🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (حَرَامٌ النِّكَاحُ مِنْ حَمَاةِ الخَالَةِ أَوِ الخَالَةِ)
پھوپھی ساس اور خالہ ساس سے نکاح حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3160
[ ص: 2076 ] بَابُ الْمُحَرَّمَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3160 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں اکٹھا نہ کیا جائے۔“ (یعنی پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی، ایک وقت میں ایک آدمی کی بیویاں نہیں ہو سکتیں) متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5109) و مسلم (1408/33)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُرْمَةُ عَلَاقَاتِ الرَّضَاعَةِ)
رضاعت والے رشتوں کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
3161 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5239)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الخَالُ الرَّضَاعِيُّ مَحْرَمٌ)
رضاعی چچا محرم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3162
3162 - وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ قَالَ: إِنَّهُ عَمَّكِ فَأْذَنِي لَهُ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میرے رضاعی چچا آئے، انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کر لوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے، لہذا اسے اجازت دے دو۔“ وہ بیان کرتی ہیں، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے، لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5239) و مسلم (1445/7)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُرْمَةُ الرَّضَاعَةِ كَحُرْمَةِ النَّسَبِ)
دودھ کی حرمت نسب کی طرح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3163
3163 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مَنِ الرَّضَاعَةِ وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں رغبت رکھتے ہیں؟ وہ قریش کی سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں، اور اللہ نے رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام کیے ہیں، جو اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیے ہیں“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1446/11)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسَائِلُ الرَّضَاعَةِ)
رضاعت کے مسائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3164
3164 - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ  .
ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1451/21)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا حُرْمَةَ بِرَضْعَةٍ أَوْ رَضْعَتَيْنِ)
ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3165
3165 - وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ أَوِ الْمَصَّتَانِ  .
اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے: ”ایک مرتبہ اور دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1450/17)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يَحْرُمُ النِّكَاحُ بِرَضْعَةٍ أَوْ رَضْعَتَيْنِ)
ایک بار یا دو بار دودھ پینے سے نکاح حرام نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3166
3166 - وَفِي أُخْرَى لِأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ أَوِ الْإِمْلَاجَتَانِ  . هَذِهِ رِوَايَاتٌ لِمُسْلِمٍ.
اور ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی دوسری حدیث میں ہے: ”ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع نہیں ہوتی۔“ تینوں روایات صحیح مسلم کی ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1451/18)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَمْ مَرَّةً مِنَ الرَّضَاعَةِ تُحَرِّمُ النِّكَاحَ)
کتنی بار دودھ پینے سے نکاح حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
3167 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع ہوتی ہے، پھر وہ حکم پانچ مرتبہ پینے کی قید کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس وقت وفات پائی تو اس وقت تک (پانچ مرتبہ دودھ پینے والی آیت) قرآن میں پڑھی جاتی تھی۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1452/24)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّضَاعَةُ هِيَ اللَّبَنُ الَّذِي يُشْبِعُ الجُوعَ)
رضاعت وہ دودھ ہے جو بھوک مٹا دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3168
3168 - وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَتْ: إِنَّهُ أَخِي فَقَالَ انْظُرْنَ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی تھا، گویا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ناپسند فرمایا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یہ تو میرا بھائی ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دیکھو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو صرف وہ دودھ ہے جسے بھوک دور کرنے کے لیے پیا گیا ہو۔“ (بچے کو صغر سنی کی عمر میں بھوک لگی ہو اور وہ کسی عورت کا دودھ پی لے) متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5102) ومسلم (1455/22)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا ثَبَتَتِ الرَّضَاعَةُ فَالانْفِصَالُ وَاجِبٌ)
رضاعت ثابت ہونے پر الگ ہونا ضروری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
3169 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ: وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا  ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ قَدْ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعْتَ صَاحِبَتُنَا، فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کر لی تو ایک عورت آئی، اس نے کہا: میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے (یعنی یہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں)۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے بتایا ہے۔ انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس کسی آدمی کو بھیجا تو اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں تو معلوم نہیں کہ اس نے ہماری اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے، وہ مدینہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(تم اس کے ساتھ) کس طرح (تعلق زن و شو قائم کر سکتے ہو) حالانکہ یہ کہہ دیا گیا (کہ تم اس کے رضاعی بھائی ہو)۔“ عقبہ رضی اللہ عنہ نے اسے الگ کر دیا اور اس نے ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2640)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں