سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب مَنْ أَحَبَّ الْوَصِيَّةَ وَمَنْ كَرِهَ:
جس کو وصیت کرنا پسند ہو یا ناپسند ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ دَرَاهِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ، كَالَّذِي يُهْدِي بَعْدَ مَا شَبِعَ".
ابوحبیبہ نے کہا: میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایک آدمی نے اپنے روپئے پیسے فی سبیل اللہ وقف کر دیئے ہوں اس کا کیا حکم ہے؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنہ نے فرمایا: ”جو آدمی اپنی موت کے وقت صدقہ کرتا ہے، یا آزادی دیتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو شکم سیر ہونے کے بعد ہدیہ دیتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3269] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3968] ، [ترمذي 2123] ، [نسائي 3644] ، [ابن حبان 3336] ، [موارد الظمآن 1219] ، [عبدالرزاق 16740]
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3968] ، [ترمذي 2123] ، [نسائي 3644] ، [ابن حبان 3336] ، [موارد الظمآن 1219] ، [عبدالرزاق 16740]
وضاحت: (تشریح احادیث 3255 سے 3258)
ان احادیث میں صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب ہے۔
صحیح متفق علیہ حدیث میں ہے: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا صدقہ اجر کے اعتبار سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ کرنا جب کہ تو تندرست و توانا ہو، مال کی حرص دل میں ہو، تجھے فقر کا اندیشہ ہو، تونگری کی امید ہو، اور تو صدقہ کرنے میں تأخیر نہ کر، یہاں تک کہ جب روح گلے تک پہنچ جائے تو کہے: فلاں کے لئے اتنا، فلاں کے لئے اتنا، جب کہ وہ فلاں (وارث) کے لئے ہو چکا۔
[بخاري: 1419] و [مسلم: 1032] ۔
معلوم ہوا صدقہ وہی افضل ہے جو انسان صحت کی حالت میں کرے، موت کے آثار شروع ہونے کے بعد صدقہ کرنا ویسے ہی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا: پیٹ بھرنے کے بعد باقی ماندہ کھانا کوئی خیرات کرے۔
نیز یہ کہ موت کے وقت آدمی ایک تہائی مال سے زیادہ صدقہ کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس وقت مال وارثوں کا حق بن جاتا ہے، جسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حد مقرر فرما دی کہ موت کے وقت کوئی اپنا مال صدقہ کرے تو وہ ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، اس لئے آدمی کو صدقہ کرنے میں تأخیر نہیں کرنی چاہیے۔
(حافظ صلاح الدین یوسف)۔
ان احادیث میں صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب ہے۔
صحیح متفق علیہ حدیث میں ہے: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا صدقہ اجر کے اعتبار سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ کرنا جب کہ تو تندرست و توانا ہو، مال کی حرص دل میں ہو، تجھے فقر کا اندیشہ ہو، تونگری کی امید ہو، اور تو صدقہ کرنے میں تأخیر نہ کر، یہاں تک کہ جب روح گلے تک پہنچ جائے تو کہے: فلاں کے لئے اتنا، فلاں کے لئے اتنا، جب کہ وہ فلاں (وارث) کے لئے ہو چکا۔
[بخاري: 1419] و [مسلم: 1032] ۔
معلوم ہوا صدقہ وہی افضل ہے جو انسان صحت کی حالت میں کرے، موت کے آثار شروع ہونے کے بعد صدقہ کرنا ویسے ہی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا: پیٹ بھرنے کے بعد باقی ماندہ کھانا کوئی خیرات کرے۔
نیز یہ کہ موت کے وقت آدمی ایک تہائی مال سے زیادہ صدقہ کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس وقت مال وارثوں کا حق بن جاتا ہے، جسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حد مقرر فرما دی کہ موت کے وقت کوئی اپنا مال صدقہ کرے تو وہ ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، اس لئے آدمی کو صدقہ کرنے میں تأخیر نہیں کرنی چاہیے۔
(حافظ صلاح الدین یوسف)۔
18. باب مَا يُبْدَأُ بِهِ مِنَ الْوَصَايَا:
وصیت کی تنفیذ میں ابتداء کس وصیت سے کریں
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَشْيَاءَ وَمِنْهَا الْعِتْقُ، فَيُجَاوِزُ الثُّلُثَ، قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: آدمی مختلف وصیتیں کرے جن میں سے غلام کو آزاد کرنا بھی ہو، اور وہ وصیت ثلث سے متجاوز ہو تو پہلے غلام آزاد کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3270] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10927] ، [ابن منصور 405]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10927] ، [ابن منصور 405]
حدیث نمبر: 3260
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: بِالْحِصَصِ.
محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے مروی ہے پہلےحصوں کی تقسیم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3271] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10928] ، [ابن منصور 403] ، [البيهقي 277/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10928] ، [ابن منصور 403] ، [البيهقي 277/6]
حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "مَنْ أَوْصَى أَوْ أَعْتَقَ، فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهِ عَوْلٌ، دَخَلَ الْعَوْلُ عَلَى أَهْلِ الْعَتَاقَةِ، وَأَهْلِ الْوَصِيَّةِ". قَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ غَلَبُونَا، يَبْدَءُونَ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلُ.
عطاء سے مروی ہے کوئی آدمی وصیت کرے اور (غلام) آزاد کرے اور اس کی وصیت میں عول ہو (یعنی حصص زیادہ ہوں) تو یہ عول آزادی اور وصیت والے سب لوگوں پر ہو گا۔ عطاء نے کہا: اہل مدینہ اس مسئلہ میں ہم پر غالب آ گئے، وہ آزادی سے ابتداء کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3272] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ معافیٰ: ابن عمران، اور عطاء: ابن ابی رباح ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10934] ، [عبدالرزاق 16748] ، [البيهقي 277/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ معافیٰ: ابن عمران، اور عطاء: ابن ابی رباح ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10934] ، [عبدالرزاق 16748] ، [البيهقي 277/6]
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ "فِي الَّذِي يُوصِي بِعِتْقٍ، وَغَيْرِهِ فَيَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، قَالَ: بِالْحِصَصِ".
عمرو بن دینار نے کہا: جو آدمی آزاد کرنے کی اور دیگر کوئی اور وصیت کرے جو ثلث سے زیادہ ہو تو (ثلث میں سے ہی) حصص تقسیم ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3273] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16748] ۔ ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16748] ۔ ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں۔
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ وَفِيهِ عِتْقٌ؟ قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جو آدمی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے جس میں برده (غلام) کی آزادی بھی ہو، انہوں نے کہا: آزادی مقدم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3274] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور تخریج اوپر (3261) میں گذر چکی ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور تخریج اوپر (3261) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: آزاد کرنے کو وصیت پر مقدم رکھاجائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3275] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10931] ، [ابن منصور 397، 402] ، [البيهقي 277/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10931] ، [ابن منصور 397، 402] ، [البيهقي 277/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3258 سے 3264)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ مختلف وصایا میں عتاق (آزادی) سب پر مقدم ہوگی، اس سے اسلام میں غلام آزاد کرنے کی زبردست ترغیب ہے، اور اس کا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
افریقہ میں اس وقت بھی غلامی کا دور ہے اور وہاں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ مختلف وصایا میں عتاق (آزادی) سب پر مقدم ہوگی، اس سے اسلام میں غلام آزاد کرنے کی زبردست ترغیب ہے، اور اس کا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
افریقہ میں اس وقت بھی غلامی کا دور ہے اور وہاں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
19. باب في الذي يُوصِي لِبَنِي فُلاَنٍ بِسْهَمٍ مِنْ مَالِهِ:
کوئی آدمی اپنے مال کے کچھ حصے کی کسی کے لئے وصیت کرے
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِبَنِي فُلَانٍ، قَالَ: غَنِيُّهُمْ وَفَقِيرُهُمْ وَذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ سَوَاءٌ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس وصیت میں مال دار، محتاج، مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔ یعنی سب کو ثلث میں سے برابر کا حصہ دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3276] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10803] ، [ابن منصور 366]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10803] ، [ابن منصور 366]
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ، فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس میں مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عمرو، [مكتبه الشامله نمبر: 3277] »
عمرو کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری حسن سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 365]
عمرو کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری حسن سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 365]
حدیث نمبر: 3267
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ مُوسَى الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ أَبِي كَرِبٍ:"أَنَّ آتِيًا أَتَى شُرَيْحًا، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ، قَالَ: تُحْسَبُ الْفَرِيضَةُ، فَمَا بَلَغَ سِهَامَهَا، أُعْطِيَ الْمُوصَى لَهُ سَهْمًا كَأَحَدِهَا".
سیار بن ابی کرب نے بیان کیا کہ ایک آدمی قاضی شریح کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا: کوئی آدمی اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیت کرے، تو انہوں نے کہا: یہ فریضہ میں شامل ہو گا، جتنے حصے ہوں اس میں سے ایک حصہ جس کے لئے وصیت کی ہے دیگر سہام کی طرح اس کو بھی دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3278] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10846] ، [ابن منصور 364] ۔ بعض نسخ میں «إن ثابتا آتی شريحا» ہے، جو تحریف ہے کیوں کہ مذکور بالا مصادر میں «إن آتيا» اور «إن رجلا آتی شريحا» کی صراحت ہے۔
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10846] ، [ابن منصور 364] ۔ بعض نسخ میں «إن ثابتا آتی شريحا» ہے، جو تحریف ہے کیوں کہ مذکور بالا مصادر میں «إن آتيا» اور «إن رجلا آتی شريحا» کی صراحت ہے۔