شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
پیکر حسن و جمال کی تین صفات
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ وَهُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ، وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، فَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ"
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں کسی قدر باریک تھیں، آپ ہنستے نہ تھے صرف مسکراتے، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تو ایسے لگتا کہ آپ نے آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا ہے حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي: 3645 وقال: حسن صحيح غريب)، مسند احمد (105/5)، المستدرك للحاكم (606/2) وصححه فقال الذهبي: ”حجاج (بن أرطاة) لين الحديث“»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ حجاج بن ارطاۃ مدلس تھے اور یہ سند معنعن ہے۔
➋ حجاج بن ارطاۃ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہیں۔
تنبیہ: پتلی پنڈلیوں کے الفاظ کے علاوہ اس روایت کے شواہد ہیں لیکن اس متن کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہی ہے۔ دیکھئے انوار الصحیفہ (ص304)۔
«(سنن ترمذي: 3645 وقال: حسن صحيح غريب)، مسند احمد (105/5)، المستدرك للحاكم (606/2) وصححه فقال الذهبي: ”حجاج (بن أرطاة) لين الحديث“»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ حجاج بن ارطاۃ مدلس تھے اور یہ سند معنعن ہے۔
➋ حجاج بن ارطاۃ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہیں۔
تنبیہ: پتلی پنڈلیوں کے الفاظ کے علاوہ اس روایت کے شواہد ہیں لیکن اس متن کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہی ہے۔ دیکھئے انوار الصحیفہ (ص304)۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خندہ پیشانی
حدیث نمبر: 226
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا عبداللہ بن الحارث بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي: 3641 وقال: غريب)، مسند احمد (190/4 . 191)»
اس روایت کے راوی عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث اختلاط سے پہلے بیان کی، لیکن وہ مدلس تھے اور سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ نیز دیکھئے ح227
«(سنن ترمذي: 3641 وقال: غريب)، مسند احمد (190/4 . 191)»
اس روایت کے راوی عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث اختلاط سے پہلے بیان کی، لیکن وہ مدلس تھے اور سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ نیز دیکھئے ح227
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
تبسم ہی تبسم
حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَبَسُّمًا» قَالَ أَبُو عِيسَى: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ»
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ تھی (قہقہہ نہیں لگاتے تھے)۔ امام ابوعیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث لیث بن سعد کی حدیثوں سے غریب ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3642 وقال: صحيح غريب . . .)»
فائدہ: اگر اصول حدیث کی رو سے سند صحیح ہو تو غریب روایت بھی صحیح ہوتی ہے۔
«(سنن ترمذي: 3642 وقال: صحيح غريب . . .)»
فائدہ: اگر اصول حدیث کی رو سے سند صحیح ہو تو غریب روایت بھی صحیح ہوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسنا بھی اعلیٰ تھا
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَآخَرَ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَيُخَبَّأُ عَنْهُ كِبَارُهَا، فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا، وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِهَا فَيُقَالُ: أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلَهَا حَسَنَةً، فَيَقُولُ: إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا أَرَاهَا هَهُنَا" قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
سیدنا ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کو بخوبی جانتا ہوں جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا اور اس شخص کو بھی جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا۔ قیامت کے دن ایک شخص دربار الٰہی میں پیش کیا جائے گا تو کہا جائے گا کہ اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کرو، اور بڑے گناہ اس سے پوشیدہ رکھے جائیں، پھر کہا جائے گا، تو نے فلاں دن فلاں اور فلاں عمل کیے تھے؟ تو وہ ان اعمال کا اقرار کرے گا، انکار نہ کرے گا، اور وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے خوف زدہ ہو گا تو کہا جائے گا کہ اس کے ہر گناہ کے بدلے میں جو اس نے کیا ہے ایک نیکی دے دو۔ (جب یہ صورت حال دیکھے گا تو) وہ کہے گا: میرے کچھ اور گناہ بھی ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے دانت مبارک نظر آئے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«صحيح مسلم (190)، سنن ترمذي (2596) من حديث الأعمش به وقال: ”حسن صحيح“.»
«صحيح مسلم (190)، سنن ترمذي (2596) من حديث الأعمش به وقال: ”حسن صحيح“.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
خندہ پیشانی سے ملنا مسنون ہے
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ»
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے کبھی منع نہیں فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مجھے دیکھتے تو ہنس پڑتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3820 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (3822)، صحيح مسلم (2475)»
«(سنن ترمذي: 3820 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (3822)، صحيح مسلم (2475)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مجھے دیکھتے مسکراتے
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَآنِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے کبھی نہیں روکا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا تو مسکرا دیتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3821 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (3035)، صحيح مسلم (2475)»
«(سنن ترمذي: 3821 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (3035)، صحيح مسلم (2475)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
سب سے آخر میں جنت میں جانے والا کون ہے؟
حدیث نمبر: 231
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ" قَالَ:" فَيَذْهَبُ لِيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ، فَيَقُولُ: نَعَمْ" قَالَ:" فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ" قَالَ:" فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا " قَالَ:" فَيَقُولُ: تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ" قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً میں اس شخص کو بخوبی جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرینوں کے بل گھسیٹتا ہوا دوزخ سے نکلے گا، اس کو حکم ہو گا کہ جاؤ جنت میں چلے جاؤ۔“ کہتے ہیں کہ ”وہ شخص جنت میں داخل ہونے کے لیے جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ جنت میں سب لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔ وہ شخص لوٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے پروردگار! وہاں تو سب لوگوں نے اپنی اپنی جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو دنیا کے اس زمانے کو یاد کرتا ہے جس زمانے میں تو وہاں تھا (کہ دنیا کتنی بڑی تھی)؟ وہ عرض کرے گا: ہاں پروردگار! مجھے وہ وقت یاد ہے۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ کوئی آرزو کرو، پس وہ آرزو کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے کہ تمہیں تمہاری آرزو کے مطابق بھی دیا اور پوری دنیا سے دس گنا زیادہ بھی عطا کیا۔ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! کیا آپ میرے ساتھ دل لگی کرتے ہیں حالانکہ آپ بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی یہ بات بیان فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 2595 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (6571)، صحيح مسلم (186)»
«(سنن ترمذي: 2595 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (6571)، صحيح مسلم (186)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسکرانا
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا، أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] {وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] . ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ. فَقُلْتُ لَهُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ"
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک سواری کا جانور آپ کے لیے لایا گیا تاکہ آپ اس پر سوار ہوں، انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا اور جب سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو الحمد اللہ کہا پھر یہ دعا پڑھی: «سبحان الذي سخرلنا هذا وما كنا له مقرنين وانا الي ربنا لمنقلبون»، کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس کو مسخر کر دیا، ورنہ ہم اسے مسخر نہ کر سکتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ پھر تین مرتبہ الحمد اللہ، تین بار اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: «سبحانك اني ظلمت نفسي فاغفرلي فانه لا يغفر الذنوب الا انت»، کہ اے اللہ تو پاک ہے میں نے ہی اپنے آپ پر ظلم کیا مجھے معاف فرما دے، بلاشبہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرتا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرائے، میں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ مسکرائے کیوں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا انہوں نے بھی اسی طرح کیا تھا جیسا کہ میں نے کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے، تو میں نے بھی عرض کیا تھا، اللہ کے رسول! آپ مسکرائے کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تیرا رب اپنے بندے پر اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب، میرے گناہ معاف کر دے، تیرے سوا کوئی میرے گناہ معاف کرنے والا نہیں ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3446وقال: حسن صحيح)، سنن ابي داود (2602)»
امام ابواسحاق السبیعی نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔ [ديكهئے السنن الكبري للبيهقي 252/5]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ایسی علت کے ساتھ معلول قرار دیا جو علت قادحہ نہیں ہے، نیز اس حدیث کے شواہد بھی ہیں۔
«(سنن ترمذي: 3446وقال: حسن صحيح)، سنن ابي داود (2602)»
امام ابواسحاق السبیعی نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔ [ديكهئے السنن الكبري للبيهقي 252/5]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ایسی علت کے ساتھ معلول قرار دیا جو علت قادحہ نہیں ہے، نیز اس حدیث کے شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
غزوہ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکرانا
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ؟ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسٌ، وَكَانَ سَعْدٌ رَامِيًا، وَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ، فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ فَلَمْ يُخْطِئْ هَذِهِ مِنْهُ - يَعْنِي جَبْهَتَهُ - وَانْقَلَبَ الرَّجُلُ، وَشَالَ بِرِجْلِهِ: «فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ» . قَالَ: قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكَ؟ قَالَ: مِنْ فِعْلِهِ بِالرَّجُلِ
عامر بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خندق کے دن اتنا ہنسے کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں (عامر بن سعد کہتے ہیں) میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اتنا) کیوں ہنسے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ایک (کافر) آدمی کے پاس ڈھال تھی اور سعد اگرچہ بڑے تیرانداز تھے مگر وہ کافر اپنی ڈھال کو اِدھر اُدھر کر کے اپنا چہرہ بچا رہا تھا، پس سعد نے اپنی ترکش سے تیر نکالا، تو جونہی اس کافر نے اپنا سر اٹھایا تو سعد نے تیر فوراً چھوڑ دیا اور اب کہ یہ تیر خطا نہ ہوا اور سیدھا اس کی پیشانی پر لگا، اور وہ گر گیا اور اس کی ٹانگ اوپر اٹھ گئی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وجہ سے ہنسے؟ انہوں نے بتایا کہ سعد کے اس کام سے جو انہوں نے اس کافر سے کیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«مسند احمد (186/1)»
اس روایت کے راوی محمد بن محمد بن اسود کی توثیق معلوم نہیں اور باقی سند صحیح ہے، ابن عون سے مراد عبداللہ بن عون ہیں، یعنی یہ سند ابن الاسود مجہول الحال کی وجہ سے ضعیف ہے۔
«مسند احمد (186/1)»
اس روایت کے راوی محمد بن محمد بن اسود کی توثیق معلوم نہیں اور باقی سند صحیح ہے، ابن عون سے مراد عبداللہ بن عون ہیں، یعنی یہ سند ابن الاسود مجہول الحال کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف