سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
Oaths and Vows (Kitab Al-Aiman Wa Al-Nudhur)
1. باب التَّغْلِيظِ فِي الأَيْمَانِ الْفَاجِرَةِ
1. باب: جھوٹی قسم کھانے پر وارد وعید کا بیان۔
Chapter: Stern Warning Against False Oaths.
حدیث نمبر: 3242
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن عمران بن حصين، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" من حلف على يمين مصبورة كاذبا، فليتبوا بوجهه مقعده من النار".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر (یا دیدہ و دانستہ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎۔
19781 - D 3242 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏* تخريج:تفرد بہ أبوداود، 1(تحفة الأشراف: 10842)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/436، 441) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یعنی دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں آخرت میں اسے یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3236



قال الشيخ الألباني: صحيح
2. باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ
2. باب: جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟
Chapter: One Who Swears An Oath In Order To Usurp The Wealth Of Another.
حدیث نمبر: 3243
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عيسى، وهناد بن السري المعنى قالا: حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من حلف على يمين هو فيها فاجر، ليقتطع بها مال امرئ مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان، فقال الاشعث: في والله كان ذلك، كان بيني وبين رجل من اليهود ارض، فجحدني، فقدمته إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: الك بينة؟، قلت: لا، قال لليهودي: احلف، قلت: يا رسول الله، إذا يحلف ويذهب بمالي، فانزل الله تعالى: إن الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا سورة آل عمران آية 77" إلى آخر الآية.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (سورۃ آل عمران: ۷۷) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎۔
19782 - D 3243 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المساقاة 4 (2356)، والخصومات 4 (2416)، والرھن 6 (2515)، والشہادات 19 (2666)، 20 (2669)، 23 (2673)، 25 (2676)، تفسیر آل عمران 3 (4549)، الأیمان 11 (6659)، 17 (6676)، الأحکام 30 (7183)، التوحید 24 (7445)، صحیح مسلم/الإیمان 61 (138)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 8 (2322)، (تحفة الأشراف: 158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ جب انکار کرے تو مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہو گا ورنہ مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔

Narrated Abdullah ibn Masud: The Messenger of Allah ﷺ said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ashath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, "As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter. "
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3237



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3244
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، حدثنا الحارث بن سليمان، حدثني كردوس، عن الاشعث بن قيس: ان رجلا من كندة، ورجلا من حضرموت، اختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم في ارض من اليمن، فقال الحضرمي:" يا رسول الله، إن ارضي اغتصبنيها ابو هذا، وهي في يده، قال: هل لك بينة؟، قال: لا، ولكن احلفه والله يعلم انها ارضي، اغتصبنيها ابوه، فتهيا الكندي لليمين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يقتطع احد مالا بيمين، إلا لقي الله وهو اجذم، فقال الكندي: هي ارضه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي، اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهُ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس «بیّنہ» (ثبوت اور دلیل) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
19783 - D 3244 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکبری 47 (6002)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 29 (2835)، (تحفة الأشراف: 159)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211، 212) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (3622) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Al-Ashath ibn Qays: A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet ﷺ about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3238



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3245
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن علقمة بن وائل بن حجر الحضرمي، عن ابيه، قال:" جاء رجل من حضرموت، ورجل من كندة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال الحضرمي: يا رسول الله، إن هذا غلبني على ارض كانت لابي، فقال الكندي: هي ارضي في يدي ازرعها، ليس له فيها حق، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم للحضرمي: الك بينة؟، قال: لا، قال: فلك يمينه؟، قال: يا رسول الله، إنه فاجر لا يبالي ما حلف عليه، ليس يتورع من شيء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ليس لك منه إلا ذاك، فانطلق ليحلف له، فلما ادبر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اما لئن حلف على مال لياكله ظالما، ليلقين الله عز وجل وهو عنه معرض".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَاكَ، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ".
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے (جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا)، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ کچھ بھی ہو) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے (یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہو گا ۱؎۔
19784 - D 3245 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 61 (139)، سنن الترمذی/الأحکام 12 (1340)، (تحفة الأشراف: 11768)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/317) ویأتی ہذا الحدیث فی القضا (3623) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی طرف التفات نہیں فرمائے گا، بندے کے لئے اس سے بڑھ کر کیا عذاب ہو گا کہ اس کا مالک اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔

Narrated Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami: On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah ﷺ. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet ﷺ then said to al-Hadrami: Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet ﷺ said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah ﷺ said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3239



قال الشيخ الألباني: صحيح
3. باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْيَمِينِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ
3. باب: منبرنبوی کے پاس جھوٹی قسم کھانے پر وارد وعید کا بیان۔
Chapter: Seriousness Of Swearing By The Minbar Of The Prophet (saws).
حدیث نمبر: 3246
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، حدثنا هاشم بن هاشم، اخبرني عبد الله بن نسطاس من آل كثير بن الصلت، انه سمع جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يحلف احد عند منبري هذا على يمين آثمة، ولو على سواك اخضر، إلا تبوا مقعده من النار، او وجبت له النار".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہو گئی ۱؎۔
19785 - D 3246 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 9 (2325)، (تحفة الأشراف: 2376)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 8 (10)، مسند احمد (3/344) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: گو جھوٹی قسم کھانا بروقت اور ہر جگہ گناہ ہے، پر مقدس جگہوں اور مقدس وقتوں میں ان کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet ﷺ said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3240



قال الشيخ الألباني: صحيح
4. باب الْحَلِفِ بِالأَنْدَادِ
4. باب: غیر اللہ کے نام کی قسم کھانا کیسا ہے؟
Chapter: Swearing By Other Than Allah.
حدیث نمبر: 3247
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من حلف، فقال في حلفه: واللات، فليقل: لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه: تعال اقامرك، فليتصدق بشيء".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلْفِهِ: وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے (تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے)۔
19786 - D 3247 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم 2 (4860)، الأدب 74 (6107)، الاستئذان 52 (6301)، الأیمان 5 (6650)، صحیح مسلم/الأیمان 2 (1648)، سنن الترمذی/الأیمان 17 (1545)، سنن النسائی/الأیمان 10 (3806)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2096)، (تحفة الأشراف: 12276)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/309) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: "By al-Lat" he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3241



قال الشيخ الألباني: صحيح
5. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ
5. باب: باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے۔
Chapter: It Is Disliked To Swear By One’s Forefathers.
حدیث نمبر: 3248
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا تحلفوا بآبائكم، ولا بامهاتكم، ولا بالانداد، ولا تحلفوا إلا بالله، ولا تحلفوا بالله إلا وانتم صادقون".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔
19787 - D 3248 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأیمان 5 (3800)، (تحفة الأشراف: 14483) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3242



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3249
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" ادركه وهو في ركب، وهو يحلف بابيه، فقال: إن الله ينهاكم ان تحلفوا بآبائكم، فمن كان حالفا، فليحلف بالله او ليسكت".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔
19788 - D 3249 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646)، (تحفة الأشراف: 10555)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6107)، الأیمان 4 (6647)، سنن الترمذی/الأیمان 8 (1533)، سنن النسائی/الأیمان 4 (3399)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2094)، موطا امام مالک/النذور 9 (14)، مسند احمد (2/11، 34، 69، 87، 125، 142) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah ﷺ found Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3243



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3250
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عمر رضي الله عنه، قال: سمعني رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو معناه إلى بآبائكم زاد، قال عمر: فوالله ما حلفت بهذا ذاكرا ولا آثرا.
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث: «بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
19789 - D 3250 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الإیمان 4 (6647)، صحیح مسلم/ الأیمان 1 (1646)، سنن النسائی/ الأیمان 4 (3798، 3799)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات 2 (2094)، (تحفة الأشراف: 10518)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/18، 36) (صحیح)» ‏‏‏‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words "by your fathers". This version adds: " Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others. "
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3244



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3251
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن إدريس، قال: سمعت الحسن بن عبيد الله، عن سعد بن عبيدة، قال: سمع ابن عمر رجلا يحلف لا والكعبة، فقال له ابن عمر: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" من حلف بغير الله فقد اشرك".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَحْلِفُ لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ".
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا۔
19790 - D 3251 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأیمان 8 (1535)، (تحفة الأشراف: 7045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34، 58، 60، 69، 86، 125) (صحیح)» ‏‏‏‏

Saeed ibn Ubaydah said: Ibn Umar heard a man swearing: No, I swear by the Kabah. Ibn Umar said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.
USC-MSA web (English) Reference: Book 21 , Number 3245



قال الشيخ الألباني: صحيح

1    2    3    4    5    Next