🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اگر کسی کو گمشدہ چیز ملے تو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
163- مالك عن ربيعة عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني أنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن اللقطة، فقال: ”اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة، فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها.“ قال: فضالة الغنم؟ قال: لك أو لأخيك أو للذئب. قال: فضالة الإبل؟ قال: ”ما لك ولها، معها سقاؤها وحذاؤها، ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها.“
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور لقطے (گمشدہ چیز) کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی وغیرہ اور اس کے بندھے ہوئے دھاگے کو (اچھی طرح) پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر جب اس کا مالک آ جائے تو دے دو ورنہ اسے خود استعمال کر لو۔ اس نے پوچھا: اگر گمشدہ بکری مل جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لئے اور تیرے بھائی کے لئے ہے یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔ اس نے پوچھا: اگر گمشدہ اونٹ مل جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے کیا ہے؟ اس کا پانی اور چلنے والے جوتے اس کے پاس ہیں، وہ پانی پئے گا اور درختوں سے کھائے گا حتیٰ کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «163- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 757/2 ح 1520، ك 36 ب 38 ح 46) التمهيد 106/3، 107، الاستذكار:1449، و أخرجه البخاري (2429) ومسلم (1722) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں