سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
(Abwab Un Noam )
103. باب فِي الرَّجُلِ يَنْبَطِحُ عَلَى بَطْنِهِ
103. باب: آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟
Chapter: Regarding a man lying on his stomach.
حدیث نمبر: 5040
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، قال: حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، قال: حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن يعيش بن طخفة بن قيس الغفاري، قال: كان ابي من اصحاب الصفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" انطلقوا بنا إلى بيت عائشة رضي الله عنها , فانطلقنا، فقال: يا عائشة، اطعمينا فجاءت بحشيشة فاكلنا، ثم قال: يا عائشة، اطعمينا , فجاءت بحيسة مثل القطاة فاكلنا، ثم قال: يا عائشة، اسقينا , فجاءت بعس من لبن فشربنا، ثم قال: يا عائشة، اسقينا , فجاءت بقدح صغير فشربنا، ثم قال: إن شئتم بتم، وإن شئتم انطلقتم إلى المسجد , قال: فبينما انا مضطجع في المسجد من السحر على بطني، إذا رجل يحركني برجله، فقال: إن هذه ضجعة يبغضها الله، قال: فنظرت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا , فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ , قال: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے) فرمایا: تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
21581 - D 5040 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ المساجد 6 (752)، الأدب 27 (3723)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں سخت اضطراب ہے، طخفة بن قیس (ف) سے یا طھفہ (ہ) سے، اس کو قیس بن طخفة نیز یعیش بن طخفة ابو تغفة کہتے ہیں، حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد صحابی تھے، لیکن پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت ثابت ہے)

وضاحت:
۱؎: حیس ایک عربی کھانا ہے جو کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے بنتا ہے۔

Narrated Tikhfat al-Ghifari: Ya'ish ibn Tikhfat al-Ghifari said: My father was one of the people in the Suffah. The Messenger of Allah ﷺ said: Come with us to the house of Aishah. So we went and he said: Give us food, Aishah. She brought hashishah and we ate. He then said: Give us food, Aishah. She then brought haysah as small in quantity as a pigeon and we ate. He then said: Give us something to drink, Aishah. So she brought a bowl of milk, and we drank. Again he said: Give us something to drink, Aishah. She then brought a small cup and we drank. He then said: If you wish, you may spend the night (here), or if you wish, you may go to the mosque. He said: While I was lying on my stomach because of pain in the lung, a man began to shake me with his foot and then said: This is a method of lying which Allah hates. I looked and saw that he was the Messenger of Allah ﷺ.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5022



قال الشيخ الألباني: ضعيف
104. باب فِي النَّوْمِ عَلَى سَطْحٍ غَيْرِ مُحَجَّرٍ
104. باب: بغیر چہار دیواری کی چھت پر سوئے تو کیسا ہے؟
Chapter: Sleeping on a roof that has no walls.
حدیث نمبر: 5041
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا سالم يعني ابن نوح، عن عمر بن جابر الحنفي، عن وعلة بن عبد الرحمن بن وثاب، عن عبد الرحمن بن علي يعني ابن شيبان، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من بات على ظهر بيت ليس له حجار، فقد برئت منه الذمة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر) نہ ہو (یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو) تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ گیا (گرے یا بچے وہ جانے)۔
21582 - D 5041 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10020) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Ali ibn Shayban: The Prophet ﷺ said: If anyone spends the night on the roof of a house with no stone palisade, Allah's responsibility to guard him no longer applies.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5023



قال الشيخ الألباني: صحيح
105. باب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ
105. باب: باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔
Chapter: Sleeping in a state of purity.
حدیث نمبر: 5042
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عاصم بن بهدلة، عن شهر بن حوشب، عن ابي ظبية , عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" ما من مسلم يبيت على ذكر طاهرا، فيتعار من الليل، فيسال الله خيرا من الدنيا والآخرة إلا اعطاه إياه" , قال ثابت البناني: قدم علينا ابو ظبية فحدثنا بهذا الحديث، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال ثابت: قال فلان: لقد جهدت ان اقولها حين انبعث، فما قدرت عليها.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا، فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" , قال ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ فُلَانٌ: لَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں (کسی بھی وقت) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ۱؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ۲؎ ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ۳؎۔
21583 - D 5042 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدعاء 16(3881)، (تحفة الأشراف: 11371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/235، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: ثابت بنانی نے کسی وجہ سے کہنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
۲؎: اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال ہے۔
۳؎: شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم

Narrated Muadh ibn Jabal: The Prophet ﷺ said: If a Muslim sleeps while remembering Allah, in the state of purification, is alarmed while asleep at night, and asks Allah for good in this world and in the Hereafter. He surely gives it to him. Thabit al-Bunani said: Abu Zabyah came to visit us and he transmitted this tradition to us from Muadh ibn Jabal from the Prophet ﷺ. Thabit said: So and so said: I tried my best to utter these (prayers) when I got up, but I could not do.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5024



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 5043
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن كريب، عن ابن عباس: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" قام من الليل، فقضى حاجته، فغسل وجهه ويديه، ثم نام" , قال ابو داود: يعني بال.
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ" , قال أبو داود: يَعْنِي بَالَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔
21584 - D 5043 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الدعوات 10 (6316)، صحیح مسلم/الحیض 5 (763)، سنن النسائی/التطبیق 63 (1122)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 71 (508)، (تحفة الأشراف: 6352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 283، 284، 343) (صحیح)» ‏‏‏‏

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ got up at night, fulfilled his need and washed his face and hand and then slept. Abu Dawud said: that is to say, he urinated
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5025



قال الشيخ الألباني: صحيح
106. باب كَيْفَ يَتَوَجَّهُ
106. باب: آدمی سوتے وقت کدھر منہ کر کے سوئے؟
Chapter: Which direction should one face while sleeping.
حدیث نمبر: 5044
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن بعض آل ام سلمة" كان فراش النبي صلى الله عليه وسلم نحوا مما يوضع الإنسان في قبره، وكان المسجد عند راسه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ" كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ".
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔
21585 - D 5044 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، معلوم نہیں صحابی ہے یا تابعی)

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin: Some relative of Umm Salamah said: The bed of the Prophet ﷺ was set as a man is laid in his grave; the mosque was towards his head.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5026



قال الشيخ الألباني: ضعيف
107. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ
107. باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
Chapter: What to say when going to sleep.
حدیث نمبر: 5045
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا عاصم، عن معبد بن خالد، عن سواء، عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم:" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اراد ان يرقد، وضع يده اليمنى تحت خده، ثم يقول: اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك ثلاث مرار".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔
21586 - D 5045 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/287) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے)

Narrated Hafsah, Ummul Muminin: When the Messenger of Allah ﷺ wanted to go to sleep, he put his right hand under his cheek and would then say three times: O Allah, guard me from Thy punishment on the day when Thou raisest up Thy servants.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5027



قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثلاث مرار
حدیث نمبر: 5046
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال: سمعت منصورا يحدث، عن سعد بن عبيدة، قال: حدثني البراء بن عازب، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا اتيت مضجعك، فتوضا وضوءك للصلاة، ثم اضطجع على شقك الايمن، وقل: اللهم اسلمت وجهي إليك، وفوضت امري إليك، والجات ظهري إليك، رهبة ورغبة إليك، لا ملجا ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت ونبيك الذي ارسلت، قال: فإن مت مت على الفطرة، واجعلهن آخر ما تقول , قال البراء: فقلت: استذكرهن، فقلت: وبرسولك الذي ارسلت , قال: لا، ونبيك الذي ارسلت".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ , قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ «وبنبيك الذي أرسلت» (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو)۔
21587 - D 5046 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3574)، (تحفة الأشراف: 1763)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3876)، مسند احمد (4/290، 292، 293، 296، 300)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2725) (صحیح)» ‏‏‏‏

Al-Bara bin Azib said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: When you go to your bed, perform ablution like the ablution for prayer, and then lie on your right side and say: O Allah I have handed over my face to thee, entrusted my affairs to thee, and committed my back to thee out of desire for and fear to thee. There is no refuge and no place of safety from thee except by having recource to thee. I believe in Thy Book which Thou hast sent down and in Thy prophet whom thou hast sent down. He said: If you die (that night), you would die in the true religion, and utter these words in the last of that you utter (other prayers). Al-Bara said: I said: I memorise them, and then I repeated, saying “and in Thy Messenger whom Thou hast sent”. He said: No, say: “and in Thy Prophet whom Thou hast sent.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5028



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 5047
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن فطر بن خليفة، قال: سمعت سعد بن عبيدة، قال: سمعت البراء بن عازب، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا اويت إلى فراشك وانت طاهر، فتوسد يمينك، ثم ذكر نحوه.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
21588 - D 5047 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)» ‏‏‏‏

Al-Bara bin Azib said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: when you go to bed while you are in the state of purification, lay your head on your right hand. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner as above.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5029



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 5048
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبد الملك الغزال، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش , ومنصور، عن سعد بن عبيدة، عن البراء، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا، قال سفيان: قال احدهما: إذا اتيت فراشك طاهرا، وقال الآخر: توضا وضوءك للصلاة، وساق معنى معتمر.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» تم جب نماز جیسا وضو کر لو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔
21589 - D 5048 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (5046)، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)» ‏‏‏‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Bara bin Azil from the prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. One transmitter said: when you go to your bed while you are in the state of purification. The other said: Perform ablution like the ablution for prayer. He then transmitted the tradition to the effect as Mu’tamir transmitted.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5030



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 5049
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة , حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي، عن حذيفة، قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نام، قال: اللهم باسمك احيا واموت، وإذا استيقظ، قال: الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا، وإليه النشور".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
21590 - D 5049 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)» ‏‏‏‏

Hudhaifah said: when the prophet ﷺ lay down on his bed (at night), he would say: O Allah! In Thy name I die and live. When he awoke, he said: praise be to Allah who has given us life after causing us to die and to whom we shall be resurrected.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 5031



قال الشيخ الألباني: صحيح

1    2    3    4    5    Next