🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
دعا میں جلدی نہیں کرنی چاہئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
74- وبه: عن أبى عبيد عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”يستجاب لأحدكم ما لم يعجل فيقول: قد دعوت فلم يستجب لي.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک جلد بازی نہ کرے، یعنی یہ نہ کہے کہ میں نے دعا کی ہے لیکن قبول نہیں ہوئی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «74- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 213/1 ح 498، ك 15 ب 8 ح 29) التمهيد 296/10، الاستذكار: 467، و أخرجه البخاري (6340) ومسلم (2735) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دعا کرتے وقت ”اگر تو چاہے“ کہنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «336- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 213/1 ح 497، ك 15 ب 8 ح 28 نحوالمعنيٰ) التمهيد 49/19، الاستذكار: 466، و أخرجه البخاري (6339) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صفا اور مروہ پر دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 450
144- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا وقف على الصفا يكبر ثلاثا ويقول: ”لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير.“ يصنع ذلك ثلاث مرات ويدعو، ويصنع على المروة مثل ذلك.
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا پر کھڑے ہوتے تو تین دفعہ تکبیر (اللہ اکبر) کہتے اور فرماتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ. لَا شَرِيكَ لَهُ. لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.» ‏‏‏‏ ایک اللہ کے سوا کوئی الہٰ (معبود برحق) نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی حمد و ثنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمل تین دفعہ کرتے اور دعا فرماتے آپ مروہ (کی پہاڑی) پر بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «144- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 372/1 ح 847، ك 20 ب 41 ح 127) التمهيد 91/2، الاستذكار:795، و أخرجه النسائي (240/5 ح 2975) من حديث ابن القاسم عن مالك به ورواه مسلم (1218) من حديث جعفر بن محمد به .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بخار سے نجات کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 451
254- وبه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إن الحمى من فيح جهنم، فأطفؤها بالماء“، وكان ابن عمر يقول: اللهم أذهب عنا الرجز.
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کے سانس میں سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ساتھ ٹھندا کرو، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہم سے عذاب دور فرما۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: «254- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 945/2 ح 1825/2، ك 50 ب 6 ح 16/2 المرفوع فقط) الاستذكار:1761، أخرجه البخاري (5723) و مسلم (2207/79) من حديث مالك به المرفوع فقط ورواه الجوهري (704) عن ابن وهب عن مالك نحوه.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چڑھائی چڑھتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
227- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قفل من غزو أو حج أو عمرة يكبر على شرف من الأرض ثلاث تكبيرات، ثم يقول: ”لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون. صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد، حج یا عمرے سے واپس لوٹتے تو ہر اونچی زمین پر (چڑھتے ہوئے) تین تکبیریں کہتے پھر فرماتے:   «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ. لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ. وَنَصَرَ عَبْدَهُ. وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»  ایک اللہ کے سوا کوئی الہٰ (معبود برحق) نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی حمد و ثنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، واپس جا رہے ہیں، توبہ  کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے، اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے اللہ نے تمام گروہوں کو شکست دے دی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «227- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 421/1 ح 971، ك 20 ب 81 ح 243) التمهيد 241/15، الاستذكار:912، و أخرجه البخاري (1797) ومسلم (1344/428) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
معوذات کو بطور دم پڑھنا مسنون ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 453
42- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرأ على نفسه بالمعوذات وينفث. فلما اشتد وجعه كنت أقرأ عليه وأمسح عليه بيده رجاء بركتها.
اور اسی سند (کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو خود اپنے اوپر معوذات (سورة الاخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس) دم کر کے پھونک مارتے تھے۔ جب آپ کی بیماری زیادہ شدید ہو جاتی تو میں آپ پر دم کرتی اور آپ (کے جسد مبارک) پر برکت (حاصل کرنے) کے لئے آپ کا ہاتھ پھیرتی تھی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: «42- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 942/2، 943 ح 1819، ك 50 ب 4 ح 10) التمهيد 129/8، الاستذكار: 1819، و أخرجه البخاري (5016) ومسلم (2192/51) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«سبحان الله وبحمده» کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 454
431- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير فى يوم مئة مرة، كانت له عدل عشر رقاب وكتب الله له مئة حسنة ومحيت عنه مئة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك، حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من ذلك. ومن قال: سبحان الله وبحمده فى يوم مئة مرة، حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دن میں سو دفعہ  «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»  کہے تو اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اللہ اس کے لئے سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے سو گناہ (معاف کر کے) مٹا دئیے جاتے ہیں۔ یہ (کلمات) اس کے لئے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا  ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی آدمی اس سے افضل عمل والا نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ اور جس شخص نے دن میں سو مرتبہ  «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ»  پڑھا تو اس کے گناہ ختم (معاف) کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔  [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «431- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 209/1، 210 ح 490، ك 15 ب 7 ح 20) التمهيد 19/22، الاستذكار: 458، و أخرجه البخاري (3293) ومسلم (2691) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«لاإلٰه إلا الله وحده لاشريك له» کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 455
431- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير فى يوم مئة مرة، كانت له عدل عشر رقاب وكتب الله له مئة حسنة ومحيت عنه مئة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك، حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من ذلك. ومن قال: سبحان الله وبحمده فى يوم مئة مرة، حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دن میں سو دفعہ  «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»  کہے تو اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اللہ اس کے لئے سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے سو گناہ (معاف کر کے) مٹا دئیے جاتے ہیں۔ یہ (کلمات) اس کے لئے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا  ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی آدمی اس سے افضل عمل والا نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ اور جس شخص نے دن میں سو مرتبہ  «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ»  پڑھا تو اس کے گناہ ختم (معاف) کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔  [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «431- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 209/1، 210 ح 490، ك 15 ب 7 ح 20) التمهيد 19/22، الاستذكار: 458، و أخرجه البخاري (3293) ومسلم (2691) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» کی اہمیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 456
444- وبه: أن رجلا من أسلم قال: ما نمت هذه الليلة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من أى شيء؟“ فقال: لدغتني عقرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق، لم تضرك إن شاء الله.“
اسلم (قبیلے) کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ ایک رات میں سو نہ سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس وجہ سے؟ اس نے کہا: مجھے بچھونے کاٹا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ»  میں اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے جو اس نے پیدا کیا۔ پڑھتے تو ان شاءاللہ تجھے کوئی نقصان نہ ہوتا۔  [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «444- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 951/2 ح 1838، ك 51 ب 4 ح 11) التمهيد 241/21، الاستذكار: 1774، و أخرجه أحمد (375/2) والبخاري فى خلق افعال العباد (58) والنسائي (السنن الكبريٰ: 10425، عمل اليوم والليلة: 589) من حديث مالك به ورواه مسلم (2709/55) من حديث ابي صالح به نحو المعنيٰ .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«اعوذ بعزة الله و قدرته» پڑھنے سے بیماری کا علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 457
519- وعن يزيد بن خصيفة أن عمرو بن عبد الله بن كعب السلمي أخبره أن نافع بن جبير بن مطعم أخبره عن عثمان بن أبى العاص الثقفي أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عثمان: وبي وجع قد كاد يهلكني. قال: فقال لي: ”امسح بيمينك سبع مرات، وقل: أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد“ قال: ففعلت ذلك، فأذهب الله ما كان بي، فلم أزل آمر به أهلي وغيرهم.
سیدنا عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: مجھے ایسی تکلیف ہے جو قریب ہے کہ مجھے ہلاک کر دے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ (بیماری والی جگہ پر) پھیرو اور سات دفعہ کہو: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ، مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» میں اللہ کی عزت اور قدرت کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے میں پاتا ہوں۔، انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا کیا تو اللہ نے میری تکلیف دور فرما دی۔ میں مسلسل اپنے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «519- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 942/2 ح 1818، ك 50 ب4 ح 9) التمهيد 29/23، الاستذكار: 1753، و أخرجه أبوداود (3891) و الترمذي (2080) من حديث مالك به وقال الترمذي: ”هذا حديث حسن صحيح“ ورواه مسلم (2202) من حديث نافع بن جبير به، من رواية يحيي بن يحيي وجاء فى الأصل: ”عمر بن عبد الله۔۔۔“!»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12