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے کہا: بس میں نے یہ کر دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: اپنی عورت کو اپنے پاس روک لے، بے شک یہ ایک ہی (طلاق) ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 7 / 343 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4433). وعبدالرزاق (11175). و ابن ابی شیبة (18130).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1282
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلتَّوْءَمَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ لِلْمُطَّلِبِ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس طرح مطلب کو کہا، اسی طرح ہی توامہ سے بھی کہا تھا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه، فان سليمان بن يسار لم يسمع من عمر بن الخطاب اخرجه البيهقي: 7 343- وفي المعرفة السنن والآثار له (4434)- وعبدالرزاق (11173).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، فِي الْوَاحِدَةِ وَالِاثْنَتَيْنِ.
ابن مسیب سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے تو وہ اس کے رجوع کا زیادہ حقدار ہے، یہاں تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل کرے، یہ رجوع پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1283]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 417/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4613) - وعبدالرزاق (10983)، (10984) وابن ابي شيبة (18894).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1284
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ فِي مَسْكَنِ [ ص: 115 ] حَفْصَةَ، وَكَانَ طَرِيقَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الْآخَرَ مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالسَّادِسَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور ان کا مسجد کا راستہ ادھر سے گزرتا تھا، اس کے بعد وہ گھروں کے پیچھے سے دوسرے راستے سے مسجد جاتے، اس بات کو ناپسند کرنے کی وجہ سے کہ کہیں وہ ان کے ہاں آ نہ جائے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1284]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقي 7/372 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4503) - وعبد الرزاق (11024).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْإِشْهَادِ عَلَى الرَّجْعَةِ
رجوع پر گواہ بنانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1285
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُشْهِدُ عَلَى رَجْعَتِهَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِذَلِكَ، قَالَ: هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرَّجْعَةِ.
علی رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق مروی ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کے ساتھ رجوع کرنے پر کسی کو گواہ بنایا جبکہ اس کی بیوی کو علم نہیں ہے۔ تو فرمایا: یہ عورت پہلے خاوند کے لیے ہے، دوسرے نے اس کے ساتھ صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1285]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 7/373- وفي المعرفة السنن والآثار له (4503) وابن ابي شيبة (18898).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ فِي تَمْلِيکِ الْمَرْأَةِ أَمْرَهَا
عورت کو اس کے معاملے کا اختیار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1286
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ [ ص: 116 ] يَقُولُ: إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ، فَيَقُولَ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَيَكُونُ أَمْلَكَ لَهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق کا مالک بنا دے، تو فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا سوائے اس کے کہ مرد اس کا انکار کرے اور کہے، میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا (یعنی اسے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا) اور وہ اس بات پر قسم بھی اٹھائے، اور وہ خاوند جب تک عورت عدت میں ہے اس کے بارے میں زیادہ اختیار والا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الرجعة /حدیث: 1286]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البیهقی: 348/7 . وفي المعرفة السنن والآثار له (4446) - وعبد الرزاق (11905)، (11906) - ومالك فى الموطأ، الطلاق، باب ما يبين من التمليك.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»