🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (هِدَايَاتُ التَّوَقِّي مِنَ البَذَاءَةِ)
بےحیاء سے بچنے کی ہدایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
3100 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ  ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ  ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”آدمی، آدمی کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ عورت، عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے، اور نہ ہی مرد، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ ہی عورت، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (238/74)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَرَامٌ التَّنَحِّي مَعَ غَيْرِ مَحْرَمٍ)
غیر محرم سے تنہائی حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
3101 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ  . إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے ہاں رات بسر نہ کرے مگر یہ کہ وہ (اس کا) شوہر ہو یا محرم ہو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2171/19)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدَّيُّوثُ هُوَ المَوْتُ)
دیور تو موت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
3102 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ  . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔“ کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دیور کے بارے میں بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دیور تو موت ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5232) و مسلم (2172/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الطَّبِيبُ)
طبیب کیسا ہونا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
3103 - عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پچھنے لگوانے کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوطیبہ کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں پچھنے لگائے، راوی بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ (ابوطیبہ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2206/72)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ النَّظَرِ إِلَى غَيْرِ مَحْرَمٍ)
نامحرم کی طرف دیکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
3104 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ  فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اچانک اٹھ جانے والی نظر کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ: ”میں اپنی نظر ہٹا لوں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2159/45)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَدْبِيرٌ لِلْحُصُولِ عَلَى العِفَّةِ)
پاک دامن کے حصول کی ایک تدبیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
3105 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ  وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ إِذَا أَحَدَكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں مڑتی ہے، جب کوئی عورت تم میں سے کسی کو بھلی لگے اور وہ اس کے دل میں گھر کر جائے تو وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے جماع کرے، کیونکہ یہ چیز (جماع) اس (گناہ کے خیال) کو دور کر دے گی جو اس کے دل میں ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1403/9)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رُؤْيَةُ مَنْ يُرَادُ النِّكَاحُ مِنْهُ)
جس سے نکاح کا ارادہ ہو اس کو دیکھ لیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
الْفَصْلُ الثَّانِي 3106 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغامِ نکاح بھیجے تو پھر اگر وہ اس سے داعیہ نکاح (عورت کی شکل و صورت وغیرہ) کو دیکھ سکے تو دیکھ لے۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ»، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2082)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رُؤْيَةُ الشَّخْصِ قَبْلَ إِرْسَالِ خِطْبَةِ النِّكَاحِ جَائِزٌ)
نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے دیکھنا ٹھیک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
3107 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا  ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو، کیونکہ وہ زیادہ مناسب ہے کہ تم دونوں کے درمیان محبت ڈال دی جائے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (246/4 ح 18335. 18336) والترمذي (1087 وقال: حسن) والنسائي (69/6. 70 ح 3237) و ابن ماجه (1865) والدارمي (134/2 ح 2178)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَا يَفْعَلُهُ فَوْرًا إِذَا رَأَى شَخْصًا)
کسی کو دیکھے تو فوری طور پر کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
3108 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ  فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی عورت کو دیکھا تو وہ آپ کو اچھی لگی، آپ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس کچھ عورتیں تھیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں علیحدہ کیا اور اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا: ”کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے خوش لگے تو وہ آدمی اپنی اہلیہ کے پاس آئے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس عورت کے پاس ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (146/2 ح 2221، نسخة محققة: 2261)
٭ و أبو إسحاق عنعن و عبد الله بن حلام: لا يعرف، مجھول الحال و ثقه ابن حبان وحده و حديث مسلم (1403) يغني عنه و فيه ’’أتي زينب‘‘ بدل ’’سودة‘‘ و ھو الصحيح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَصِيحَةُ الحِجَابِ)
پردے کی نصیحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3109
3109 - وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ  فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عورت پردہ ہے، جب وہ (بے پردہ) نکلتی ہے تو شیطان اسے مزین کر کے دکھاتا ہے۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (1173 و قال: حسن صحيح غريب)
٭ قتادة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں