السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
355. (بَابُ حُكْمِ حَدِّ الزِّنَا)
(زنا کی شرعی سزا کا حکم)
حدیث نمبر: 522
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ خَصْمُهُ: وَكَانَ أفْقَهَ مِنْهُ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ، قَالَ:" قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِيَ كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ: الْمِائَةُ الشَّاةِ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا. قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَسِيفُ: الأَجِيرُ.
سیدنا زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ فرمائیں تو مخالف فریق جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس نے سچ کہا ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کریں، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ کہنے لگا میرا بیٹے اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا جس کے بدلے میں نے سو بکریاں اور غلام فدیہ دیا پھر اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا سو بکریاں اور غلام تجھے واپس ہوں گے، تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انیس! (رضی اللہ عنہ) جو بنی اسلم سے تھے جاؤ عورت کی طرف اگر اقرار جرم کرے تو رجم کر دینا۔“ سیدنا انیس رضی اللہ عنہ گئے اس عورت نے اقرار جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ”عسيف“ کا مطلب مزدور ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحدود، باب الاعتراف بالزنا، رقم: 6828، صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، رقم: 1698»
356. (بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ)
(یہودیوں کو رجم کرنے کا بیان)
حدیث نمبر: 523
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً، فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو (زنا کے کیس میں) رجم کیا تو میں نے دیکھا مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا ہوا تھا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، التوحید، باب ما یجوز من تفسیر ...... الخ، رقم: 7543، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1699»
357. (بَابُ ثُبُوتِ حَدِّ الرَّجْمِ)
(رجم کی سزا کا شرعی ثبوت)
حدیث نمبر: 524
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلا مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلے کے ایک آدمی اور ایک یہودی مرد و عورت کو رجم فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة من الزنی، رقم: 1703»
358. (بَابُ حُكْمِ الرَّجْمِ فِي التَّوْرَاةِ)
(تورات میں رجم کا حکم)
حدیث نمبر: 525
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟" قَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ،" فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یہو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا مقدمہ بیان کیا کہ اُن کے ایک آدمی اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟“ وہ کہنے لگے ہم انہیں رسواء کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں تو سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں بھی رجم کا حکم ہے پھر وہ تورات لائے جسے کھول کر بیٹھ گئے ایک یہودی نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر ماقبل اور مابعد کو پڑھ دیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”اپنا ہاتھ اٹھا“ تو اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا نیچے آیت رجم تھی وہ کہنے لگے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سچ کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں آیت رجم ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو رجم کیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے آدمی کو دیکھا عورت کے اوپر جھکا ہوا تھا اسے پتھروں سے بچاتا تھا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحدود، باب احکام اھل الذمة واحصانھم اذا الخ، رقم: 6841، صحیح مسلم، الحدود، باب یرجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1699»
359. (بَابُ عُقُوبَةِ الزِّنَا وَالْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِيهِ)
(زنا کی سزا اور شرعی فیصلہ)
حدیث نمبر: 526
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" تَكَلَّمْ"، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ: أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا. قَالَ مَالِكٌ: الْعَسِيفُ: الأَجِيرُ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اپنا کیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ایک نے کہا ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ فرمائیں اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کریں اور مجھے بولنے کی اجازت دیں اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس کی بیوی سے زنا کر بیٹھا ہے مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم ہے تو میں نے فدیہ کے طور پر سو بکریاں اور ایک لونڈی اداء کر دی ہے پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہے جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور تمہارے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، جو بکریاں اور لونڈی ہے وہ تجھے واپس ہوں گی، اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا سنائی جاتی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کی بیوی کے پاس جا اگر اعتراف جرم کرتی ہے تو اسے رجم کر دینا۔ اس عورت نے اعتراف جرم کیا تو اسے رجم کر دیا گیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”العسيف“ مزدور کو کہتے ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المحاربین من اھل الکفر، باب اذا رمی امراتہ أو امرأة غیرہ بالزنا، رقم: 6842، صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، رقم: 1698»
360. (بَابُ إِثْبَاتِ الزِّنَا بِأَرْبَعَةِ شُهُودٍ)
(ثبوتِ زنا کے لیے چار گواہ)
حدیث نمبر: 527
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟! قَالَ:" نَعَمْ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو زنا کرتے دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ دوں اور چار گواہ لے کر آؤں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، اللعان، باب، رقم: 1498»
361. (بَابُ حَدِّ الْأَمَةِ الزَّانِيَةِ وَحُكْمِهَا)
(زناکار لونڈی کی حد اور حکم)
حدیث نمبر: 528
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،، قَالُوا: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ جَارِيَتِيَ زَنَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِدْهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ".
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”میری لونڈی نے زنا کیا ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کوڑے مار اگر دوبارہ زنا کرے تو پھر کوڑے مار اگر تیسری بار پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مار اگر پھر زنا کرے تو اسے فروخت کر دے اگر چہ بعوض رسی ہی ہو۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العتق، باب کراہیۃ التطاول علی الرقیق، رقم: 2556، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1703»
362. (بَابُ حَدِّ الْأَمَةِ غَيْرِ الْمُحْصَنَةِ)
(غیر شادی شدہ لونڈی کی حد)
حدیث نمبر: 529
عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ، فَقَالَ:" إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے متعلق سوال ہوا کہ غیر شادی شدہ اگر زنا کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو پھر فروخت کر دو اگر چہ ایک رسی کے بدلے ہی فروخت ہو۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے رسی کے بدلے فروخت کرنے کا حکم تیسری دفعہ دیا یا چوتھی دفعہ زنا کرنے پر دیا اور «ضَفِير» رسی کو کہتے ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البیوع، باب بیع العبد الزانی، رقم: 2154، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود ..... الخ، رقم: 1703»
363. (بَابُ بَيَانِ نِصَابِ قَطْعِ الْيَدِ)
(ہاتھ کاٹنے کے نصاب کا بیان)
حدیث نمبر: 530
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصے یا اس سے اوپر میں کاٹا جائے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقة ونصابھا، رقم: 1684»
364. (بَابُ حَدِّ قَطْعِ الْيَدِ فِي السَّرِقَةِ)
(چوری پر ہاتھ کاٹنے کی حد)
حدیث نمبر: 531
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری کرنے پر جس کی قیمت تین درہم تھی چور کا ہاتھ کاٹا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الحدود/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحدود، باب قول اللہ تعالیٰ والسارق والسارقة ...... الخ، رقم: 6795، صحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقة ونصابھا، رقم: 1686»