🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
0. بَابُ:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4148
أخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث قال حدثنا محبوب - يعني ابن موسى - قال أنبأنا أبو إسحاق - هو الفزاري - عن سفيان عن قيس بن مسلم قال سألت الحسن بن محمد عن قوله عز وجل ‏{‏ واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه ‏}‏ قال هذا مفاتح كلام الله الدنيا والآخرة لله قال اختلفوا في هذين السهمين بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم سهم الرسول وسهم ذي القربى فقال قائل سهم الرسول صلى الله عليه وسلم للخليفة من بعده وقال قائل سهم ذي القربى لقرابة الرسول صلى الله عليه وسلم وقال قائل سهم ذي القربى لقرابة الخليفة فاجتمع رأيهم على أن جعلوا هذين السهمين في الخيل والعدة في سبيل الله فكانا في ذلك خلافة أبي بكر وعمر ‏.‏
قیس بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے آیت کریمہ: «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه‏» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ تو اللہ سے کلام کی ابتداء ہے جیسے کہا جاتا ہے دنیا اور آخرت اللہ کے لیے ہے، انہوں نے کہا: ان دونوں حصوں یعنی رسول اور ذی القربی کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوا، تو کہنے والوں میں سے کسی نے کہا کہ رسول کا حصہ ان کے بعد خلیفہ کا ہو گا، ایک جماعت نے کہا کہ ذی القربی کا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا ہو گا، دوسروں نے کہا: ذی القربی کا حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کا ہو گا۔ بالآخر ان کی رائیں اس پر متفق ہو گئیں کہ ان لوگوں نے ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور جہاد کی تیاری کے لیے طے کر دیا، یہ دونوں حصے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے زمانہ میں اسی کام کے لیے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4148]
حضرت قیس بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت حسن بن محمد سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] جان لو کہ تم جو بھی غنیمت حاصل کرو، اس کا خمس اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کے (مفہوم کے) بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا آغازِ کلام کا انداز ہے ورنہ دنیا اور آخرت سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ اور قرابت داروں کے دو حصوں میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ بعض نے کہا کہ آپ کے بعد آپ کا حصہ خلیفہ اور حاکمِ وقت کے لیے ہو گا۔ اسی طرح بعض نے کہا کہ رشتے داروں کا حصہ اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے لیے ہے۔ اور بعض نے کہا: اب رشتے داروں کا حصہ خلیفۂ وقت کے رشتے داروں کے لیے ہو گا، پھر بالآخر انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ یہ دونوں حصے جہاد کے لیے گھوڑے اور اسلحہ خریدنے میں خرچ کیے جائیں، چنانچہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں یہ دونوں حصے اسی مصرف میں خرچ ہوتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18579) (صحیح الإسناد مرسل)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مرسل
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4149
أخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث قال حدثنا محبوب قال أنبأنا أبو إسحاق عن موسى بن أبي عائشة قال سألت يحيى بن الجزار عن هذه الآية ‏{‏ واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ‏}‏ قال قلت كم كان للنبي صلى الله عليه وسلم من الخمس قال خمس الخمس ‏.‏
موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت: «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول» کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خمس میں سے کتنا حصہ ہوتا تھا: انہوں نے کہا: خمس کا خمس ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4149]
موسیٰ بن ابو عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] تم جان لو کہ جو بھی تم غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ کے (مفہوم کے) بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خمس میں کتنا حصہ تھا؟ انہوں نے کہا: خمس کا پانچواں حصہ۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19531) (صحیح الإسناد مرسل) (سند صحیح ہے، لیکن رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے صحابی کا تذکرہ سند میں نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ، کیونکہ خمس کا اکثر حصہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی کاموں میں خرچ کر دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مرسل
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4150
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ سورة الأنفال آية 41، قَالَ: قُلْتُ:" كَمْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ؟ قَالَ: خُمُسُ الْخُمُسِ".
مطرف کہتے ہیں کہ عامر شعبی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور آپ کے صفی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک مسلمان شخص کے حصے کی طرح ہوتا تھا۔ رہا «صفی» ۱؎ کے حصے کا معاملہ تو آپ کو اختیار ہوتا کہ غلام، لونڈی اور گھوڑے وغیرہ میں سے جسے چاہیں لے لیں۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4150]
حضرت مطرف رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور آپ کے «الصَّفِيُّ» (خاص حصے) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا (عام) حصہ تو ایک عام مسلمان آدمی کے حصے کے برابر تھا، البتہ صفی (خصوصی حصے) کے بارے میں آپ کو اختیار تھا کہ جو بھی پسندیدہ اور نفیس چیز آپ پسند فرماتے، لے سکتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج21(2991)، تحفة الأشراف: 18868) (صحیح الإسناد مرسل) (سند صحیح ہے، لیکن رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے صحابی کا تذکرہ سند میں نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: «صفی» مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مرسل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2991) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4151
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدَمٍ , قَالَ: كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَقْرَأُ , فَإِذَا فِيهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ، وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ , وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ، فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ".
یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا: میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: میں پڑھوں گا، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا: اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے: اگر یہ لوگ «لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں کی گواہی دیں اور کفار و مشرکین کا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے مال غنیمت میں سے خمس، نبی کے حصے اور ان کے «صفی» کا اقرار کریں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں رہیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4151]
حضرت یزید بن شخیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں (بصرہ کے محلہ) مربد میں حضرت مطرف رحمہ اللہ کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی آیا۔ اس کے پاس سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ کر دیا تھا۔ تم میں سے کوئی پڑھ سکتا ہے؟ میں نے کہا: میں پڑھ دیتا ہوں۔ اس میں لکھا تھا: یہ دستاویز نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کے لیے لکھی گئی ہے کہ اگر وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں کی گواہی دیں، مشرکین سے الگ تھلگ ہو جائیں اور اپنی حاصل کردہ غنیمتوں میں سے خمس (حکومت کو) دینے کا اقرار کریں، نیز وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام حصہ اور خصوصی حصہ (صفی) بھی ادا کریں تو (وہ بے خوف ہو کر رہیں)۔ ان کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پروانۂ امن حاصل ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 21 (2999)، (تحفة الأشراف: 15683)، مسند احمد (5/77، 78، 363) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: «صفی» مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4152
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" الْخُمُسُ الَّذِي لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَرَابَتِهِ لَا يَأْكُلُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسُ الْخُمُسِ , وَلِذِي قَرَابَتِهِ خُمُسُ الْخُمُسِ، وَلِلْيَتَامَى مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِلْمَسَاكِينِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِابْنِ السَّبِيلِ مِثْلُ ذَلِكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41 , وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّهِ سورة الأنفال آية 41 ابْتِدَاءُ كَلَامٍ لِأَنَّ الْأَشْيَاءَ كُلَّهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَعَلَّهُ، إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ , وَالْخُمُسِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ عَزَّ وَجَلَّ , لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ , فَيُجْعَلُ فِي الْكَعْبَةِ , وَهُوَ السَّهْمُ الَّذِي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَسَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِمَامِ , يَشْتَرِي الْكُرَاعَ مِنْهُ وَالسِّلَاحَ وَيُعْطِي مِنْهُ مَنْ رَأَى مِمَّنْ رَأَى فِيهِ غَنَاءً وَمَنْفَعَةً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ , وَمِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَالْعِلْمِ , وَالْفِقْهِ , وَالْقُرْآنِ , وَسَهْمٌ لِذِي الْقُرْبَى وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ , وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بَيْنَهُمُ الْغَنِيُّ مِنْهُمْ وَالْفَقِيرُ , وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ لِلْفَقِيرِ مِنْهُمْ دُونَ الْغَنِيِّ , كَالْيَتَامَى , وَابْنِ السَّبِيلِ، وَهُوَ أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ بِالصَّوَابِ عِنْدِي , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ , وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ، لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ ذَلِكَ لَهُمْ، وَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا خِلَافَ نَعْلَمُهُ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي رَجُلٍ لَوْ أَوْصَى بِثُلُثِهِ لِبَنِي فُلَانٍ أَنَّهُ بَيْنَهُمْ، وَأَنَّ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ إِذَا كَانُوا يُحْصَوْنَ فَهَكَذَا كُلُّ شَيْءٍ صُيِّرَ لِبَنِي فُلَانٍ، أَنَّهُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، إِلَّا أَنْ يُبَيِّنَ ذَلِكَ الْآمِرُ بِهِ , وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ , وَسَهْمٌ لِلْيَتَامَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَسَهْمٌ لِلْمَسَاكِينِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَسَهْمٌ لِابْنِ السَّبِيلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُمْ سَهْمُ مِسْكِينٍ , وَسَهْمُ ابْنِ السَّبِيلِ، وَقِيلَ لَهُ: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ , وَالْأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ يَقْسِمُهَا الْإِمَامُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ الْقِتَالَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْبَالِغِينَ".
مجاہد کہتے ہیں کہ (قرآن میں) جو خمس اللہ اور رسول کے لیے آیا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رشتہ داروں کے لیے تھا، وہ لوگ صدقہ و زکاۃ کے مال سے نہیں کھاتے تھے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خمس کا خمس تھا اور رشتہ داروں کے خمس کا خمس اور اتنا ہی یتیموں کے لیے، اتنا ہی فقراء و مساکین کے لیے اور اتنا ہی مسافروں کے لیے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں مال غنیمت سے ملے تو: اللہ کے لیے، رسول کے لیے، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے اس کا خمس ہے، اللہ کے اس فرمان «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» میں اللہ کا قول «لِلَّهِ» یعنی اللہ کے لیے ہے ابتدائے کلام کے طور پر ہے کیونکہ تمام چیزیں اللہ ہی کی ہیں اور مال فیٔ اور خمس کے سلسلے میں بات کی ابتداء بھی اس اپنے ذکر سے شاید اس لیے کی ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ درجے کی کمائی (روزی) ہے، اور صدقے کی اپنی طرف نسبت نہیں کی، اس لیے کہ وہ لوگوں کا میل (کچیل) ہے۔ واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ غنیمت کا کچھ مال لے کر کعبے میں لگایا جائے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے اور نبی کا حصہ امام کے لیے ہو گا جو اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے گا، اور اسی میں سے وہ ایسے لوگوں کو دے گا جن کو وہ مسلمانوں کے لیے مفید سمجھے گا جیسے اہل حدیث، اہل علم، اہل فقہ، اور اہل قرآن کے لیے، اور ذی القربی کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کا ہے، ان میں غنی (مالدار) اور فقیر سب برابر ہیں، ایک قول کے مطابق ان میں بھی غنی کے بجائے صرف فقیر کے لیے ہے جیسے یتیم، مسافر وغیرہ، دونوں اقوال میں مجھے یہی زیادہ صواب سے قریب معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم۔ اسی طرح چھوٹا، بڑا، مرد، عورت سب برابر ہوں گے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ان سب کے لیے رکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہی سب میں تقسیم کیا ہے، اور حدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہو، ہمیں اس سلسلے میں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا بھی علم نہیں ہے کہ ایک شخص اگر کسی کی اولاد کے لیے ایک تہائی کی وصیت کرے تو وہ ان سب میں تقسیم ہو گا اور مرد و عورت اس سلسلے میں سب برابر ہوں گے جب وہ شمار کئے جائیں گے، اسی طرح سے ہر وہ چیز جو کسی کی اولاد کے لیے دی گئی ہو تو وہ ان میں برابر ہو گی، سوائے اس کے کہ اس چیز کا حکم کرنے والا اس کی وضاحت کر دے۔ «واللہ ولی التوفیق» ۔ اور ایک حصہ مسلم یتیموں کے لیے اور ایک حصہ مسلم مساکین کے لیے اور ایک حصہ مسلم مسافروں کے لیے ہے۔ ان میں سے کسی کو مسکین کا حصہ اور مسافر کا حصہ نہیں دیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گا کہ ان (دو) میں سے جو چاہے لے لے اور بقیہ چار خمس کو امام ان بالغ مسلمانوں میں تقسیم کرے گا جو جنگ میں شریک ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4152]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ خمس جو اللہ تعالیٰ کے لیے اور ان کے رسول کے لیے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رشتے داروں کے لیے تھا کیونکہ وہ صدقہ نہیں لیتے تھے، لہٰذا خمس کا پانچواں حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا اور خمس کا ایک اور پانچواں حصہ آپ کے رشتہ داروں کے لیے تھا۔ یتیموں کے لیے بھی اسی قدر (پانچواں حصہ) تھا۔ مساکین کے لیے بھی (پانچواں حصہ) تھا۔ اور مسافروں کے لیے بھی پانچواں حصہ تھا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [سورة الأنفال: 41] تم جان لو کہ جو بھی تم غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانا «لِلّٰهِ» اللہ کے لیے یہ تو آغازِ کلام (تبرک) کے لیے ہے، کیونکہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے غنیمت اور خمس کے مسئلے میں اپنا ذکر پہلے اس لیے فرمایا ہو کہ یہ انتہائی عمدہ کمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صدقے کی نسبت اپنی طرف نہیں فرمائی کیونکہ یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غنیمت سے کچھ مال لے کر بیت اللہ پر صرف کیا جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ والا حصہ ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اب امامِ وقت، یعنی حاکمِ اعلیٰ کو ملے گا۔ وہ اس سے گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ خریدے گا اور جن کو وہ مناسب سمجھے، ان کو اس میں سے عطیات دے گا، مثلاً: جن لوگوں نے مسلمانوں کے لیے کوئی کارنامے سرانجام دیے ہوں اور جن سے مسلمانوں کا فائدہ ہو، محدثین، فقہاء، حفاظ اور دیگر اہل علم وغیرہ (بھی اس میں شامل ہیں)۔ قرابت داری کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم ہوگا، خواہ وہ مالدار ہوں یا فقیر۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں صرف فقراء کو ملے گا، اغنیاء کو نہیں، جیسے یتیموں اور مسافروں میں سے صرف فقراء کو ملتا ہے اور میرے نزدیک یہ قول زیادہ درست ہے، «وَاللہُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ چھوٹے بڑے، مرد اور عورت سب اس میں برابر ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حصہ ان کے لیے مقرر فرما دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تقسیم فرمایا۔ کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ نے ان میں سے کسی کو دوسرے سے زیادہ دیا ہو۔ (اس کی دلیل یہ ہے کہ) اگر کوئی شخص کسی خاندان کے لیے اپنی متروکہ جائیداد کے تیسرے حصے کی وصیت کر جائے تو علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ ان کے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ مذکر و مؤنث گنتی کے وقت ایک سے ہوں گے (یعنی کم و بیش نہیں دیا جائے گا)۔ اسی طرح جو بھی چیز کسی قبیلے کو دی جائے، وہ ان میں برابر تقسیم ہوتی ہے الا یہ کہ وضاحت کر دی جائے اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے حصے ان میں سے مسلمانوں کو ملیں گے (کافروں کو نہیں) اور ان میں سے کسی کو دو حصے نہیں دیے جائیں گے، مثلاً: مسکین کا بھی مسافر کا بھی (بلکہ ایک حصہ دیا جائے گا) اسے کہا جائے گا کہ ان میں سے جون سا چاہو لے لو۔ اور باقی چار حصے (یعنی خمس کے علاوہ غنیمت) امامِ وقت (حاکمِ اعلیٰ یا اس کا نمائندہ) جنگ میں حاضر ہونے والے بالغ مسلمانوں میں تقسیم کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19261) (ضعیف الإسناد مرسل) (خصیف اور شریک حافظے کے ضعیف راوی ہیں، نیز مجاہد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت میں صحابی کا ذکر نہیں کیا)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مرسل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، خصيف: ليس بالقوي،كما قال النسائي فى كتاب الضعفاء والمتروكين (177) وضعفه الجمهور (انظر سنن أبى داود: 266 بتحقيقي) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4153
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: جَاء الْعَبَّاسُ , وَعَلِيٌّ إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، فَقَالَ النَّاسُ: افْصِلْ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: لا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا , قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، قَالَ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ , وَجَعَلَ سَائِرَهُ سَبِيلَهُ سَبِيلَ الْمَالِ، ثُمَّ وَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعْتَ فِيهَا الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ، ثُمَّ أَتَيَانِي فَسَأَلَانِي، أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ , فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا , وَأَخَذْتُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمَا، ثُمَّ أَتَيَانِي يَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنَ ابْنِ أَخِي , وَيَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنِ امْرَأَتِي، وَإِنْ شَاءَا أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا، وَإِنْ أَبَيَا كُفِيَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41 هَذَا لِهَؤُلَاءِ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 60 هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6. قَالَ الزُّهْرِيُّ: هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً , قُرًى عَرَبِيَّةً فَدْكُ كَذَا وَكَذَا! فَـ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الحشر آية 7 وَ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ سورة الحشر آية 8 وَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ سورة الحشر آية 9 وَ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ سورة الحشر آية 10 فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الْآيَةُ النَّاسَ , فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ، أَوْ قَالَ: حَظٌّ , إِلَّا بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ وَلَئِنْ عِشْتُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقُّهُ، أَوْ قَالَ: حَظُّهُ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما جھگڑتے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئیے، لوگوں نے کہا: ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیجئیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا، انہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا ترکہ کسی کو نہیں ملتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: زہری ۱؎ نے (آگے روایت کرتے ہوئے اس طرح) کہا: (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب) اس مال کے ولی و نگراں رہے تو اس میں اپنے گھر والوں کے خرچ کے لیے لیتے اور باقی سارا اللہ کی راہ میں خرچ کرتے، پھر آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ متولی ہوئے اور ان کے بعد میں متولی ہوا، تو میں نے بھی اس میں وہی کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے، پھر یہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ اسے میں ان کے حوالے کر دوں کہ وہ اس میں اس طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جیسے ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور جیسے تم کرتے ہو، چنانچہ میں نے اسے ان دونوں کو دے دیا اور اس پر ان سے اقرار لے لیا، پھر اب یہ میرے پاس آئے ہیں، یہ کہتے ہیں: میرے بھتیجے کی طرف سے میرا حصہ مجھے دلائیے ۲؎ اور وہ کہتے ہیں: مجھے میرا حصہ بیوی کی طرف سے دلائیے ۳؎، اگر انہیں منظور ہو کہ میں وہ مال ان کے سپرد کر دوں اس شرط پر کہ یہ دونوں اس میں اسی طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور جیسے میں نے کیا تو میں ان کے حوالے کرتا ہوں، اور اگر انہیں (یہ شرط) منظور نہ ہو تو وہ گھر میں بیٹھیں ۴؎، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں: «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» جان لو جو کچھ تمہیں غنیمت میں ملے تو اس کا خمس اللہ کے لیے ہے، رسول کے لیے، ذی القربی، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے (الانفال: ۴۱)۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے «إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل اللہ‏» صدقات فقراء، مساکین، زکاۃ کا کام کرنے والے لوگوں، مؤلفۃ القلوب، غلاموں، قرض داروں اور مسافروں کے لیے ہیں (التوبہ: ۶۰)۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے «وما أفاء اللہ على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» اور ان کی طرف سے جو اللہ اپنے رسول کو لوٹائے تو جس پر تم نے گھوڑے دوڑائے اور زین کسے (الحشر: ۶)۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور وہ عربیہ کے چند گاؤں ہیں جیسے فدک وغیرہ۔ اور اسی طرح «ما أفاء اللہ على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، ‏ و، ‏ للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم، والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم، والذين جاءوا من بعدهم» جو اللہ گاؤں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹائے تو وہ اللہ کے لیے رسول کے لیے اور ذی القربی، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور ان فقراء مہاجرین لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے اموال سے نکال دیے گئے اور جنہوں نے الدار (مدینہ) کو اپنا جائے قیام بنایا اور ایمان لائے اس سے پہلے اور اس کے بعد (الحشر: ۷-۱۰)، اس آیت میں سبھی لوگ آ گئے ہیں، اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو، یا یہ کہا: حصہ نہ ہو، سوائے چند لوگوں کے جنہیں تم اپنا غلام بناتے ہو اور اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ہر ایک کو اس کا حق۔ یا کہا: اس کا نصیب مل کر رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4153]
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے اور اس (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے درمیان فیصلہ فرمایئے! حاضرین نے بھی کہا: ان کے درمیان ضرور فیصلہ فرمایئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میں ان کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا جبکہ انہیں علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (متنازعہ) زمینوں کے سرپرست اور متولی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اپنے اہل بیت کی خوراک لیتے اور باقی آمدن بیت المال میں رکھتے تھے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے سرپرست اور متولی بنے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں ان کا سرپرست اور متولی بنا اور میں نے ان میں وہی کچھ کیا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے، پھر یہ دونوں (حضرات علی و عباس رضی اللہ عنہما) میرے پاس آئے اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ یہ زمین ان کے سپرد کی جائے اس شرط پر کہ وہ اسی طریقے سے اس کا انتظام کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور میں کرتا رہا ہوں۔ میں نے اس شرط پر ان کو زمین دے دی اور ان سے عہد و پیمان لے لیا۔ پھر یہ دوبارہ میرے پاس آئے۔ یہ (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) کہتے تھے کہ اتنی زمین میرے انتظام میں دے دیجیے جو مجھے میرے بھتیجے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بطور وراثت ملتی، اور یہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کہتے تھے کہ اتنی زمین میرے انتظام میں دے دیجیے جو میری بیوی (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو وراثت میں ملتی۔ اگر تو یہ چاہیں کہ میں ان کو اس شرط پر زمین سپرد کر دوں کہ وہ اس میں اس طرح انتظام کریں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور میں کرتا رہا ہوں، پھر تو میں اس شرط پر زمین ان کے سپرد کرتا ہوں، ورنہ میں انتظام سنبھال لیتا ہوں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [سورة الأنفال: 41] تم جان لو کہ جو بھی تم غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، رشتے داروں (اہل بیت)، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ خمس تو ان کے لیے ہو گیا۔ ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [سورة التوبة: 60] بلاشبہ صدقات فقراء، مساکین، صدقات جمع کرنے والے ملازمین، مؤلفۃ القلوب، غلاموں، مقروضوں اور مجاہدین کے لیے ہیں۔ یہ (صدقات) ان کے لیے ہو گئے۔ ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] اور جو مالِ غنیمت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان (بنونضیر) سے عطا فرمایا ہے، اس کے لیے تم نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ حضرت زہری بیان کرتے ہیں کہ یہ زمینیں خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں۔ اسی طرح کچھ عربی بستیاں جیسے فدک وغیرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھیں۔ ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [سورة الحشر: 7] جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بستیوں سے دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اہل بیت، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ نیز ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 8] یہ ان فقراءِ مہاجرین کے لیے ہے جن کو ان کے گھر بار سے نکال دیا گیا اور ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9] ان انصار کے لیے جو دار الاسلام (مدینہ منورہ) کے رہنے والے ہیں اور مہاجرین کی آمد سے قبل ہی مسلمان ہو چکے تھے اور ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 10] ان لوگوں کے لیے بھی جو ان کے بعد آئے (یا آئیں گے)۔ یہ آیت تمام مسلمانوں کو شامل ہے، کسی مسلمان کو بھی باہر نہیں رہنے دیا، سب کا اس مال میں حق ہے، البتہ وہ غلام جو تمہاری ملکیت میں ہیں (ان کا کوئی حق نہیں)۔ اور اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ ہر مسلمان کو اس کا حق لازماً مل کے رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فرض الخمس 1 (3094)، المغازي 14 (4033)، النفقات 3 (5358)، الفرائض 3 (6728) إعتصام 5 (7305)، صحیح مسلم/الجہاد 5 (1757)، سنن ابی داود/الخراج 19 (2963)، سنن الترمذی/السیر 44 (1610)، (تحفة الأشراف: 10633) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مالک بن اوس سے اس حدیث کو روایت کرنے والے ایک راوی زہری بھی ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر: ۴۱۴۵ ۲؎: کیونکہ عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ۳؎: کیونکہ علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔ ۴؎: یعنی جس عہد و پیمان کے تحت یہ مال تمہیں دیا گیا ہے اسی پر اکتفا کرو مزید کسی مطالبہ کی قطعی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12