مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ شَمَائِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
شمائل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان
حدیث نمبر: 5779
5779 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی کے بال گھنے تھے، کسی آدمی نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا اور رخِ انور گول تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے پاس مہرِ نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5779]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (109/ 2344)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (خَاتَمُ النُّبُوَّةِ)
مہر نبوت
حدیث نمبر: 5780
5780 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجَسَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا - ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى، جُمْعًا، عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی، یا کہا: ثرید کھائی، پھر میں گھوم کر آپ کی پچھلی جانب گیا اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت دیکھی، وہ بند مٹھی کی طرح تھی اس پر دو تل تھے، جیسے مسّے ہوں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5780]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (112/ 2346)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (شَفَقَةٌ عَلَى الأَطْفَالِ)
بچّوں پر شفقت
حدیث نمبر: 5781
5781 - وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: (ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ) فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ، فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ، فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: (أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي) وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: (يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سِنَاهْ) وَهِيَ بِالْحَبَشَةِ: حَسَنَةٌ. قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ ، فَزَبَرَنِي أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (دَعْهَا) : رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ان میں ایک چھوٹی سی کالی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» ”ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔“ اسے اٹھا کر لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے وہ چادر پکڑی اور اسے پہنا دی، اور فرمایا: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» ”تم اسے بو کرو اور تم اسے پرانا کرو، تم اسے بو کرو اور اسے پرانا کرو۔“ (دیر تک جیتی رہو) اس (چادر) میں سبز یا زرد رنگ کے نشانات تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «يَا أُمَّ خَالِدٍ، هَذَا سَنَاهْ» ”ام خالد! یہ سناہ ہے۔“ اور یہ (سناہ) حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی خوبصورت؟ وہ بیان کرتی ہیں، میں مہرِ نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «دَعْهَا» ”اسے چھوڑ دو۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5781]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3071)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ذِكْرُ قَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قد و قامت کا ذکر
حدیث نمبر: 5782
5782 - وَعَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ ، وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلَا بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ، قَالَ كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ سَبْطَ الْكَفَّيْنِ وَفِي أُخْرَى لَهُ، قَالَ: كَانَ شَثْنَ الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے، آپ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگریالے تھے نہ سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا، آپ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں بھی دس سال قیام فرمایا، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی اور (اس وقت) آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ ایک دوسری روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: آپ کا قد درمیانہ تھا نہ لمبا تھا اور نہ چھوٹا، کھلتا اور چمکتا ہوا رنگ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں کے نصف تک تھے، ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال دونوں کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اور پاؤں ضخیم تھے، میں نے آپ کے بعد یا پہلے آپ جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں، صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں اور ہاتھ موٹے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5782]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3548. 5900) و مسلم (113/ 2347) الرواية الثانية ا، رواھا البخاري (3547) والثانيةب، رواھا مسلم (2338/96) والثالثة، رواھا البخاري (5905) و مسلم (94/ 2338) والرابعة، رواھا البخاري (5910)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (حِلْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُبَارَكَةُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک
حدیث نمبر: 5783
5783 - وَعَنِ الْبَرَّاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ ، بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ.
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درمیانے قد کے تھے، آپ کی چھاتی کشادہ تھی، آپ کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے، میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے، میں نے کانوں کی لو تک بالوں والے اور سرخ جوڑے میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ کے کندھوں تک پہنچتے تھے، آپ کی چھاتی کشادہ تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ چھوٹے تھے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5783]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3551) و مسلم (92، 91 / 2337 و الرواية الثانية له)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُبَارَكُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک
حدیث نمبر: 5784
5784 - وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَلِيعَ الْفَمِ ، أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ، مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ. قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قِيلَ لَحْمُ الْعَقِبِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سماک بن حرب رحمہ اللہ، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم «ضَلِيعَ الْفَمِ»، «أَشْكَلَ الْعَيْنِ» اور «مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ» تھے۔ سماک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: «ضَلِيعُ الْفَمِ» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ”کشادہ چہرے والے“، پوچھا گیا: «أَشْكَلُ الْعَيْنِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بڑی اور طویل تھیں“، پھر پوچھا گیا: «مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑھیاں پتلی تھیں“۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5784]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (97/ 2339)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ
حدیث نمبر: 5785
5785 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ کی رنگت سرخی مائل سفید تھی اور آپ کا قد درمیانہ تھا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5785]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (99/ 2340)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَعْمِلِ الخِضَابَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال نہیں کیا
حدیث نمبر: 5786
5786 - وَعَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ - وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ.
ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: آپ کے بال اس قدر سفید نہیں تھے کہ انہیں خضاب کیا جاتا، اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا، تو گن سکتا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے: اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے سفید بال گننا چاہتا، تو گن سکتا تھا۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عنفقہ (نچلے ہونٹ اور تھوڑی کے درمیان) میں، آپ کی کن پٹیوں میں اور آپ کے سر میں چند سفید بال تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5786]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5895) و مسلم (104، 103 / 2341)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَفَّا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَرَقُهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پسینہ
حدیث نمبر: 5787
5787 - وَعَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت میں چمک دمک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو آگے کی طرف جھک کر چلتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، دیباج اور ریشم کو بھی نہیں پایا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدنِ اطہر سے زیادہ معطر، کستوری یا عنبر کی خوشبو نہیں سونگھی۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5787]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3561) و مسلم (82/ 2330)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عَرَقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُبَارَكُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک
حدیث نمبر: 5788
5788 - وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْتِيهَا، فَيَقِيلُ عِنْدَهَا. فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! مَا هَذَا؟"قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ:"أَصَبْتِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لایا کرتے اور وہیں قیلولہ فرمایا کرتے تھے، وہ چمڑے کی چٹائی بچھا دیتیں اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے، آپ کو پسینہ بہت آتا تھا، وہ آپ کا پسینہ جمع کر لیتیں اور پھر اسے خوشبو میں شامل کر لیتیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ کا پسینہ ہے، ہم اسے اپنی خوشبو کے ساتھ ملا لیتے ہیں، آپ کا پسینہ ایک بہترین خوشبو ہے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے لیے برکت حاصل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5788]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6281) و مسلم (85. 83 / 2331)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه