🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ إِثْمِ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ:
باب: جس نے اپنے لونڈی غلام کو زنا کی جھوٹی تہمت لگائی اس کا گناہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2560-2
n
‏‏‏‏ (اس باب میں حدیث نہیں ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: Q2560-2]

1M. بَابُ الْمُكَاتَبِ وَنُجُومِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ نَجْمٌ:
باب: مکاتب اور اس کی قسطوں کا بیان، ہر سال میں ایک قسط کی ادائیگی لازم ہو گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2560
وَقَوْلِهِ: وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ سورة النور آية 33 وَقَالَ رَوْحٌ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" أَوَاجِبٌ عَلَيَّ إِذَا عَلِمْتُ لَهُ مَالًا أَنْ أُكَاتِبَهُ، قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا وَاجِبًا، وَقَالَهُ: عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: تَأْثُرُهُ عَنْ أَحَدٍ، قَالَ: لَا، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سِيرِينَ سَأَلَ أَنَسًا الْمُكَاتَبَةَ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ، فَأَبَى فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كَاتِبْهُ، فَأَبَى، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، وَيَتْلُو عُمَرُ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا، فَكَاتَبَهُ"
‏‏‏‏ اور (سورۃ النور میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ «والذين يبتغون الكتاب مما ملكت أيمانكم فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا وآتوهم من مال الله الذي آتاكم‏» تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو بھی مکاتبت کا معاملہ کرنا چاہیں۔ ان سے مکاتب کر لو، اگر ان کے اندر تم کوئی خیر پاؤ۔ (کہ وہ وعدہ پورا کر سکیں گے) اور انہیں اللہ کے اس مال میں سے مدد بھی دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ روح بن عبادہ نے ابن جریح رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا کیا اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میرے غلام کے پاس مال ہے اور وہ مکاتب بننا چاہتا ہے تو کیا مجھ پر واجب ہو جائے گا کہ میں اس سے مکاتبت کر لوں؟ انہوں نے کہا کہ میرا خیال تو یہی ہی کہ (ایسی حالت میں کتابت کا معاملہ) واجب ہو جائے گا۔ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا، کیا آپ اس سلسلے میں کسی سے روایت بھی بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ (پھر انہیں یاد آیا) اور مجھے انہوں نے خبر دی کہ موسیٰ بن انس نے انہیں خبر دی کہ سیرین (ابن سیرین رحمہ اللہ کے والد) نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتب ہونے کی درخواست کی۔ (یہ انس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے) جو مالدار بھی تھے۔ لیکن انس رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اس پر سیرین، عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے (انس رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ کتابت کا معاملہ کر لے۔ انہوں نے پھر بھی انکار کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں درے سے مارا، اور یہ آیت پڑھی «فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا‏» غلاموں میں اگر خیر دیکھو تو ان سے مکاتبت کر لو۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نے کتابت کا معاملہ کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: Q2560]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" إِنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أَوَاقٍ نُجِّمَتْ عَلَيْهَا فِي خَمْسِ سِنِينَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَنَفِسَتْ فِيهَا، أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأُعْتِقَكِ فَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَنَا الْوَلَاءُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
لیث نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اپنے مکاتبت کے معاملہ میں ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا کو پانچ اوقیہ چاندی پانچ سال کے اندر پانچ قسطوں میں ادا کرنی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، انہیں خود بریرہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کرانے میں دلچسپی ہو گئی تھی،(عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) کہ یہ بتاؤ اگر میں انہیں ایک ہی مرتبہ (چاندی کے یہ پانچ اوقیہ) ادا کر دوں تو کیا تمہارے مالک تمہیں میرے ہاتھ بیچ دیں گے؟ پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو جائے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کے آگے یہ صورت رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ صورت اس وقت منظور کر سکتے ہیں کہ رشتہ ولاء ہمارے ساتھ رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خرید کر بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دے، ولاء تو اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی جڑ (دلیل) بنیاد کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ شرط غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حق اور زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2560]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ان سے مکاتبت کے معاملے میں تعاون طلب کرتی تھیں۔ ان کے ذمے پانچ اوقیے چاندی تھی جو انہوں نے مکاتبت کے سلسلے میں پانچ سال میں ادا کرنی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کرانے میں دلچسپی پیدا ہو گئی تو انہوں نے اس سے فرمایا: اگر میں تمہاری اقساط یک مشت ادا کر دوں تو کیا تمہارے آقا تمہیں میرے ہاتھ بیچ دیں گے، پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تیری ولا بھی میرے لیے ہوگی؟ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں، ان کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا تو انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اس صورت میں قبول کر سکتے ہیں کہ ولا ہمارے پاس رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے یہ واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا: اسے خرید کر آزاد کر دو، ولا اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں؟ جو شخص ایسی شرط لگائے جو (جس کی اصل) اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ شرط باطل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ شرط ہی زیادہ صحیح اور زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ، وَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ:
باب: مکاتب سے کون سی شرطیں کرنا درست ہیں اور جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو (وہ شرط باطل ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2561
فِيهِ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: Q2561]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنٍ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي، فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنے معاملہ مکاتبت میں مدد لینے آئیں، ابھی انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ تو اپنے مالکوں کے پاس جا، اگر وہ یہ پسند کریں کہ تیرے معاملہ مکاتبت کی پوری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورت اپنے مالکوں کے سامنے رکھی لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) تمہارے ساتھ ثواب کی نیت سے یہ کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اختیار ہے، لیکن تمہاری ولاء تو ہمارے ہی ساتھ رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خرید کر انہیں آزاد کر دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو بھی کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے تو اس کو ایسی شرطیں لگانا لائق نہیں خواہ وہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگا لے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی سب سے زیادہ معقول اور مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2561]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنے معاملہ مکاتبت میں تعاون لینے کے لیے حاضر ہوئیں۔ ابھی تک انہوں نے اپنے بدلِ کتابت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: تم اپنے مالکان کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ بدلِ کتابت کی تمام (باقی ماندہ) رقم میں یکمشت ادا کر دوں اور تمہاری ولا میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ صورت اپنے مالکان کے سامنے رکھی تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ ثواب کی نیت سے ایسا کرنا چاہتی ہیں تو بلاشبہ کریں لیکن تیری ولا ہمارے لیے ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تو خرید کر اسے آزاد کر دے، ولا تو اسی کا حق ہے جو آزاد کرتا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: لوگوں کا عجیب حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے؟ جس نے ایسی شرط لگائی جو (یعنی جس کی اصل) کتاب اللہ میں نہ ہو وہ اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا اگرچہ ایسی شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی مبنی برحق اور زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً لِتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک باندی خرید کر اسے آزاد کرنا چاہا، اس باندی کے مالکوں نے کہا کہ اس شرط پر ہم معاملہ کر سکتے ہیں کہ ولاء ہمارے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ان کی اس شرط کی وجہ سے تم نہ رکو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2562]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکان نے کہا: وہ اس شرط پر اسے خرید سکتی ہیں کہ اس کی ولا کے ہم خود مالک ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شرط تمہیں خریدنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ ولا کا مالک تو وہی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ اسْتِعَانَةِ الْمُكَاتَبِ، وَسُؤَالِهِ النَّاسَ:
باب: اگر مکاتب دوسروں سے مدد چاہے اور لوگوں سے سوال کرے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ،" فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَأَيُّمَا شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَلِيَ الْوَلَاءُ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کا معاملہ کیا ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ مجھے ادا کرنا پڑے گا۔ آپ بھی میری مدد کریں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں انہیں (یہ ساری رقم) ایک ہی مرتبہ دے دوں اور پھر تمہیں آزاد کر دوں، تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میرے ساتھ ہو جائے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں تو انہوں نے اس صورت سے انکار کیا (واپس آ کر) انہوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی یہ صورت ان کے سامنے رکھی تھی لیکن وہ اسے صرف اس صورت میں قبول کرنے کو تیار ہیں کہ ولاء ان کے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں لے کر آزاد کر دے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا، تم میں سے کچھ لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے کہ (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو بھی شرط ایسی ہو جس کی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے۔ خواہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط ہے کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں، اے فلاں! آزاد تم کرو اور ولاء میرے ساتھ قائم رہے گی۔ ولاء تو صرف اسی کے ساتھ قائم ہو گی جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2563]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیے چاندی پر مکاتبت کا معاملہ کیا ہے۔ مجھے ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہوگا، لہذا آپ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے مالک پسند کریں تو میں انہیں یہ رقم یکمشت ادا کر کے تجھے آزاد کر دوں (تو) میں ایسا کر سکتی ہوں لیکن تیری ولا میرے لیے ہوگی، چنانچہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں تو انہوں نے اس صورت سے صاف انکار کر دیا مگر یہ کہ ولا ان کے لیے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ سنا تو مجھ سے دریافت کیا، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لے کر آزاد کر دو اور ان کے لیے ولا کی شرط کر لو۔ ولا تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» تم میں سے کچھ لوگوں کا عجیب حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل اللہ کی کتاب میں نہیں ہے؟ جس شرط کی اصل اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ ہی برحق اور اللہ کی شرط ہی مضبوط ہے۔ تم میں سے کچھ لوگوں کا عجیب حال ہے، وہ کہتے ہیں: اے فلاں! تو آزاد کر لیکن ولا میرے لیے ہوگی۔ ولا کا مالک تو وہی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ:
باب: جب مکاتب اپنے آپ کو بیچ ڈالنے پر راضی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2564
وَقَالَتْ عَائِشَةُ: هُوَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هُوَ عَبْدٌ إِنْ عَاشَ وَإِنْ مَاتَ وَإِنْ جَنَى مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مکاتب پر جب تک کچھ بھی مطالبہ باقی ہے وہ غلام ہی رہے گا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا، جب تک ایک درہم بھی باقی ہے (مکاتب آزاد نہیں ہو گا) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مکاتب پر جب تک کچھ بھی مطالبہ باقی ہے وہ اپنی زندگی موت اور جرم (سب) میں غلام ہی مانا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: Q2564]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،" أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ بَرِيرَةُ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی یحییٰ بن سعید سے، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ صورت پسند کریں کہ میں (مکاتبت کی ساری رقم) انہیں ایک ہی مرتبہ ادا کر دوں اور پھر تمہیں آزاد کر دوں تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (ہمیں اس صورت میں یہ منظور ہے کہ) تیری ولاء ہمارے ساتھ ہی قائم رہے۔ مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا کہ عمرہ کو یقین تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2564]
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد لینے کے لیے حاضر ہوئیں تو انہوں نے فرمایا: اگر تیرے مالک یہ پسند کریں کہ میں تیرا بدلِ کتابت انہیں یکمشت ادا کر دوں اور تجھے آزاد کر دوں تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے آقاؤں سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم ولا سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ سے بیان کیا کہ حضرت عمرہ رحمہا اللہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: تو اسے خرید کر آزاد کر دے، ولا تو اسی کی ہو گی جس نے آزاد کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ إِذَا قَالَ الْمُكَاتَبُ اشْتَرِنِي وَأَعْتِقْنِي. فَاشْتَرَاهُ لِذَلِكَ:
باب: اگر مکاتب کسی شخص سے کہے مجھ کو خرید کر آزاد کر دو اور وہ اسی غرض سے اسے خرید لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَيْمَنُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: كُنْتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَمَاتَ وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ المَخْزُومِيِّ، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ، فَقَالَتْ: دَخَلَتْ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتِ: اشْتَرِينِي وَأَعْتِقِينِي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لَا، يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِذَلِكَ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا، فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ، فَأَعْتَقَتْهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں پہلے عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا۔ ان کا جب انتقال ہوا تو ان کی اولاد میری وارث ہوئی۔ ان لوگوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی عمرو کو بیچ دیا اور ابن ابی عمرو نے مجھے آزاد کر دیا۔ لیکن (بیچتے وقت) عتبہ کے وارثوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگالی تھی (تو کیا یہ شرط صحیح ہے؟) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے یہاں آئی تھیں اور انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ خرید کر آزاد کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ایسا کر دوں گی (لیکن مالکوں سے بات چیت کے بعد) انہوں نے بتایا کہ وہ مجھے بیچنے پر صرف اس شرط کے ساتھ راضی ہیں کہ ولاء انہیں کے پاس رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنایا (عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا کہ) آپ کو اس کی اطلاع ملی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا، انہوں نے صورت حال کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو خرید کر آزاد کر دے اور مالکوں کو جو بھی شرط چاہیں لگانے دو۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ مالکوں نے چونکہ ولاء کی شرط رکھی تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع سے) خطاب فرمایا، ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ (اور جو آزاد نہ کریں) اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگا لیں (ولاء پھر بھی ان کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی)۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2565]
حضرت ایمن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے کہا: میں عتبہ بن ابو لہب کا غلام تھا، وہ مر گیا ہے اور اس کے بیٹے میرے وارث بنے ہیں۔ انہوں نے مجھے ابو عمرو (مخذومی) کے بیٹے کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے اور ابو عمرو کے بیٹے نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ اب عتبہ کے بیٹے میری ولا کی شرط لگاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (یہ مقدمہ سن کر) فرمایا: حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں جبکہ وہ مکاتبہ تھیں اور مجھ سے کہنے لگیں: مجھے خرید کر آزاد کر دیں۔ انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ٹھیک ہے میں یہ کرتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: وہ میری ولا کی شرط کے بغیر مجھے فروخت نہیں کریں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ از خود سنا، یا آپ کو خبر پہنچی تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ واقعہ دریافت کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو کچھ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، انہوں نے وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرید کر آزاد کر دو اور وہ جو بھی شرط لگاتے ہیں اس کی پروا نہ کرو۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں (حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو) خرید کر آزاد کر دیا۔ جب اس کے آقاؤں نے ولا کی شرط لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولا تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے اگرچہ وہ سو شرطیں لگائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المكاتب/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں