🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَيْتَةُ الْبَحْرِ حَلَالٌ)
سمندر کا مردار حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
4114 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبْطِ، وَأُمِّرَ عَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا  لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ إِلَيْكُمْ، وَأَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ"قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ فَأَكَلَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے غزوۂ جیش الخبط میں شرکت کی، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمارے امیر مقرر کیے گئے، ہم شدید بھوک کا شکار ہو گئے تو سمندر نے ایک بہت بڑی مردہ مچھلی باہر پھینکی، ہم نے اس جیسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور اسے عنبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ہم نے اسے نصف ماہ تک کھایا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی پکڑی اور اونٹ سوار اس کے نیچے سے گزر گیا، جب ہم واپس گئے تو ہم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہاری طرف جو رزق نکالا ہے اسے کھاؤ اور اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں، ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے تناول فرمایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4362) ومسلم (1935/17)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا سَقَطَتْ ذُبَابَةٌ فِي شَيْءٍ يُؤْكَلُ)
اگر کھانے والی چیز میں مکھی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
4115 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ  أَحَدٍ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ ; فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الْآخَرِ دَاءً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اچھی طرح پانی میں غوطہ دے کر باہر پھینکے، کیونکہ اس کے دو میں سے ایک پر میں شفاء جبکہ دوسرے میں بیماری ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5782)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُقُوطُ فَأْرَةٍ فِي السَّمْنِ)
گھی میں چوہا گر جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
4116 - وَعَنْ مَيْمُونَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ  ، فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو پھینک دو اور بقیہ (گھی) کھا لو۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5538)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَاذَا إِذَا رُؤِيَتْ حَيَّةٌ؟)
سانپ اگر نظر آ جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
4117 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ  ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ"قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَهَا، نَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْهَا. فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. فَقَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، وَهُنَّ الْعَوَامِرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سانپوں کو قتل کرو اور خاص کر دو لکیروں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو، کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا تو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے مجھے آواز دی: اسے مت مارو، میں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے، انہوں نے کہا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والوں کو مارنے سے منع فرما دیا تھا، کیونکہ وہ ان (گھروں) کو آباد رکھنے والے ہیں۔ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3297) و مسلم (2233/128)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَكْلِ لَحْمِ الدَّجَاجِ)
مرغ کا گوشت کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4118
4118 - وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ، إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً فَنَظَرْنَا، فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ، فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُو سَعِيدٍ يُصَلِّي، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى"عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ"، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ. فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ، وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ، فَانْتَظَمَهَا بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا. فَقَالَ:"اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ"ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِذَا ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ"وَقَالَ لَهُمْ:"اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ". وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ:"إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ  ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے کوئی آہٹ سنی، ہم نے دیکھا کہ وہ ایک سانپ تھا، میں اسے قتل کرنے کے لیے جلدی سے اٹھا جبکہ ابوسعید رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں، چنانچہ میں بیٹھ گیا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ کمرہ دیکھ رہے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: اس کمرے میں ہمارا ایک نو بیاہتا نوجوان تھا، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے، وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت حاصل کر کے اپنی اہلیہ کے پاس آ جایا کرتا تھا، چنانچہ ایک روز اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ”اپنا اسلحہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے متعلق بنو قریظہ کا خطرہ ہے۔“ اس نے اپنا اسلحہ لیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا، (جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو) اس نے دیکھا کہ اس کی اہلیہ دروازے پر ہے، اس نے غیرت میں آ کر اس کی طرف نیزہ بڑھایا تاکہ وہ اسے مارے، اس نے اسے کہا: اپنا نیزہ روکیں اور کمرے میں جا کر دیکھیں کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے مجھے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کو کنڈل مارے زمین پر دیکھا تو اس نے نیزہ اس میں گھونپ دیا، پھر وہ باہر آ گیا اور اسے گھر میں گاڑ دیا، سانپ اس (نیزے) پر تڑپنے لگا، معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون مرا، سانپ یا وہ نوجوان؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا اور ہم نے عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اسے ہمارے لیے زندہ فرما دے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کے لیے مغفرت طلب کرو۔“ پھر فرمایا: ”ان گھروں کے کچھ مکین ہیں، جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو اسے تین بار گھر سے نکلنے پر مجبور کرو، اگر وہ چلا جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے مار دو، کیونکہ وہ کافر ہے۔“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں جِن ہیں، جو اسلام قبول کر چکے ہیں، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اسے تین روز خبردار کرو، پھر اگر اس کے بعد بھی ظاہر ہو تو اسے قتل کر دو، کیونکہ وہ تو شیطان ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2236/140)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَمْرُ قَتْلِ الْوَزَغِ)
گرگٹ کا مار ڈالنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4119
4119 - وَعَنْ أُمِّ شَرِيكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ  وَقَالَ:"كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گرگٹ مارنے کا حکم فرمایا، اور فرمایا: ”وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی گئی آگ بھڑکانے کے لیے پھونکیں مارتا تھا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3359) و مسلم (2237/142)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَكْلِ الْجَرَادِ)
ٹڈی کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4120
4120 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم فرمایا اور اس کا نام «فُوَيْسِقٌ» ”فویسق“ رکھا۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4120]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2238/144)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ قَتْلِ الْوَزَغِ)
گرگٹ مارنے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4121
4121 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ  ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ، وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پہلی ضرب میں گرگٹ مار دیا تو اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور دوسری چوٹ میں مارنے والے کے لیے اس سے کم اور تیسری میں اس سے کم (نیکی لکھی جاتی ہے)۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4121]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2240/147)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ قَتْلِ النَّمْلِ)
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4122
4122 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ  ، فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”چیونٹی نے کسی نبی علیہ السلام کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے مسکن کو جلا دینے کا حکم فرمایا تو اسے جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے ایک ایسی جماعت کو جلا دیا جو تسبیح کرتی تھی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3019) و مسلم (2241/148)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُقُوطُ فَأْرَةٍ فِي سَمْنٍ مُذَابٍ)
پگھلے ہوئے گھی میں اگر چوہا گر جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4123
الْفَصْلُ الثَّانِي 4123 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ  فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب چوہیا گھی میں گر جائے، اگر وہ جامد ہو تو اس (چوہیا) کو اور اس کے آس پاس والے گھی کو نکال کر پھینک دو، اور اگر وہ گھی مائع حالت میں ہو تو پھر اس کے قریب نہ جاؤ۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (232/2. 233 ح 7177) و أبو داود (3842)
٭ الزھري مدلس و عنعن، و معمر: خالفه الثقات فيه والحديث ضعفه البخاري والترمذي وغيرھما .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں