🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضْلُ رَمَضَانَ الْمُبَارَك)
رمضان المبارک کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1956
[ ص: 1360 ] كِتَابُ الصَّوْمِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1956 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ  "وَفِي رِوَايَةٍ:"فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ"، وَفِي رِوَايَةٍ:"فُتِحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے: جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1899) و مسلم (1079/2)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَابُ الرَّيَّانِ)
باب الریان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1957
1957 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، مِنْهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ  "مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازے کا نام الریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3257) و مسلم (166/ 1152)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شَرْطَانِ لِقَبُولِ الصِّيَامِ: ١. الإِيمَانُ ٢. الْاحْتِسَابُ)
روزے کی مقبولیت کی دو شرطیں 1۔ ایمان 2۔ احتساب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1958
1958 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا  غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا  غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا  غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے (نماز تراویح کا اہتمام کرے) تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے شب قدر کا قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (37) و مسلم (760/175)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الصِّيَامُ لِلَّهِ وَهُوَ الَّذِي يُجْزِي عَلَيْهِ)
روزہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور وہ ہی اس کا بدلہ دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1959
1959 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ"قَالَ اللَّهُ - تَعَالَى -"إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ  ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر نیک عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزے کے سوا، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، وہ اپنی خواہش اور اپنے کھانے کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک فرحت و خوشی تو اس کے افطار کے وقت ہے جبکہ ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہے، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، اور روزہ ڈھال ہے، جس روز تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش گوئی اور ہذیان سے اجتناب کرے، اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے لڑائی جھگڑا کرے تو وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1904) و مسلم (163. 164 /1151)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّيَالِي الْمُبَارَكَةُ لِرَمَضَانَ)
رمضان کی بابرکت راتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1960
الْفَصْلُ الثَّانِي 1960 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ  وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا، اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے: خیرو بھلائی کے طالب! آگے بڑھ، اور شر کے طالب! رک جا، اور اللہ کے لیے جہنم سے آزاد کردہ لوگ ہیں، اور ہر رات ایسے ہوتا ہے۔ سندہ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (682 وقال:’’ھذا حديث غريب‘‘ کما يأتي: 1961) و ابن ماجه (1642)
٭ الأعمش عنعن و الحديث الآتي (1961) يغني عنه.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّيَالِي الْمُبَارَكَةُ لِرَمَضَانَ، بِرِوَايَةِ أَحْمَدَ)
رمضان کی بابرکت راتیں، بروایت احمد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1961
1961 - وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ، قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
اور امام احمد نے اسے کسی صحابی سے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (311/4. 312 ح 18794 عن النبي ﷺ بلفظ: ’’في رمضان تفتح أبواب السماء و تغلق أبواب النار و يصفد فيه کل شيطان مريد و ينادي منادٍ کل ليلة: يا طالب الخير ھلمّ و يا طالب الشر أمسک.‘‘ وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1956)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضْلُ رَمَضَانَ وَلَيْلَةِ الْقَدْرِ)
رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1962
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1962 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَتَاكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ  ، فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہ مبارک رمضان تمہارے پاس آیا ہے، اللہ نے اس کا روزہ تم پر فرض کیا ہے، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین بند کر دیے جاتے ہیں، اس (ماہ) میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کی خیر و بھلائی سے محروم کر دیا گیا تو وہ (ہر خیر و بھلائی سے) محروم کر دیا گیا۔ صحیح، رواہ احمد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (230/2 ح 7418) والنسائي (129/4 ح 2108)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ)
روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن سفارش کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1963
1963 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ،  يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النُّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، فَيُشَفَّعَانِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن بندے کے لیے سفارش کریں گے، روزہ عرض کرے گا، رب جی! میں نے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے اسے روک رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن عرض کرے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما، ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ حسن، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البيھقي في شعب الإيمان (1994، نسخة محققة: 1839) [و أحمد (174/2) و صححه الحاکم علٰي شرط مسلم (554/1 ح 2036) ووافقه الذهبي وسنده حسن. ]
٭ ابن لھيعة لم ينفرد به، تابعه عبد الله بن وھب: أخبرني حي بن عبد الله به.»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْحِرْمَانُ مِنْ رَحْمَةِ رَمَضَانَ شَقَاءٌ كَبِيرٌ)
رمضان کی رحمت سے محرومی بڑی بدنصیبی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1964
1964 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شَهْرٍ  مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا كُلُّ مَحْرُومٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رمضان آیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ جو تمہارے پاس آیا ہے اس میں ایک رات ہے جو کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اور جو شخص اس سے محروم کر دیا گیا تو وہ ہر قسم کی خیر و بھلائی سے محروم کر دیا گیا اور اس کی خیر سے محروم شخص ہر قسم کی خیر و بھلائی سے محروم ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (1644)
٭ قتادة عنعن و لحديثه شاھد منقطع عند النسائي (2108) و مرسل عند عبد الرزاق (7383)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ شَعْبَانَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر شعبان میں خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1965
1965 - وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهَرٌ مُبَارَكٌ  ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنْ خِصَالِ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يُزَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يُعْطَى هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ  ، أَوْ تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ".
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شعبان کے آخری روز ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! ایک با برکت ماہ عظیم تم پر سایہ فگن ہوا ہے، اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ نے اس کا روزہ فرض اور رات کا قیام نفل قرار دیا ہے، جس نے اس میں کوئی نفل کام کیا تو وہ اس کے علاوہ باقی مہینوں میں فرض ادا کرنے والے کی طرح ہے اور جس نے اس میں فرض ادا کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اس کے علاوہ مہینوں میں ستر فرض ادا کیے، وہ ماہ صبر ہے جب کے صبر کا ثواب جنت ہے، وہ غم گساری کا مہینہ ہے، اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو اس میں کسی روزہ دار کو افطاری کرائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا اور جہنم سے آزادی کا سبب ہو گی اور اسے بھی اس (روزہ دار) کی مثل ثواب ملتا ہے اور اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم سب یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ ہم روزہ دار کو افطاری کرائیں، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرما دیتا ہے جو لسی ّ کے گھونٹ یا ایک کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے کسی روزہ دار کی افطاری کراتا ہے اور جو شخص کسی روزہ دار کو شکم سیر کر دیتا ہے تو اللہ اسے میرے حوض سے (پانی) پلائے گا تو اسے جنت میں داخل ہو جانے تک پیاس نہیں لگے گی اور وہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول (عشرہ) رحمت، اس کا وسط مغفرت اور اس کا آخر جہنم سے خلاصی ہے، اور جو شخص اس میں اپنے مملوک سے رعایت برتے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اسے جہنم سے آزاد کر دے گا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (3608) [و ابن خزيمة في صحيحه (191/3. 192ح 1887 وقال: إن صح الخبر]
٭ فيه علي بن زيد بن جدعان: ضعيف و له شاھد ضعيف جدًا عند ابن عدي (1157/3) و العقيلي (162/2) وغيرھما، فيه سلام بن سليمان بن سوار منکر الحديث و سلمة بن الصلت: ليس بالمعروف وقال العقيلي: لا أصل له.»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں