🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَا هِيَ البَغَايَةُ عَلَى الحُكَّامِ)
حکمرانوں سے بغاوت کرنا کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3671
3671 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقْدَ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ: لَا مَا صَلَّوْا  لَا مَا صَلَّوْا أَيْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض افعال کو اچھا جانو گے اور بعض کو بُرا، جس نے انکار کیا تو وہ مداہنت و نفاق سے بری ہو گیا اور جس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہ (وبال سے) بچ گیا، لیکن جو راضی ہو گیا اور ان کے پیچھے لگا (تو وہ نفاق وبال میں شریک ہو گیا)۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں، نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔ یعنی جس نے اپنے دل سے ناپسند کیا اور اپنے دل سے انکار کیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3671]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (64، 63 /1854)»
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (64، 63 /1854)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ حُقُوقِ الأَمِيرِ وَالمَأْمُورِ)
امیر و مامور کے حقوق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3672
3672 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا  قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: تم عنقریب میرے بعد ترجیح دینے کو اور ایسے امور کو دیکھو گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کا حق انہیں دو اور اپنا حق اللہ سے طلب کرو۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7052) ومسلم (45 /1843)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانٌ أَكْثَرُ فِي طَاعَةِ الأُمَرَاءِ)
امراء کی مزید اطاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3673
3673 - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا  فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ; فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے بتائیں اگر ہم پر ایسے امراء مقرر ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے طلب کریں جبکہ ہمارے حق سے ہمیں محروم رکھیں تب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، جو ان کی ذمہ داری ہے وہ اس کے مکلّف ہیں، اور جو تمہاری ذمہ داری ہے تم اس کے ذمہ دار و مکلّف ہو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3673]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1856/49)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّتِيجَةُ النِّهَائِيَّةُ لِعَدَمِ طَاعَةِ الأَمِيرِ)
امیر کی اطاعت نہ کرنے کا آخری نتیجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3674
3674 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ  ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے (امیر کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ روزِ قیامت اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت و عذر نہیں ہو گا، اور جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کی گردن میں امیر کی بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی سی موت مرا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1851/58)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَيُسْأَلُ الحَاكِمُ عَنِ الرَّعِيَّةِ)
حاکم سے رعایا کی بابت سوال ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
3675 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فُوا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے امور کی سرپرستی و اصلاح انبیا ؑ کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو اس کے بعد ایک اور نبی آ جاتا جب کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور البتہ عنقریب بہت سے خلفاء ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم (ترتیب وار) پہلے اور پھر اس کے بعد والے کی بیعت پوری کرو، تم ان کا حق ادا کرو، کیونکہ اللہ ان سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنے والا ہے جو اس نے انہیں نگہبانی و حکمرانی عطا کی ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3455) و مسلم (1842/44)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ بَغْيِ الحَاكِمِ وَالبَغْيِ عَلَيْهِ)
باغی حاکم بغاوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3676
3676 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ  فَاقْتُلُوا الْآخِرَ مِنْهُمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3676]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1853/61)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ إِثَارَةِ الفُرْقَةِ بَيْنَ المُسْلِمِينَ)
مسلمانوں کے درمیان پھُوٹ ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3677
3677 - وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهُ سَيَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ  وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب مختلف قسم کے فسادات ہوں گے، جو شخص امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے تلوار کے ساتھ قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1852/59)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ مَنْ يُثِيرُ الفُرْقَةَ بَيْنَ المُسْلِمِينَ)
مسلمانوں کے درمیان پھُوٹ ڈالنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3678
3678 - وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص تمہارے پاس آئے، جبکہ تمہارا معاملہ شخصِ واحد پر مجتمع ہو، اور وہ شخص تمہاری قوت کو بکھیرنا یا تمہاری جمعیت کو منتشر کرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کر دو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1852/60)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ طَاعَةِ مَنْ بَايَعْتَهُ)
جس سے بیعت کی ہو اس کی فرمانبرداری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3679
3679 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی امام کی بیعت کر لے، اس کی اطاعت اختیار کر لے اور وہ اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ لگ جائے تو پھر وہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے، اور پھر اگر کوئی اور آ کر اس (امام اول یا بیعت کرنے والے) کو ہٹانے کی کوشش کرے تو پھر دوسرے کی گردن اڑا دو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1844/46)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يَكُونُ سُؤَالُ الإِمَارَةِ)
امارت کا سوال کرنا کیسا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3680
3680 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ   ; فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: امارت طلب نہ کرنا، کیونکہ اگر تمہاری خواہش پر وہ تمہیں دے دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے، اور اگر وہ تمہاری طلب و خواہش کے بغیر تمہیں عطا کی گئی تو پھر اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7146) و مسلم (1652/13)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں