🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ الْوُضُوءِ قَبْلَ الْغُسْلِ:
باب: اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے ہشام سے خبر دی، وہ اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 248]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، بعد ازاں اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے، پھر دونوں ہاتھوں سے تین چلو لے کر اپنے سر پر ڈالتے، اس کے بعد اپنے تمام جسم پر پانی بہاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ، وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ مِنَ الْأَذَى، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا هَذِهِ غُسْلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا اعمش سے روایت کر کے، وہ سالم ابن ابی الجعد سے، وہ کریب سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح ایک مرتبہ وضو کیا، البتہ پاؤں نہیں دھوئے۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں بھی نجاست لگ گئی تھی، اس کو دھویا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہا لیا۔ پھر پہلی جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں کو دھویا۔ آپ کا غسل جنابت اسی طرح ہوا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 249]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غسل کے وقت) اس طرح وضو فرمایا جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن پاؤں نہیں دھوئے، البتہ اپنی شرمگاہ کو اور جسم پر لگی ہوئی آلائش کو دھویا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہایا، اس کے بعد جائے غسل سے الگ ہو کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل جنابت تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ غُسْلِ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ:
باب: اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ قَدَحٍ، يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے اس برتن کو فرق کہا جاتا تھا۔ (نوٹ: فرق کے اندر 6.298 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ وہ برتن ایک بڑا پیالہ تھا جسے «فَرَق» کہا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ:
باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَبَهْزٌ، وَالْجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ: قَدْرِ صَاعٍ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں (ابوسلمہ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 251]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اسے اپنے سر پر بہایا، اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز (بن اسعد) اور (عبدالملک بن ابراہیم) جدی نے حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے قدرِ صاع کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ صَاعٌ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي، فَقَالَ جَابِرٌ:" كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا وَخَيْرٌ مِنْكَ"، ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے کہا ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد (جناب زین العابدین) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے۔ اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 252]
حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد گرامی، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، جبکہ ان کے ہاں اور لوگ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: تجھے ایک صاع کافی ہے۔ اس پر انہی لوگوں میں سے کسی نے کہا: مجھے تو کافی نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اتنا پانی تو اس ذاتِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال بھی تجھ سے زیادہ تھے اور وہ خود بھی تجھ سے بہتر تھے۔ پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑے میں ہماری امامت کرائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةَ كَانَا يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أَخِيرًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ.
ہم سے ابونعیم نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو کے واسطہ سے بیان کیا، وہ جابر بن زید سے، وہ عبداللہ بن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 253]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک ہی برتن سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ آخر عمر میں «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ» کہنے لگے تھے، لیکن صحیح الفاظ وہی ہیں جو ابونعیم رحمہ اللہ نے بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا:
باب: اس کے بارے میں جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 254
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا".
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے روایت کی ابواسحاق سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 254]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 254]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا".
محمد بن بشار نے ہم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مخول بن راشد کے واسطے سے، وہ محمد ابن علی سے، وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 255]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین بار پانی بہایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرُ: وَأَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: كَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقُلْتُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلَاثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، فَقَالَ لِي الْحَسَنُ: إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ، فَقُلْتُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا".
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر بن یحییٰ بن سام نے روایت کیا، کہا کہ ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر نے بیان کیا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے (ان کی مراد حسن بن محمد ابن حنفیہ سے تھی) آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ جنابت کے غسل کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو پانی لیتے اور ان کو اپنے سر پر بہاتے تھے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے تھے۔ حسن نے اس پر کہا کہ میں تو بہت بالوں والا آدمی ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 256]
حضرت ابوجعفر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے پاس تمہارے چچا زاد آئے تھے، ان کا اشارہ حسن بن محمد ابن حنفیہ کی طرف تھا، انہوں نے پوچھا: غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو لیتے اور انہیں اپنے سر پر بہاتے تھے، پھر اپنے تمام بدن پر پانی ڈالتے تھے۔ حسن نے کہا: میں تو بہت بالوں والا شخص ہوں۔ میں نے جواب دیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ الْغُسْلِ مَرَّةً وَاحِدَةً:
باب: اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً لِلْغُسْلِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے۔ پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر زمین پر ہاتھ رگڑا۔ اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 257]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، بعد ازاں کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں