مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ)
سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصّہ
حدیث نمبر: 4606
[ ص: 2913 ] كِتَابُ الرُّؤْيَا الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4606 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ "قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ:"الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نبوت میں صرف ”مبشرات“ باقی رہ گئے ہیں۔ “ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب۔ “ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4606]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6990)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْمُبَشِّرَاتُ لِلْمُؤْمِنِ)
مبشرات مؤمن
حدیث نمبر: 4607
4607 - وَزَادَ مَالِكٌ بِرِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ:"يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ".
امام مالک ؒ نے عطاء بن یسار کی روایت کے حوالے سے یہ اضافہ کیا ہے: ”(وہ خواب) جسے مسلمان شخص دیکھتا ہے، یا اس کی خاطر (کسی دوسرے شخص کو) دکھایا جاتا ہے۔ “ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4607]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ملک في الموطأ (957/2 ح 1848)
٭ السند مرسل و له شواھد، انظر الحديث السابق (4606) و طرقه .»
٭ السند مرسل و له شواھد، انظر الحديث السابق (4606) و طرقه .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ)
اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ
حدیث نمبر: 4608
4608 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6987) و مسلم (2264/7 ب)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الشَّيْطَانُ لَا يَتَمَثَّلُ بِصُورَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّؤْيَا)
شیطان حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں نہیں آ سکتا
حدیث نمبر: 4609
4609 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (110) و مسلم (2266/10)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي)
خواب میں مجھے دیکھنے والے نے مجھے ہی دیکھا
حدیث نمبر: 4610
4610 - وَعَنْ أَبَى قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے دیکھا تو اس نے حق (حقیقت میں مجھے) دیکھا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4610]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6996) و مسلم (11/ 2267)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ سَيَرَانِي فِي الْبَرْزَخِ)
خواب میں دیکھنے والا عالم برزخ میں دیکھ لے گا
حدیث نمبر: 4611
4611 - وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے عنقریب حالت بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6993) و مسلم (2266/11)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لَا يَنْبَغِي أَنْ تُحَدَّثَ الرُّؤْيَا لِكُلِّ أَحَدٍ)
خواب ہرکس و ناکس سے بیان نہیں کرنا چاہے
حدیث نمبر: 4612
4612 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ؟ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ، وَلْيَتْفُلْ ثَلَاثًا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہیں، جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اس کا اظہار اسی سے کرے جسے وہ پسند کرتا ہے، اور اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور تین بار (اپنی بائیں جانب) تھتکارے اور اس کے متعلق کسی سے بات نہ کرے، اس طرح وہ اس کے لیے مضر نہیں ہو گا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4612]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3292) و مسلم (2266/4)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَاذَا يَفْعَلُ مَنْ رَأَى رُؤْيَا سَيِّئَةً؟)
جب کوئی برا خواب دیکھے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4613
4613 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنے بائیں طرف تین بار تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور وہ جس پہلو پر تھا اسے بدل لے۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2262/5)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الرُّؤْيَا ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ)
خواب تین قسم کے ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 4614
4614 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ يَكَدْ يَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: وَأَنَا أَقُولُ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: حَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ، وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ. قَالَ: وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ، وَيُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ. وَيُقَالُ: الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب (قیامت کا) زمانہ قریب آ جائے گا تو قریب نہیں کہ مومن کا خواب جھوٹا ہو گا، مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اور جو چیز نبوت سے ہو وہ جھوٹی نہیں ہوتی۔ “ متفق علیہ۔ محمد بن سرین بیان کرتے ہیں، میں کہتا ہوں: خواب تین قسم کے ہیں: نفسیاتی خیال، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے بشارت۔ لہذا جو شخص کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے، اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ انہوں نے فرمایا: وہ خواب میں طوق دیکھنے کو ناپسند کرتے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں انہیں پسند تھیں، اور کہا جاتا ہے کہ بیڑیوں سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4614]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7017) و مسلم (2263/6)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ لَا تَكْذِبُ، بِرِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ)
مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں، بروایت بخاری
حدیث نمبر: 4615
4615 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَاهُ قَتَادَةُ وَيُونُسُ وَهُشَيْمٌ وَأَبُو هِلَالٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَالَ يُونُسُ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَيْدِ. وَقَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ؟. وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ:"وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ."إِلَى تَمَامِ الْكَلَامِ.
امام بخاری ؒ نے فرمایا: اسے قتادہ، یونس، ہشیم اور ابو ہلال نے ابن سرین کی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یونس نے کہا: میں فی القید کے الفاظ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے شمار کرتا ہوں۔ اور امام مسلم ؒ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ وہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں یا ابن سرین کے ہیں اور اسی مثل ایک روایت میں ہے اور اس نے ”آپ ناپسند کرتے طوق .....“ سے آخر حدیث تک کے الفاظ حدیث میں داخل کیے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4615]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، انظر الحديث السابق (4614)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه