سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل
Prayer (Kitab Al-Salat): Prostration while reciting the Quran
1. باب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّجُودِ وَكَمْ سَجْدَةٍ فِي الْقُرْآنِ
1. باب: سجدہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں؟
Chapter: How Many Places Are There In The Qur’an Where Prostration Is Required.
حدیث نمبر: 1401
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبد الرحيم بن البرقي، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا نافع بن يزيد، عن الحارث بن سعيد العتقي، عن عبد الله بن منين من بني عبد كلال، عن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" اقراه خمس عشرة سجدة في القرآن، منها ثلاث في المفصل، وفي سورة الحج سجدتان". قال ابو داود: روي عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم،" إحدى عشرة سجدة" وإسناده واه.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً" وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے ۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ۲؎ اور دو سورۃ الحج میں ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔
17936 - D 1401 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1057)، (تحفة الأشراف:10735) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی حارث لین الحدیث، اور عبد اللہ مجہول ہیں)

وضاحت:
۱؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اور سورہ ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورہ ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورہ حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔
۲؎: سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔

Narrated Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ taught me fifteen prostrations while reciting the Quran, including three in al-Mufassal and two in Surah al-Hajj. Abu Dawud said: Abu al-Darda has reported eleven prostrations from the Prophet ﷺ, but chain of this tradition is weak.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1396



قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 1402
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، ان مشرح بن هاعان ابا المصعب حدثه، ان عقبة بن عامر حدثه، قال: قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: افي سورة الحج سجدتان؟ قال:" نعم، ومن لم يسجدهما فلا يقراهما".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔
17937 - D 1402 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 289 (الجمعة 54) (578)، (تحفة الأشراف:9965)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 155) (حسن)» ‏‏‏‏ (مشرح کے بارے میں کلام ہے، لیکن دوسری خالد بن حمدان کی مرسل حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن کے درجہ کو پہنچی) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5؍ 146)

Narrated Uqbah ibn Amir: I said to the Messenger of Allah ﷺ: Are there two prostrations in Surah al-Hajj? He replied: Yes; if anyone does not make two prostrations, he should not recite them.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1397



قال الشيخ الألباني: ضعيف
2. باب مَنْ لَمْ يَرَ السُّجُودَ فِي الْمُفَصَّلِ
2. باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
Chapter: A View That There Is No Prostration In Mufassal Surahs.
حدیث نمبر: 1403
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ازهر بن القاسم، قال محمد: رايته بمكة، حدثنا ابو قدامة، عن مطر الوراق، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" لم يسجد في شيء من المفصل منذ تحول إلى المدينة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔
17938 - D 1403 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:6216) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں)

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (۱۴۰۷) جو آگے آ رہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah ﷺ did not make a prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Madina.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1398



قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 1404
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا هناد بن السري، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذئب، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، عن زيد بن ثابت، قال: قرات على رسول الله صلى الله عليه وسلم النجم" فلم يسجد فيها".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ" فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
17939 - D 1404 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، ت الجمعة 52 (576)، سنن النسائی/الافتتاح 50 (961)، (تحفة الأشراف:3733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/183، 186)، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Zaid bin Thabit: The Messenger of Allah ﷺ did not make prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Madina.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1399



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1405
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، حدثنا ابو صخر، عن ابن قسيط، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، بمعناه. قال ابو داود: كان زيد الإمام فلم يسجد فيها.
(مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.
اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
17940 - D 1405 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3707) (صحیح)» ‏‏‏‏

This tradition has also been transmitted by Zaid bin Thabit through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Zaid was imam (in a prayer) and he did not make prostration.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1400


3. باب مَنْ رَأَى فِيهَا السُّجُودَ
3. باب: سورۃ النجم میں سجدہ ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
Chapter: A View That There Is Prostration In Mufassal Surahs.
حدیث نمبر: 1406
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي إسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" قرا سورة النجم فسجد فيها، وما بقي احد من القوم إلا سجد، فاخذ رجل من القوم كفا من حصى او تراب فرفعه إلى وجهه، وقال يكفيني هذا"، قال عبد الله: فلقد رايته بعد ذلك قتل كافرا.
(مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔
17941 - D 1406 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/سجود القرآن 1 (1072)، 4 (1073)، ومناقب الأنصار 29 (3853)، والمغازي 8 (3972)، وتفسیر النجم 4 (4862)، صحیح مسلم/المساجد20 (576)، سنن النسائی/الافتتاح 49 (960)، (تحفة الأشراف:9180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 401، 443، 462) دي /الصلاة 160 (1506) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abdullah (bin Masud): The Messenger of Allah ﷺ recited Surah al-Najm and prostrated himself. No one remained there who did not prostrate (along with him). A man from the people took a handful of pebbles or dust and raised it to his face saying: This is enough for me. Abdullah (bin Masud) said: I later saw him killed as an infidel.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1401



قال الشيخ الألباني: صحيح
4. باب السُّجُودِ فِي ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ‏}‏ وَ ‏{‏ اقْرَأْ ‏}‏
4. باب: سورۃ ”انشقاق“ اور سورۃ ”علق“ میں سجدے کا بیان۔
Chapter: Prostration In Surah’s Inshiqaq And Iqra’.
حدیث نمبر: 1407
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، قال:" سجدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في: إذا السماء انشقت و اقرا باسم ربك الذي خلق".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ «إذا السماء انشقت» اور «‏‏‏‏اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔
17942 - D 1407 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (الجمعة 50) (573 و 574)، سنن النسائی/الافتتاح 52 (968)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1058و 1059)، (تحفة الأشراف:14206)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 100(766)، موطا امام مالک/القرآن 5 (12)، مسند احمد (2/249، 461)، سنن الدارمی/الصلاة 163 (1512) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: We prostrated ourselves along with the Messenger of Allah ﷺ on account of: "When the sky is rent asunder" and "Recite in the name of Your Lord Who created"
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1402



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1408
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال: سمعت ابي، حدثنا بكر، عن ابي رافع، قال: صليت مع ابي هريرة العتمة، فقرا: إذا السماء انشقت، فسجد، فقلت: ما هذه السجدة؟ قال:" سجدت بها خلف ابي القاسم صلى الله عليه وسلم، فلا ازال اسجد بها حتى القاه" ‏.‏
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ:" سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ" ‏.‏
ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔
17943 - D 1408 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 100(766)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن النسائی/الافتتاح 53 (969)، (تحفة الأشراف: 14649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 256، 266) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Rafi: I offered the night prayer behind Abu Hurairah. He recited Surah Inshiqaq ("When the sky is rent asunder") and prostrated himself. I asked him: What is this prostration ? He replied: I prostrated myself on account of this (surah) behind Abu al-Qasim (i. e. the Prophet). I shall continue prostrating on account of this till I meet him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1403



قال الشيخ الألباني: صحيح
5. باب السُّجُودِ فِي ‏{‏ ص ‏}‏
5. باب: سورۃ ”ص“ میں سجدے کا بیان۔
Chapter: The Prostration In Surah Sad.
حدیث نمبر: 1409
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: ليس ص من عزائم السجود، وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم" يسجد فيها".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْجُدُ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
17944 - D 1409 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/سجود القرآن 3 (1069)، سنن الترمذی/الصلاة 288 (الجمعة 53) (577)، سنن النسائی/الافتتاح 48 (958)، (تحفة الأشراف:5988)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1508) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Ibn Abbas: A prostration when reciting Sad is not one of those which are divinely commanded, but I have seen Messenger of Allah ﷺ prostrate himself.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1404



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1410
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو يعني ابن الحارث، عن ابن ابي هلال، عن عياض بن عبد الله بن سعد بن ابي سرح، عن ابي سعيد الخدري، انه قال: قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر ص، فلما بلغ السجدة نزل فسجد وسجد الناس معه، فلما كان يوم آخر قراها فلما بلغ السجدة تشزن الناس للسجود، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" إنما هي توبة نبي، ولكني رايتكم تشزنتم للسجود، فنزل، فسجد وسجدوا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
17945 - D 1410 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف:4276)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
وضاحت: اس سے مراد داود علیہ السلام ہیں۔

Narrated Saeed al-Khudri: The Messenger of Allah ﷺ recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 7 , Number 1405



قال الشيخ الألباني: صحيح

1    2    Next