سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
Divination and Omens (Kitab Al-Kahanah Wa Al-Tatayyur)
21. باب فِي الْكَاهِنِ
21. باب: غیب کی باتیں بتانے والے (کاہن) کے پاس جانا۔
Chapter: Regarding Fortunetellers.
حدیث نمبر: 3904
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد. ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حماد بن سلمة، عن حكيم الاثرم، عن ابي تميمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" من اتى كاهنا"، قال موسى في حديثه: فصدقه بما يقول ثم اتفقا او اتى امراة، قال مسدد: امراته حائضا او اتى امراة، قال مسدد: امراته في دبرها فقد برئ مما انزل على محمد.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَتَى كَاهِنًا"، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ثُمَّ اتَّفَقَا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں۔
20443 - D 3904 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 102 (135)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 122 (639)، (تحفة الأشراف: 13536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 2/408، 476، 6/305)، سنن الدارمی/الطھارة 113 (259) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: If anyone resorts to a diviner and believes in what he says (according) to the version of Musa), or has intercourse with his wife (according to the agreed version) when she is menstruating, or has intercourse with his wife through her anus, he has nothing to do with what has been sent down to Muhammad ﷺ - according to the version of Musaddad.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3895



قال الشيخ الألباني: صحيح
22. باب فِي النُّجُومِ
22. باب: علم نجوم کا بیان۔
Chapter: Regarding Astrology.
حدیث نمبر: 3905
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومسدد المعنى، قالا: حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهك، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من اقتبس علما من النجوم، اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا۔
20444 - D 3905 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 28 (3726)، (تحفة الأشراف: 6559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 311) (حسن)» ‏‏‏‏

Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet ﷺ said: If anyone acquires any knowledge of astrology, he acquires a branch of magic of which he gets more as long as he continues to do so.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3896



قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 3906
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(قدسي) حدثنا القعنبي، عن مالك، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله، عن زيد بن خالد الجهني، انه قال:" صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية في إثر سماء كانت من الليل، فلما انصرف اقبل على الناس، فقال:" هل تدرون ماذا قال ربكم؟، قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: قال: اصبح من عبادي مؤمن بي وكافر، فاما من قال: مطرنا بفضل الله وبرحمته، فذلك مؤمن بي كافر بالكوكب، واما من قال: مطرنا بنوء كذا وكذا، فذلك كافر بي مؤمن بالكوكب".
(قدسي) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا۔
20445 - D 3906 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (125)، سنن النسائی/الاستسقاء 16 (1526)، عمل الیوم واللیلة 267 (924)، (تحفة الأشراف: 3757)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: The Messenger of Allah ﷺ led us in the morning prayer at al-Hudaibiyyah after rain which has fallen during the night, and when he finished, he turned to the people and said: Do you know what your Lord has said ? They said: Allah and His Messenger know best. He said: This morning there were among mt servants one who believes in me and one who disbelieves. The one who said: "We have been given rain by Allah's grace and mercy" is the one who believes in me and disbelieves in the star ; but the one who said: "We have been given rain by such and such a rain star, " is the one who disbelieves in me and believes in the star.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3897



قال الشيخ الألباني: صحيح
23. باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ
23. باب: رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان۔
Chapter: Al-Khatt, and Al-’Iyafah (Being Dissuaded By Birds).
حدیث نمبر: 3907
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا عوف، حدثنا حيان، قال غير مسدد، حيان بن العلاء، حدثنا قطن بن قبيصة، عن ابيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" العيافة والطيرة والطرق من الجبت"، الطرق: الزجر، والعيافة: الخط.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَوُفٌ، حَدَّثَنَا حَيَّانُ، قَالَ غَيْر مُسَدَّدٍ، حَيَانُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْعِيَافَةُ وَالطِّيَرَةُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ"، الطَّرْقُ: الزَّجْرُ، وَالْعِيَافَةُ: الْخَطُّ.
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور «عيافة» وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔
20446 - D 3907 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11067)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/477، 5/60) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں)

Narrated Qabisah: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Augury from the flight of birds, taking evil omens and the practice of pressomancy pertain to divination. Tarq: It is used in the sense of divination in which women threw stones. 'Iyafah: It means geomancy by drawing lines.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3898



قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 3908
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مقطوع) حدثنا ابن بشار، قال: قال محمد بن جعفر، قال عوف:" العيافة زجر الطير والطرق الخط يخط في الارض".
(مقطوع) حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ عَوْفٌ:" الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ".
عوف کہتے ہیں «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں)۔
20447 - D 3908 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Muhammed bin Jafar: On the authority of Awf: 'Iyafah means to makes the birds fly by threatening them. Tarq means lines drawn on the earth.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3899



قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 3909
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الحجاج الصواف، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال: قلت:" يا رسول الله، ومنا رجال يخطون؟، قال: كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ؟، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے۔
20448 - D 3909 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (930)، (تحفة الأشراف: 11378) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami: I said: Messenger of Allah! among us there are men who practice divination by drawing lines. He said: There was a Prophet who drew lines, so if anyone does it as he drew lines, that is right.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3900



قال الشيخ الألباني: صحيح
24. باب فِي الطِّيَرَةِ
24. باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
Chapter: At-Tiyarah.
حدیث نمبر: 3910
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن عيسى بن عاصم، عن زر بن حبيش، عن عبد الله بن مسعود، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" الطيرة شرك الطيرة شرك ثلاثا، وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے۔
20449 - D 3910 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 438، 440) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abdullah ibn Masud: The Prophet ﷺ said: Taking omens is polytheism; taking omens is polytheism. He said it three times. Every one of us has some, but Allah removes it by trust (in Him).
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3901



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3911
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، والحسن بن علي، قالا: حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا عدوى ولا طيرة ولا صفر ولا هامة". فقال اعرابي: ما بال الإبل تكون في الرمل كانها الظباء، فيخالطها البعير الاجرب، فيجربها، قال: فمن اعدى الاول، قال معمر: قال الزهري: فحدثني رجل، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا يوردن ممرض على مصح، قال: فراجعه الرجل، فقال: اليس قد حدثنا عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" لا عدوى ولا صفر ولا هامة؟" قال: لم احدثكموه؟ قال الزهري: قال ابو سلمة: قد حدث به وما سمعت ابا هريرة نسي حديثا قط غيره.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ، قَالَ: فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ؟" قَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔
20450 - D 3911 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطب 25 (5717)، 45 (5757)، 53 (5770)، 54 (5772)، (تحفة الأشراف: 15273، 15502)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2223)، مسند احمد (2/267، 327، 397) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no infection, no evil, omen or serpent, in a hungry belly and no hamah. A nomadic Arab asked: How is it that when camels are in the sand as if they were gazelles and a mangy camel comes among them and it gives them mange ? He replied: Who infected the first one ? Mamar, quoting al-Zuhri said: A man told me that Abu Hurairah narrated to him saying that he heard the Prophet ﷺ say: A diseased camel should not be brought with a healthy camel to drink water. He said: The man then consulted him and said: Did you not tell us that Prophet ﷺ had said: There is no infection, no serpent in a hungry belly and no hamah? He replied: I did not transmit it to you. Al-Zuhri said: Abu Salamah said: He had narrated it and I did not hear that Abu Hurairah had ever forgotten any tradition except this one.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3902



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3912
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا عدوى ولا هامة ولا نوء ولا صفر".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے۔
20451 - D 3912 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14068)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الطب 33 (2220)، مسند احمد (2/397) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no infection, no hamah, no other promising rain, and no serpent in a hungry belly.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3903



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3913
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبد الرحيم بن البرقي، ان سعيد بن الحكم، حدثهم، قال: اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثني ابن عجلان، حدثني القعقاع بن حكيم، وعبيد الله بن مقسم، وزيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" لا غول".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا غُولَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں۔
20452 - D 3913 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12322، 12829، 12868) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: There is no ghoul.
USC-MSA web (English) Reference: Book 29 , Number 3904



قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

1    2    3    Next