🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (رَغْبَةُ سَرِقَةِ السَّمْنِ)
گھی کی چوری کی خواہش
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4229
4229 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ"فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ:"فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟"قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ. قَالَ:"ارْفَعْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس گندم کے سفید آٹے کی روٹی ہو جو گھی اور دودھ سے گوندھ کر تیار کی گئی ہو۔“ صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھا اور وہ اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ (گھی) کس چیز میں تھا؟“ اس نے عرض کیا: سانڈھے کی جلد سے بنے ہوئے برتن میں تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ۔“ ابوداؤد، ابن ماجہ، اور ابوداؤد نے فرمایا: یہ حدیث منکر ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3818) و ابن ماجه (3341)
٭ فيه أيوب: ينظر فيه و لعله ابن خوط کما في النکت الظراف (75/9) و ھو متروک .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الثُّومِ النَّيِّئِ)
کچّا لہسن منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4230
4230 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”کچا لہسن کھانے سے منع فرمایا ہے مگر پکا ہوا (کھانے میں کچھ حرج نہیں)“۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4230]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1808 و ضعفه) و أبو داود (3828)
٭ فيه أبو إسحاق مدلس ومختلط و عنعن و لم يعلم تحديثه به قبل اختلاطه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ الْبَصَلِ الْمَطْبُوخِ)
پکی ہوئی پیاز کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4231
4231 - وَعَنْ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ الْبَصَلِ. فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوزیاد بیان کرتے ہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو آخری کھانا تناول فرمایا اس میں پیاز تھا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4231]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3829)
٭ خيار بن سلمة: لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِعْمَالُ التَّمْرِ مَعَ الزُّبْدِ)
کھجور اور مکھن کا استعمال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4232
4232 - وَعَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا  ، وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بسر کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کے سامنے مکھن اور کھجور پیش کی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکھن اور کھجور پسند فرمایا کرتے تھے۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ» ”اس کی سند صحیح ہے“، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3837)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا كَانَ الطَّعَامُ نَوْعًا وَاحِدًا فَلْيَأْكُلْ مِنْ أَمَامِهِ)
اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہو تو اپنے سامنے سے کھایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4233
4233 - وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ، فَخَبَطْتُ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا، وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِيَ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَالَ:"يَا عِكْرَاشُ! كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ ; فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ أَتَيْنَا بِطَبَقٍ فِي أَلْوَانِ التَّمْرِ، فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الطَّبَقَ، قَالَ:"يَا عِكْرَاشُ! كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ ; فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ"، ثُمَّ أَتَيْنَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ، وَقَالَ:"يَا عِكْرَاشُ! هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عکراش بن ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہمارے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور بوٹیاں تھیں، میں اس کے اطراف میں ہاتھ مار رہا تھا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سامنے سے تناول فرما رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ کھانا ایک ہی طرح کا ہے۔“ پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دست مبارک پورے طباق میں گھوم رہا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ کیونکہ وہ ایک قسم کی نہیں ہیں۔“ پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے ہاتھوں کی نمی اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر مل لی اور فرمایا: ”عکراش! یہ آگ سے پکی ہوئی چیز کا وضو ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4233]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1848)
٭ فيه العلاء بن الفضل: ضعيف، و ابن عکراش، قال البخاري: ’’لا يثبت حديثه‘‘.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْحَسَاءُ عِلَاجٌ لِلْهَمِّ)
حساء غم کا علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4234
4234 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ  ، وَكَانَ يَقُولُ:"إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادُ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ میں سے کسی کو بخار ہو جاتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو کا حریرہ بنانے کا حکم فرماتے، جب وہ بنایا جاتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں حکم فرماتے: ”اسے گھونٹ گھونٹ پیو“، نیز آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: ”یہ غم زدہ شخص کو قوت بخشتا ہے اور مریض کے دل کو فرحت بخشتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی خاتون پانی کے ذریعے اپنے چہرے سے میل دور کرتی ہے۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4234]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2039)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعَجْوَةُ أَفْضَلُ التَّمْرِ)
عجوہ افضل کھجور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4235
4235 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ  ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عجوہ جنت سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے، اور کھمبی مَن (من و سلویٰ) سے ہے، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعثِ شفا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4235]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2066 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ضِيَافَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4236
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4236 - عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ  ، فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، فَقَالَ:"مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟"قَالَ: وَكَانَ شَارِبَهُ وَفَاءً. فَقَالَ لِي:"أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ؟ - أَوْ -"قُصَّهُ عَلَى سِوَاكٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مہمان تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک پہلو (ران) کے متعلق حکم فرمایا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور اس کے ساتھ اس سے میرے لیے کاٹنے لگے، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے اطلاع دینے آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری پھینک دی اور فرمایا: ”اسے کیا ہوا؟ اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مونچھیں لمبی تھیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ دوں۔“ یا فرمایا: ”تم خود مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ لو۔“ (سندہ صحیح، رواہ الترمذی) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4236]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده صحيح، رواه الترمذي (في الشمائل: 165) [و أبو داود (188) و أحمد (252/4، 255) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُجُوبُ التَّسْمِيَةِ قَبْلَ الطَّعَامِ)
کھانے سے پہلے بسم اللہ ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4237
4237 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَضَعُ يَدَهُ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهَا، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ  ، وَإِنَّهُ جَاءَ هَذِهِ الْجَارِيَةُ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَجَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا. زَادَ فِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو ہم کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے جب تک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شروع نہیں فرماتے تھے اور آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے تھے، ایک مرتبہ ہم آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے تو ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلا جا رہا ہے، اس نے کھانے میں اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا، پھر ایک دیہاتی آیا وہ بھی اسی طرح تھا جیسے اسے دھکیلا جا رہا ہو، آپ نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس کھانے پر، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، دسترس حاصل کر لیتا ہے، وہ اس بچی کو لے کر آیا تاکہ وہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے، لیکن میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا، پھر وہ اس دیہاتی کو لایا تاکہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے، لیکن میں نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک اس (شیطان) کا ہاتھ، اس (بچی) کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔“ اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کا نام لیا اور کھایا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4237]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (3017/102)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَثْرَةُ الطَّعَامِ سَبَبٌ لِذَهَابِ الْبَرَكَةِ)
زیادہ کھانا بےبرکتی کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4238
4238 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ غُلَامًا فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرًا فَأَكَلَ الْغُلَامُ، فَأَكْثَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ كَثْرَةَ الْأَكْلِ شُؤْمٌ"وَأَمَرَ بِرَدِّهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام خریدنا چاہا تو آپ نے اس کے سامنے کھجوریں رکھیں، اس غلام نے بہت زیادہ کھجوریں کھا لیں تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک زیادہ کھانا بے برکتی ہے۔“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے واپس کرنے کا حکم فرمایا۔ (إسنادہ ضعیف جداً موضوع، رواہ البہیقی فی شعب الإیمان)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4238]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا موضوع، رواه البيھقي في شعب الإيمان (5661، نسخة محققة: 5273) [وابن عدي في الکامل (244/1) ]
٭ فيه أبو إسحاق الشيباني إبراھيم بن ھراسة: کذاب متھم .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں