سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
Prayer (Abwab Qiyam ul Lail)
17. باب نَسْخِ قِيَامِ اللَّيْلِ وَالتَّيْسِيرِ فِيهِ
17. باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان۔
Chapter: The Abrogation Of The (Obligation Of) Night Prayer And Facilitation (Of Choice) Regarding It.
حدیث نمبر: 1304
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(موقوف) حدثنا احمد بن محمد المروزي ابن شبويه، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس،قال في المزمل: قم الليل إلا قليلا {2} نصفه سورة المزمل آية 1-2 نسختها الآية التي فيها علم ان لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرءان سورة المزمل آية 20 وناشئة الليل: اوله، وكانت صلاتهم لاول الليل، يقول: هو اجدر ان تحصوا ما فرض الله عليكم من قيام الليل، وذلك ان الإنسان إذا نام لم يدر متى يستيقظ، وقوله: واقوم قيلا سورة المزمل آية 6 هو اجدر ان يفقه في القرآن، وقوله: إن لك في النهار سبحا طويلا سورة المزمل آية 7، يقول: فراغا طويلا.
(موقوف) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا {2} نِصْفَهُ سورة المزمل آية 1-2 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ سورة المزمل آية 20 وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: وَأَقْوَمُ قِيلا سورة المزمل آية 6 هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا سورة المزمل آية 7، يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے، «ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو)۔
17839 - D 1304 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6254) (حسن)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: سورة المزمل: (۲،۳) ۲؎: سورة المزمل: (۲۰) ۳؎: سورة المزمل: (۷)

Narrated Abdullah Ibn Abbas: In Surat al-Muzzammil (73), the verse: "Keep vigil at night but a little, a half thereof" (2-3) has been abrogated by the following verse: "He knoweth that ye count it not, and turneth unto you in mercy. Recite then of the Quran that which is easy for you" (v. 20). The phrase "the vigil of the night" (nashi'at al-layl) means the early hours of the night. They (the companions) would pray (the tahajjud prayer) in the early hours of the night. He (Ibn Abbas) says: It is advisable to offer the prayer at night (tahajjud), prescribed by Allah for you (in the early hours of the night). This is because when a person sleeps, he does not know when he will awake. The words "speech more certain" (aqwamu qilan) means that this time is more suitable for the understanding of the Quran. He says: The verse: "Lo, thou hast by day a chain of business" (v. 7) means engagement for long periods (in the day's work).
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1299



قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 1305
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(موقوف) حدثنا احمد بن محمد يعني المروزي، حدثنا وكيع، عن مسعر، عن سماك الحنفي، عن ابن عباس، قال: لما نزلت اول المزمل كانوا يقومون نحوا من قيامهم في شهر رمضان حتى نزل آخرها، وكان بين اولها وآخرها سنة.
(موقوف) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
17840 - D 1305 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5678) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Ibn Abbas: When the opening verses of Surah Al-muzammil was revealed, the Companions would pray as long as they would pray during Ramadan until its last verses were revealed. The period between the revelation of its opening and the last verses was one year.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1300



قال الشيخ الألباني: صحيح
18. باب قِيَامِ اللَّيْلِ
18. باب: تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔
Chapter: The (Voluntary) Night Prayer.
حدیث نمبر: 1306
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" يعقد الشيطان على قافية راس احدكم إذا هو نام ثلاث، عقد يضرب مكان كل عقدة عليك ليل طويل فارقد، فإن استيقظ فذكر الله انحلت عقدة، فإن توضا انحلت عقدة، فإن صلى انحلت عقدة، فاصبح نشيطا طيب النفس، وإلا اصبح خبيث النفس كسلان".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ، عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔
17841 - D 1306 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 12 (1142)، وبدء الخلق 11 (3269)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 28 (776)، سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1608)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 174 (1329)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 25 (95)، مسند احمد (2/243، 253، 259) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one you sleeps, the devil ties three knots at the back of his neck, sealing every knot with, "You have a long night, so sleep. " So if one awakes and mentions Allah, a knot will be loosened; if he performs ablution another knot will be loosened; and if he prays, the third knot will be loosened; and in the morning he will be active and in good spirits; otherwise he will be in bad spirits and sluggish.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1301



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1307
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا ابو داود، قال: حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، قال: سمعت عبد الله بن ابي قيس، يقول:قالت عائشة رضي الله عنها: لا تدع قيام الليل، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم" كان لا يدعه، وكان إذا مرض او كسل صلى قاعدا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ:قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
17842 - D 1307 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/126، 249) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Aishah, Ummul Muminin: Do not give up prayer at night, for the Messenger of Allah ﷺ would not leave it. Whenever he fell ill or lethargic, he would offer it sitting.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1302



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1308
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا ابن عجلان، عن القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وايقظ امراته، فإن ابت نضح في وجهها الماء، رحم الله امراة قامت من الليل فصلت وايقظت زوجها، فإن ابى نضحت في وجهه الماء".
(مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔
17843 - D 1308 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1611)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1336)، (تحفة الأشراف: 12860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 436) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1450)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہو گی۔

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1303



قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
حدیث نمبر: 1309
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابن كثير، حدثنا سفيان، عن مسعر، عن علي بن الاقمر. ح وحدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن الاعمش، عن علي بن الاقمر المعنى، عن الاغر، عن ابي سعيد، وابي هريرة، قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا ايقظ الرجل اهله من الليل فصليا او صلى ركعتين جميعا كتبا في الذاكرين والذاكرات" ولم يرفعه ابن كثير، ولا ذكر ابا هريرة، جعله كلام ابي سعيد. قال ابو داود: رواه ابن مهدي، عن سفيان، قال: واراه ذكر ابا هريرة، قال ابو داود: وحديث سفيان موقوف.
(مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ الْمَعْنَى، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ" وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلَامَ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ.
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔
17844 - D 1309 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1335) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1551)، (تحفة الأشراف: 3965)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری / التفسیر (11406) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Saeed and Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: If a man awakens his wife at night, and then both pray or both offer two rak'ahs together, the (name of the )man will be recorded among those who mention the name of Allah, and the (name of the) woman will be recorded among those who mention the name of Allah. Ibn Kathir did not narrate this tradition as a statement of the Prophet ﷺ, but he reported it as a statement of Abu Saeed. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ibn Mahdi from Sufyan and I think he mentioned the name of Sufyan. He also said: The tradition transmitted by Sufyan is a statement of the Companion (and not that of the Prophet).
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1304



قال الشيخ الألباني: صحيح
19. باب النُّعَاسِ فِي الصَّلاَةِ
19. باب: نماز میں اونگھنے کا بیان۔
Chapter: Feeling Sleepy During The Prayer.
حدیث نمبر: 1310
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا نعس احدكم في الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم، فإن احدكم إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎۔
17845 - D 1310 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، (تحفة الأشراف: 17147)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن النسائی/الطھارة 117 (162)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1370)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (3)، مسند احمد (6/56، 205)، سنن الدارمی/الصلاة 107(1423) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: مثلا «اللهم اغفر» کے بجائے اس کی زبان سے «اللهم اعفر» نکلے۔

Narrated Aishah, wife of Prophet ﷺ: When one of you dozes in prayer he should sleep till his sleep is gone, for when one of you prays while he is dozing, perhaps he might curse himself if he begs pardon of Allah.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1305



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1311
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا قام احدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔
17846 - D 1311 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، (تحفة الأشراف: 14721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1372)، مسند احمد (2/218) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you gets up by night (to pray), and falters in reciting the Quran (due to sleep), and he does not understand what he utters, he should sleep.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1306



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1312
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا زياد بن ايوب، وهارون بن عباد الازدي، ان إسماعيل بن إبراهيم حدثهم، حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد وحبل ممدود بين ساريتين، فقال:" ما هذا الحبل؟" فقيل: يا رسول الله، هذه حمنة بنت جحش تصلي، فإذا اعيت تعلقت به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لتصل ما اطاقت، فإذا اعيت فلتجلس". قال زياد: فقال:" ما هذا؟" فقالوا: لزينب تصلي، فإذا كسلت او فترت امسكت به، فقال:" حلوه" فقال:" ليصل احدكم نشاطه، فإذا كسل او فتر فليقعد".
(مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْحَبْلُ؟" فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ". قَالَ زِيَادٌ: فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ" فَقَالَ:" لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک «نشاط» رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
17847 - D 1312 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 32 (784)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1644)، (تحفة الأشراف: 995)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 18 (1150)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1371)، مسند احمد (3/101، 184، 204، 205) (صحیح) دون ذکر حمنة» ‏‏‏‏

Narrated Anas: The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque (and saw that) a rope tied between two pillars. He asked: What is this rope (for) ? The people told him: This is (for) Hamnah bin Jahsh who prays (here). When she is tired, she reclines on it. The Messenger of Allah ﷺ said: She should pray as much as she has strength. When she is tired, she should sit down. This version of Ziyad has: He said: What is this ? The people told him: This is for Zainab who prays. When she becomes lazy, or is tired, she holds it. He said: Undo it. One of you should pray in good spirits. When he is lazy or tired, he should sit down.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1307



قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر حمنة ق
20. باب مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ
20. باب: جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
Chapter: Whoever Slept Through His Portion (Routine Of The Night Prayer).
حدیث نمبر: 1313
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو صفوان عبد الله بن سعيد بن عبد الملك بن مروان. ح وحدثنا سليمان بن داود، ومحمد بن سلمة المرادي، قالا: حدثنا ابن وهب المعنى، عن يونس، عن ابن شهاب، ان السائب بن يزيد، وعبيد الله اخبراه، ان عبد الرحمن بن عبد، قال: عن ابن وهب بن عبد القاري، قال: سمعت عمر بن الخطاب، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من نام عن حزبه او عن شيء منه فقراه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كانما قراه من الليل".
(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ الْمَعْنَى، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔
17848 - D 1313 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة56) (581)، سنن النسائی/قیام اللیل 56 (1791، 1792، 1793)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 177 (1343)، (تحفة الأشراف: 10592)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد (1/32، 53)، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Umar bin Al-Khattab: The Messenger of Allah ﷺ as saying: He who misses him daily round of recital or part of it due to sleep and he recites it between the dawn and the noon prayers, will be reckoned as if he recited it at night.
USC-MSA web (English) Reference: Book 5 , Number 1308



قال الشيخ الألباني: صحيح

1    2    3    4    5    Next