مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حج کی فرضیت اور کثرتِ سوال سے اجتناب
حدیث نمبر: 299
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَّا قُمْتُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، تو فرمایا: ”لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا: کیا ہر سال؟ حتیٰ کہ اس نے تین بار یہ کہا: جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اعراض فرماتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے بجا نہ لاتے۔“ پھر فرمایا: ”میں (جن امور میں) تمہیں چھوڑے رکھوں تو تم مجھے چھوڑے رکھو (مجھ سے سوال نہ کرو)، تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اپنے انبیاء علیہم السلام سے (کثرت سے) سوال کرنے اور ان سے اختلافات کرنے ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، میں کسی چیز کے متعلق تمہیں حکم دوں تو تم اسے مقدور بھر بجا لاؤ، اور میں جس چیز سے تمہیں منع کر دوں تم اس سے اجتناب کرو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحج، باب فرض الحج مرة فى العمر، رقم: 1337 . مسند احمد: 508/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 3704 .»
حدیث نمبر: 300
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جن امور میں تمہیں چھوڑے رکھوں تو تم مجھے چھوڑے رکھو (مجھ سے سوال نہ کرو)، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء علیہم السلام سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، پس میں کسی چیز کے متعلق تمہیں حکم دوں تو مقدور بھر اس پر عمل کرو اور جب کسی چیز کے بارے میں تمہیں منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحج، باب فرض الحج مرة فى العمر رقم: 1337 . سنن ترمذي، رقم: 2679 . مسند احمد، رقم: 7361»
سعی میں صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 301
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ , حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَيْبَةَ أَنَّهَا أَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَا يَقْطَعُ الْأَبْطَحَ إِلَّا الْأَشِدَّاءَ) ) .
شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کر رہی تھیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”ابطح (وادی) کو دوڑ کر ہی عبور کیا جا سکتا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب السعي بين الصفاء والمروة، رقم: 2987 . قال الشيخ الالباني صحيح . مسند احمد: 404/6 .»
حج کی فضیلت اور گناہوں سے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 302
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر (بیت اللہ) کا حج کیا اور اس نے کوئی فحش کام نہ کیا، نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا تو وہ گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح لوٹتا ہے جس طرح وہ اپنی پیدائش کے دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الحج، رقم: 1819 . مسلم، كتاب الحج، باب فى فضل الحج والممرة ويوم عرفة، رقم: 1350 . سنن ترمذي، رقم: 811 . سنن نسائي، رقم: 2627 .»
حدیث نمبر: 303
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ، قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ( (مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جس نے اس گھر کا حج کیا اور اس نے نہ کوئی فحش کام کیا، نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح اپنی پیدائش کے دن پاک تھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «بخاري: 1819 . مسلم: 1350 . سنن ترمذي: 811 . نسائي: 2627 .»
حدیث نمبر: 304
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا سَيَّارٌ وَهُوَ أَبُو الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ) .