🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَكْبِيرَاتُ صَلَاةِ الجِنَازَةِ)
نماز جنازہ کی تکبیریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1653
1653 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا  فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے، جبکہ ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے بھی کہا کرتے تھے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (957/72) .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُنَّةُ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الجِنَازَةِ)
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1654
[ ص: 1197 ] 1654 - وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ  . فَقَالَ: لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے (بلند آواز سے) ﴿سورة الفاتحة﴾ پڑھی۔ بعد ازاں فرمایا: تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1335)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءٌ فِي صَلَاةِ الجِنَازَةِ)
نماز جنازہ کی ایک دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1655
1655 - وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ  ، وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ. قَالَ: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھی تو میں نے آپ کی دعا یاد کر لی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے معاف فرما، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما، اس کی قبر فراخ فرما، اس کے گناہ پانی، اولوں اور برف سے دھو ڈال، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا ہے، اسے اس کے (دنیا والے) گھر سے بہتر گھر (دنیا کے) اہل سے بہتر اہل (خادم وغیرہ) اور (دنیا کی) زوجہ سے بہتر زوجہ عطا فرما، اسے جنت میں داخل فرما اور عذابِ قبر نیز عذابِ جہنم سے محفوظ رکھ۔“ اور ایک روایت میں ہے: «وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ» ”اسے فتنۂ قبر اور عذابِ جہنم سے محفوظ فرما۔“ راوی بیان کرتے ہیں: (آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر دعائیں کیں) کہ میں نے تمنا کی کہ کاش! یہ میت میری ہوتی۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (963/85)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَازُ صَلَاةِ الجِنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ)
مسجد میں نماز جنازہ کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
1656 - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوَفِّي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: وَاللَّهِ، لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان کی نماز جنازہ پڑھ سکوں، لیکن ان کی یہ بات قبول نہ کی گئی، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں، سہیل اور اس کے بھائی رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (973/101)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَوْقِعُ الإِمَامِ فِي صَلَاةِ الجِنَازَةِ لِلْمَرْأَةِ)
عورت کی نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
1657 - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا  فَقَامَ وَسَطَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے، حالتِ نفاس میں فوت ہو جانے والی عورت کی، نمازِ جنازہ پڑھی، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے وسط میں کھڑے ہوئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1332) و مسلم (964/87)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَدَاءُ صَلَاةِ الجِنَازَةِ عَلَى الْقَبْرِ)
قبر پرنماز جنازہ ادا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
1658 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ لَيْلًا  فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَارِحَةَ. قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟ قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ. فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جہاں گزشتہ رات کسی کو دفن کیا گیا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے کب دفن کیا گیا؟“ صحابہ نے عرض کیا: گزشتہ رات، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے رات کی تاریکی میں اسے دفن کیا تھا، اس لیے ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، پس آپ کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1247) و مسلم (954/69)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي عَلَى الْقَبْرِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر پر نماز جنازہ پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
[ ص: 1200 ] 1659 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ. فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟ قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ. فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ. فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا  ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ، وَلَفْظُهُ لِمُسْلِمٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون، جو کہ مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں یا کوئی نوجوان تھا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے نہ دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں سوال کیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: وہ تو وفات پا چکا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا؟“ راوی بیان کرتے ہیں، گویا انہوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ انہوں نے بتا دیا تو آپ نے وہاں نماز جنازہ پڑھی، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ قبریں اپنے اصحاب پر اندھیروں سے بھری پڑی ہیں، اور بے شک اللہ میرے نماز جنازہ پڑھنے کے ذریعے انہیں منور فرما دیتا ہے۔“ بخاری، مسلم اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1337) و مسلم (956/71) واللفظ له.»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خَبَرُ الْمَغْفِرَةِ إِذَا كَانَ فِي الجِنَازَةِ أَرْبَعُونَ مُسْلِمًا)
جنازے پر اگر چالیس مسلمان ہوں تو مغفرت کی خبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
1660 - وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا  ، لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ قدید یا عسفان کے مقام پر ان کا بیٹا فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: کریب! دیکھو، اس کے (جنازے) کے لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، میں باہر آیا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے آپ کو بتایا تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے لے چلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان فوت ہو جائے اور پھر چالیس موحد (جو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے) اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں تو اللہ اس شخص کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (948/59)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَبُولُ شَفَاعَةِ مِئَةِ نَاسٍ فِي صَلَاةِ الجِنَازَةِ)
اگر سو آدمی نماز جنازہ میں ہو ں تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
[ ص: 1201 ] 1661 - وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ  إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر سو مسلمان جنازہ پڑھیں اور وہ تمام اس کے حق میں سفارش کریں تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (947/58)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شَهَادَةُ النَّاسِ صَالِحَةٌ فِي نِهَايَةِ الْمَيِّتِ)
لوگوں کی گواہی انجام میت میں معتبر ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
1662 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ. ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا. فَقَالَ: وَجَبَتْ. فَقَالَ عُمَرُ: مَا وَجَبَتْ. فَقَالَ: هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ. أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ  .
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھائی بیان کی، جس پر نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ پھر وہ دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی برائی بیان کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی اچھائی بیان کی تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ بخاری و مسلم، اور ایک روایت میں ہے: ”مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1367) و مسلم (949/60)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں