🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَخِي جُوَيْرِيَةَ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَتَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً»
ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی صحابی رسول سیدنا عمرو بن الحارث (المصطلقی) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کچھ اسلحہ، ایک خچر اور کچھ زمین چھوڑی تھی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کر دیا تھا۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح بخاري (3098)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ وراثت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ فَقَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نُورَثُ» ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور فرمانے لگیں: آپ کا وارث کون بنے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرے اہل اور اولاد۔ فرمانے لگیں: تو پھر میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ لیکن میں ان کی کفالت کروں گا جن کی کفالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور میں اس پر خرچ کروں گا جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کیا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده حسن» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 1608، وقال: حسن غريب)، مسند احمد (13/1)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی علیہ السلام کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، وَعَلِيًّا، جَاءَا إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَنْتَ كَذَا، أَنْتَ كَذَا، فَقَالَ عُمَرُ، لِطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدٍ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَسَمِعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ مَالِ نَبِيٍّ صَدَقَةٌ، إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ، إِنَّا لَا نُورَثُ؟» وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ
ابوالبختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سیدنا عباس اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہما دونوں اپنا جھگڑا لے کر امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، دونوں ہی ایک دوسرے پر بےنظمی کا الزام لگا رہے تھے کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد رضی اللہ عنہم سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: نبی کا تمام مال صدقہ ہوتا ہے مگر وہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل کو کھلا دیا۔ یقیناً ہم کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں ایک لمبا واقعہ بھی ہے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 402]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏حسن» ‏‏‏‏ }:
اس روایت کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ ابوالبختری رحمہ اللہ نے مذکورہ صحابہ میں سے کسی سے ملاقات نہیں کی۔
آنے والی حدیث (403) اور حدیث نمبر 405 اس کے صحیح شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ روایت بھی حسن یا صحیح ہے۔ نیز دیکھئے السلسلۃ الصحیحہ للشیخ الالبانی رحمہ اللہ (2038)
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
انبیائے کرام کسی کو وارث نہیں بناتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (انبیاء کی جماعت) کسی کو وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح بخاري (6730)، صحيح مسلم (1758)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
میرے ورثا میرے ترکہ میں درہم و دینار تقسیم نہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرے ورثاء درہم و دینار تقسیم نہ کریں میرے ترکہ میں سے میری بیویوں اور عامل کا خرچہ نکالنے کے بعد جو کچھ بچے وہ صدقہ ہے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح بخاري (3096)، صحيح مسلم (1760)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا فیصلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدٌ، وَجَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہاں سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم اجمعین بھی آ گئے۔ اتنے میں سیدنا علی المرتضی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما بھی آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے وہاں پہنچے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم (انبیاء کی جماعت) کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان حضرات نے جواب دیا، جی ہاں۔ اس حدیث میں ایک لمبا قصہ بھی مذکور ہے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح بخاري (3094)، صحيح مسلم (1757)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں کوئی درہم و دینار اور مویشی نہ تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا» قَالَ: «وَأَشُكُّ فِي الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا، نہ کوئی بکری اور نہ کوئی اونٹ چھوڑا، راوی کہتا ہے۔ مجھے غلام اور لونڈی کے بارے میں شک ہے۔ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى ميراث رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
اس روایت کی سند امام سفیان بن عیینہ مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم (1256) اور سنن ابن ماجہ (2695) وغیرہما میں اس کے صحیح شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں