شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نوافل گھر میں پڑھنا افضل ہے
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِي وَالصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: «قَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً»
حرام بن معاویہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں نفلی نماز پڑھنے اور مسجد میں نفلی نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا (کہ کہاں افضل ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد کے کتنا قریب ہے اور مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے مگر فرض نماز کا حکم اور ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب صلاة التطوع فى البيت/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: { «حسن» }:
«سنن ابن ماجه (1378)»
فائدہ: علاء بن الحارث سے معاویہ بن صالح کا سماع قبل از اختلاط ہے۔ واللہ اعلم
«سنن ابن ماجه (1378)»
فائدہ: علاء بن الحارث سے معاویہ بن صالح کا سماع قبل از اختلاط ہے۔ واللہ اعلم
قال الشيخ زبير على زئي:حسن