السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
256. (بَابُ نَفْيِ الْمُؤَاخَذَةِ بِوَسَاوِسِ الْقَلْبِ)
(دل کے وساوس پر مواخذہ کی نفی)
حدیث نمبر: 405
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَلا هَذِهِ الآيَةَ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 فَبَكَى، ثُمّ قَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ آخَذَنَا اللَّهُ بِهَا لَنَهْلَكَنَّ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْهَا حِينَ نَزَلَتْ مَا وَجَدَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَكَانَ حَدِيثُ النَّفْسِ مِمَّا لا يَمْلِكُهُ أَحَدٌ وَلا يَقْدِرُ عَلَيْهِ أَحَدٌ".
ابن مرجانہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی کہ: ”اگر تم دل میں کچھ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس پر حساب لے گا۔“ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رو پڑے کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمارا محاسبہ کیا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ رحم کرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر، جب یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں پر شاق گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو نیکی کرے وہ اس کے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔“ قول ہو یا عمل اور دل کے وساوس پر کسی کا کنٹرول نہیں نہ کسی کی قدرت ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «تفسیر طبری: 107,106/6، وقال ابن حجر، اخرج الطبرى باسناد صحيح، فتح البارى: 206/8 .»
حدیث نمبر: 405M
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لِلَّحَوَارِيِّينَ:" كَمَا تَرَكَ لَكُمُ الْمُلُوكُ الْحِكْمَةَ فَاتْرُكُوهُمْ وَالدُّنْيَا"، وَكَانَ خَلَفٌ يَقُولُ: يَنْبَغِي لِلنَّاسِ أَنْ يَتَعَلَّمُوا هَذِهِ الأَبْيَاتِ فِي الْفِتْنَةِ: الْحَرْبُ أَوَّلَ مَا تَكُونُ فَتِيَّةٌ تَسْعَى بِزِينَتِهَا لِكُلِّ جَهُولِ حَتَّى إِذَا اشْتَعَلَتْ وَشَبَّ ضِرَامُهَا وَلَّتْ عَجُوزًا غَيْرَ ذَاتِ حَلِيلِ شَمْطَاءَ جَزَّتْ رَأْسَهَا وَتَنَكَّرَتْ مَكْرُوهَةً لِلشَّمِّ وَالتَّقْبِيلِ.
0 [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 405M]
257. (بَابُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ)
(حالت روزہ میں بوسہ لینا)
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے عرض کیا، کیا میں آپ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے تھے انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا، اور تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «تقدم تخرجه، برقم: 298»
258. (بَابُ بَيْعِ السِّنِينَ وَالتَّخْفِيفِ فِي الْآفَاتِ)
(بیع سنین اور آفات میں تخفیف)
حدیث نمبر: 407
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ آفات سے نقصان پہنچ جانے کی صورت میں قیمت ساقط کر دی جائے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «تقدم تخرجه برقم: 197 .»
259. (بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِحِ وَالِاحْتِيَاطِ فِي الرِّوَايَةِ)
(وضع الجوائح اور روایت میں احتیاط)
حدیث نمبر: 408
قَالَ سُفْيَانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَدْ كَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ وَلا يَذْكُرُ فِيهِ:" وَضْعِ الْجَوَائِحِ" وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أتْرُكْ" وَضَعِ الْجَوَائِحِ" لأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ كَانَ كَلامٌ قَبْلَ" وَضَعِ الْجَوَائِحِ" لَمْ أَحْفَظْهُ.
سفیان رحمہ اللہ نے کہا ہمیں خبر دی ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ سفیان رحمہ اللہ یہ حدیث بیان کرتے تو وضع الجوائح کا ذکر نہ کرتے اور کہتے کہ یہ لفظ میں نے اس لیے نہیں چھوڑے کہ یہ اس حدیث میں نہیں تھے بلکہ «وضع الجوائح» سے قبل بھی کچھ الفاظ تھے جو مجھے یاد نہیں آرہے۔ (اس لیے اگلے بیان نہیں کرتا کیونکہ معنی کچھ باقی رہ جاتا ہے) [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «تقدم تخرجه، برقم: 198 .»
260. (بَابُ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ بَعْدَ التَّوْبَةِ)
(توبہ کے بعد قاذف کی شہادت)
حدیث نمبر: 409
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْقَاذِفِ لا تَجُوزُ، وَأَشْهَدُ لأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لأَبِي بَكْرَةَ:" تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ، أَوْ إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ". يُحَدِّثُ 25 بِهِ هَكَذَا مِرَارًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَكَكْتُ فِيهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي، فَلَمَّا قُمْتُ سَأَلْتُ، فَقَالَ لِي عُمَرُ وَحَضَرَ الْمَجْلِسَ مَعِي هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَشَكَكْتَ فِيهِ حِينَ أَخْبَرَكَ أَنَّهُ سَعِيدٌ؟ فَقَالَ: لا هُوَ كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ دَخَلَنِي الشَّكُّ. قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: عُمَرُ هَذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ أَخُو حُمَيْدِ بْنُ قَيْسٍ الَّذِي قَالَ عَنْهُ مَالِكٌ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ التَّنُّورِيُّ يُعْرَفُ عُمَرُ هَذَا بِسَنْدَلٍ.
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا کہہ رہے تھے کہ اہل عراق کا خیال ہے قاذف کی شہادت جائز نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو کہا تھا ”توبہ کر لو تو تمہاری شہادت قبول کر لی جائے گی“ یا کہا تھا کہ ”اگر تو نے توبہ کر لی تو میں تمہاری شہادت قبول کروں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ متعدد بار ایسے ہی بیان کرتے تھے پھر ایک دفعہ کہنے لگے کہ مجھے اس میں شک ہو گیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے فلاں نے خبر دی (پھر نام بھی لیا لیکن میں اس راوی کا نام یاد نہ کر سکا) تو میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو مجھے میرے کلاس فیلو عمرو بن قیس رحمہ اللہ نے کہا وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں تو سفیان رحمہ اللہ (پھر) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے نام میں شک نہیں کرتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني: 373,372/7، التلخيص الجير: 208/4، معاني الآثار للطحاوي: 153/4»
261. (بَابُ قَبُولِ الشَّهَادَةِ بَعْدَ حَدِّ الْقَذْفِ)
(حدِ قذف کے بعد قبولیتِ شہادت)
حدیث نمبر: 410
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" لَمَّا جَلْدَ الثَّلاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ کے ثقہ نے زہری رحمہ اللہ کے بارے میں بتایا کہ وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب تین آدمیوں کو کوڑے مارے تو اُن سے توبہ طلب کی تو دو نے توبہ کر لی تو اُن کی شہادت قبول ہونے لگی، ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا تو ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کو (آئندہ کے لیے) رد کر دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقي: 152/10، مصنف عبدالرزاق، رقم الحديث: 13564 .»
262. (بَابُ حُكْمِ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ التَّائِبِ)
(تائب قاذف کی گواہی کا حکم)
حدیث نمبر: 411
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، فِي الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ قَالَ: تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ وَقَالَ: كُلُّنَا نَقُولُهُ: عَطَاءٌ وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ. أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:" لَيْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يُجْبِرَ الرَّجُلَ عَلَى أَخْذِ الْوَدِيعَةِ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاذف (تہمت لگانے والا) اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی (بعد کے مقدمات میں) گواہی قابل قبول ہو گی یہی بات عطاء، طاؤس، مجاہد رحمہم اللہ بھی کہتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی وقت کسی کو کوئی چیز بطور امانت پاس رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقى: 153/10، مصنف عبدالرزاق: 383/7 .»
263. (بَابُ حَقِّ الرَّجْعَةِ فِي الطَّلَاقِ الرَّجْعِيِّ)
(طلاق رجعی میں رجوع کا حق)
حدیث نمبر: 412
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالاثْنَتَيْنِ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر آدمی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ عورت تیسرے حیض سے غسل کرے یہ حکم پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقي: 471/7 و مصنف عبدالرزاق: 315/6، سنن سعید بن منصور: 290/1 .»
264. (بَابُ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
(عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا موقف)
حدیث نمبر: 413
وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، مِثْلَهُ.
علقمہ رحمہ اللہ نے عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی یہی موقف نقل کیا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «سنن سعيد بن منصور: 290/1، السنن الكبرى للبيهقي: 417/7، مصنف عبد الرزاق: 316/6 .»