الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند الحميدي کل احادیث 1337 :حدیث نمبر
مسند الحميدي
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
1. حدیث نمبر 1
حدیث نمبر: 1
Save to word اعراب
اخبرنا سفيان بن عيينة ابو محمد، ثنا مسعر بن كدام، عن عثمان بن المغيرة الثقفي، عن علي بن ربيعة الوالبي، عن اسماء بن الحكم الفزاري: سمعت علي بن ابي طالب رضي الله عنه يقول: كنت إذا سمعت عن رسول الله صلي الله عليه وسلم حديثا نفعني الله عز وجل بما شاء ان ينفعني منه، وإذا حدثني غيره استحلفته فإذا حلف لي صدقته، فحدثني ابو بكر وصدق ابو بكر قال: سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: «ليس من عبد يذنب ذنبا فيقوم فيتوضا فيحسن الوضوء ثم يصلي ركعتين ثم يستغفر الله إلا غفر الله له» . قال سفيان وحدثنا عاصم، عن الحسن، عن النبي صلي الله عليه وسلم وزاد فيه إلا انه قال: «ويتبرر» يعني يصليأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنَفَعَنِي مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» . قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَيَتَبَرَّرُ» يَعْنِي يُصَلِّي
اسماء بن حکم بن فزاری بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے مطابق مجھے اس جو نفع دینا ہوتا تھا اللہ تعالیٰ مجھے وہ نفع دے دیتا تھا، اور جب کوئی دوسرا شخص مجھے کوئی حدیث سناتا تھا، تو میں اس سے حلف لیتا تھا، جب وہ میرے سامنے حلف اٹھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کر دیتا تھا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث سنائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے سچ بیان کیا، وہ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جو بھی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر اٹھ کر وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز ادا کرے، پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے۔
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ اس کی مانند منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص نیکی حاصل کرنے کی کوشش کرے (راوی کہتے ہیں:) یعنی وہ نماز ادا کرے۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 623، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10175، 10176، 10177، 10178، 11012، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1521، والترمذي فى «جامعه» برقم: 406، 3006، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1395وأبو يعلى فى مسنده برقم: 1، 11، 12، 13، 14،15، وأحمد فى مسنده برقم: 2، 48، 49، 57»
2. حدیث نمبر 2
حدیث نمبر: 2
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي قال: ثنا الوليد بن مسلم الدمشقي سمعت عبد الرحمن بن يزيد بن جابر يقول: سمعت سليم بن عامر يقول: سمعت اوسط البجلي وهو علي منبر حمص يقول: سمعت ابا بكر الصديق يقول وهو علي منبر رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم ثم خنقته العبرة ثم عاد فخنقته العبرة ثم قال: سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول عام الاول: «سلوا الله العفو والعافية فإنه ما اوتي عبد بعد يقين شيئا خيرا من العافية» حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَوْسَطَ الْبَجَلِيَّ وَهُوَ عَلَي مِنْبَرِ حِمْصٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ عَادَ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْأَوَّلِ: «سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أُوتِيَ عَبْدٌ بَعْدَ يَقِينٍ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ»
اوسط بجلی نے حمص کے منبر پر یہ بات بیان کی وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، تو رونے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز حلق میں اٹک گئی پھر انہوں نے دوبارہ بات شروع کرنا چاہی تو ان کی آواز پھر اٹک گئی۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں نے گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو، کیونکہ کسی بھی بندے کو یقین کے بعد کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی، جو عافیت سے بہتر ہو۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه الموصلي فى ”مسنده“: 08، 49، 74، 75، 86، 87، 121، 123، 124، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 950، 952، 5734، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10649، 10650، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3558، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3849، والطبراني فى «الصغير» برقم: 163، وأحمد فى "مسنده" برقم: 5، 6»
3. حدیث نمبر 3
حدیث نمبر: 3
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي قال: ثنا مروان بن معاوية الفزاري، ثنا إسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، ان ابا بكر الصديق قام فحمد الله واثني عليه، ثم قال: يا ايها الناس إنكم تقرءون هذه الآية ﴿ يا ايها الذين آمنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم﴾ وإنا سمعنا رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: «الناس إذا راوا الظالم فلم ياخذوا علي يديه يوشك ان يعمهم الله بعقاب» .حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَي عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَي يَدَيْهِ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» .
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اے لوگو! تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو۔
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» اے ایمان والو! تم پر اپنی فکر لازم ہے اگر تم ہدایت یافتہ ہو، تو جو شخص گمراہ ہے، وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [5-المائدة:105]
(سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: لوگ جب ظالم کو دیکھیں گے اور اس کے ہاتھوں کو نہیں پکڑیں گے تو عنقریب ان سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مسنده أبو يعلى الموصلي132، 131، 130، 129، 128، صحیح ابن حبان: 304، 305، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11092، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4338، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2168، 2168 م، 3057، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4005، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 840، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20246، 20247، 20248، 20884»
4. حدیث نمبر 4
حدیث نمبر: 4
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي قال: ثنا وكيع بن الجراح، ثنا مسعر بن كدام، وسفيان الثوري، ثنا عثمان بن المغيرة الثقفي، عن علي بن ربيعة الوالبي، عن اسماء بن الحكم الفزاري، عن علي بن ابي طالب قال: كنت إذا سمعت من رسول الله صلي الله عليه وسلم حديثا نفعني الله بما شاء منه، فإذا حدثني غيره استحلفته، فإذا حلف لي صدقته وان ابا بكر حدثني - وصدق ابو بكر قال: قال النبي صلي الله عليه وسلم: «ما من رجل يذنب ذنبا فيتوضا فيحسن الوضوء» قال مسعر «ثم يصلي» وقال سفيان «ثم يصلي ركعتين فيستغفر الله إلا غفر الله له» حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، فَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي - وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ» قَالَ مِسْعَرٌ «ثُمَّ يُصَلِّي» وَقَالَ سُفْيَانُ «ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ»
اسماء بن حکم فزاری سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوتا تھا وہ اس حدیث کے ذریعے مجھے نفع عطا کر دیتا تھا، لیکن جب کوئی دوسرا شخص مجھے کوئی حدیث سناتا تھا، تو میں اس سے حلف لیا کرتا تھا، جب وہ میرے سامنے حلف اٹھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کر دیتا تھا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو بھی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وضو کرے اور چھی طرح وضو کرے۔
یہاں پر مسعر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: پھر وہ نماز ادا کرے۔
جبکہ سفیان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیئے ہیں: پھر وہ دو رکعت نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے، تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 12-15، وصحیح ابن حبان: 623، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10175، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1521، والترمذي فى «جامعه» برقم: 406، 3006، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1395»
5. حدیث نمبر 5
حدیث نمبر: 5
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي ثنا سعد بن سعيد بن ابي سعيد، ثنا عبد الله بن سعيد، عن جده ابي سعيد المقبري، انه سمع علي بن ابي طالب يقول: ما حدثني محدث حديثا لم اسمعه انا من رسول الله صلي الله عليه وسلم إلا امرته ان يقسم بالله لهو سمعه من رسول الله صلي الله عليه وسلم إلا ابو بكر فإنه كان لا يكذب، فحدثني ابو بكر انه سمع رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: «ما ذكر عبد ذنبا اذنبه فقام حين يذكر ذنبه ذلك فيتوضا فاحسن وضوءه ثم صلي ركعتين ثم استغفر الله لذنبه ذلك إلا غفر له» حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ حَدِيثًا لَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرْتُهُ أَنْ يُقْسِمَ بِاللَّهِ لَهُوَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَكْذِبُ، فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا ذَكَرَ عَبْدٌ ذَنْبًا أَذْنَبَهُ فَقَامَ حِينَ يَذْكُرُ ذَنْبَهُ ذَلِكَ فَيَتَوَضَّأُ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ لِذَنْبِهِ ذَلِكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ»
ابوسعید مقبری بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، جب بھی کسی حدیث بیان کرنے والے نے مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہ سنی ہو، تو میں اسے یہ ہدایت کرتا تھا کہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے کہ ان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ صرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا نہیں کرتا تھا،کیونکہ وہ غلط بیانی نہیں کرتے تھے۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جب کس شخص کو کوئی ایسا گناہ یاد آئے جس کا ارتکاب اس نے کیا ہو، تو جب اسے اپنا گناہ یاد آئے اس وقت اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرلے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، پھر اپنے اس گناہ کی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے، تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، والمتن صحيح انظر حديث السابق»
6. حدیث نمبر 6
حدیث نمبر: 6
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي، ثنا يعلي بن عبيد، ثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن ابي برزة قال: مررت علي ابي بكر الصديق وهو يتغيظ علي رجل من اصحابه فقلت: يا خليفة رسول الله من هذا الذي تغيظ عليه؟ قال: ولم تسال عنه؟ قلت: اضرب عنقه، قال: فوالله لاذهب غضبه ما قلت , ثم قال: «ما كانت لاحد بعد محمد صلي الله عليه وسلم» حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَعْلَي بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَتَغَيَّظُ عَلَي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ غَضَبَهُ مَا قُلْتَ , ثُمَّ قَالَ: «مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ابوبرزہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا وہ اپنے ساتھیوں میں سے ایک صاحب پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ کون شخص ہے، جس پر آپ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں۔
راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے جو کہا تھا اس بات نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غصے کو ختم کر دیا پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ (اس کی ناراضگی کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جائے)۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 79، 80، 81، 82،والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4082، 4083، 4084، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3520، 3521، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4363، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13507، وأحمد فى «مسنده» برقم: 55، 62»
7. حدیث نمبر 7
حدیث نمبر: 7
Save to word اعراب
حدثنا الحميدي قال: ثنا عبد الرحمن بن زياد الرصاصي، ثنا شعبة اخبرني يزيد بن خمير قال: سمعت سليم بن عامر رجلا من حمير يحدث عن اوسط بن إسماعيل بن اوسط البجلي، عن ابي بكر انه سمعه حين توفي رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: قام رسول الله صلي الله عليه وسلم عام الاول مقامي هذا ثم بكي فقال: «عليكم بالصدق فإنه مع البر وهما في الجنة، وإياكم والكذب فإنه مع الفجور وإنهما في النار، واسالوا الله العافية فإنه لم يؤت عبد بعد اليقين خيرا من العافية»
قال: «ولا تقاطعوا، ولا تدابروا، ولا تباغضوا، ولا تحاسدوا، وكونوا عباد الله إخوانا» .
قال: «ولا تقاطعوا، ولا تدابروا، ولا تباغضوا، ولا تحاسدوا، وكونوا عباد الله إخوانا» .
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الرَّصَاصِيُّ، ثنا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلًا مِنْ حِمْيَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِيَ هَذَا ثُمَّ بَكَي فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ وَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ عَبْدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ»
قَالَ: «وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» .
قَالَ: «وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» .
اوسط بن اسماعیل بجلی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے، پھر وہ (یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) رونے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم پر سچائی اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہے، کیونکہ وہ گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، کیونکہ کسی بھی بندے کو یقین کے بعد ایسی کوئی چیز نہیں دی گئی، جو عافیت سے زیادہ بہتر ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی: آپس میں لاتعلقی اختیار نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، ایک دوسرے پر غصہ نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندے اور بھائی، بھائی بن کے رہو۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 121، صحیح ابن حبان: 5734، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1944، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10649، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3558، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3849، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5، 6، 11، 18»


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.