یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب ما جاء فى التطوع مثنى مثنى:
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، قَالَ:" فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عِنْدَ الْبَابِ قَائِمًا، فَقُلْتُ: يَابِلَالُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَيْنَ؟ قَالَ: بَيْنَ هَاتَيْنِ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَقَالَ عِتْبَانُ: غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا امْتَدَّ النَّهَارُ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (مکہ شریف میں) اپنے گھر آئے۔ کسی نے کہا بیٹھے کیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ گئے بلکہ کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں۔ عبداللہ نے کہا یہ سن کر میں آیا۔ دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے باہر نکل چکے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور دو رکعتیں کعبہ کے دروازے کے سامنے پڑھیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی دو رکعتوں کی وصیت کی تھی اور عتبان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1167]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر آ کر ان سے کہا گیا: ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (یہ بات سن کر) جب میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے تشریف لے جا چکے ہیں، البتہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے دروازے پر پایا۔ میں نے کہا: بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہاں ان دونوں ستونوں کے درمیان۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور بابِ کعبہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں۔ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چاشت کی دو رکعت پڑھنے“ کی وصیت فرمائی۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صبح سویرے سورج کچھ بلند ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥سيف بن أبي سليمان المخزومي، أبو سليمان سيف بن أبي سليمان المخزومي ← مجاهد بن جبر القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← سيف بن أبي سليمان المخزومي | ثقة ثبت |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1167 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1167
حدیث حاشیہ:
ان تمام روایتوں سے امام بخاری ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نفل نماز خواہ دن ہی میں کیوں نہ پڑھی جائے، دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے۔
امام شافعی ؒ کا بھی یہی مسلک ہے۔
ان تمام روایتوں سے امام بخاری ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نفل نماز خواہ دن ہی میں کیوں نہ پڑھی جائے، دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے۔
امام شافعی ؒ کا بھی یہی مسلک ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1167]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1167
حدیث حاشیہ:
(1)
ان تمام روایات سے امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نفل نماز، خواہ دن کے اوقات ہی میں کیوں نہ پڑھی جائے، اسے دو دو رکعت کر کے ادا کرنا افضل ہے۔
اس موقف کو ائمۂ حدیث کی اکثریت نے اختیار کیا ہے۔
اس کے متعلق حدیث: 990 کے تحت ہم نے تفصیل سے اپنی گزارشات پیش کی ہیں۔
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے پانچ احادیث ذکر کی ہیں:
حدیث ابو قتادہ (444)
حدیث انس ؓ (380)
، حدیث عبداللہ بن عمر ؓ (937)
، حدیث جابر بن عبداللہ ؓ (930)
اور حدیث عبداللہ بن عمر ؓ (397)
یہ تمام روایات پہلے ذکر ہو چکی ہیں اور ان کے متعلق مسائل بھی ذکر ہو چکے ہیں۔
امام بخاری ؒ نے دو معلق روایات بھی ذکر کی ہیں:
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی حدیث کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
اسی طرح حضرت عتبان بن مالک ؓ کی حدیث (425)
بھی پہلے بیان ہو چکی ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ امام بخاری کا مقصد ان حضرات کی تردید کرنا ہے جو کہتے ہیں کہ دن کے اوقات میں نوافل چار چار رکعت سے ادا کیے جائیں۔
جمہور کا موقف ہے کہ دو دو رکعت پر سلام پھیر کر انہیں پڑھا جائے، خواہ دن کے وقت پڑھے جائیں یا رات کو۔
امام ابو حنیفہ اور صاحبین دن کی نماز میں اختیار دیتے ہیں، البتہ چار چار کر کے ادا کرنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔
(فتح الباري: 65/3)
(1)
ان تمام روایات سے امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نفل نماز، خواہ دن کے اوقات ہی میں کیوں نہ پڑھی جائے، اسے دو دو رکعت کر کے ادا کرنا افضل ہے۔
اس موقف کو ائمۂ حدیث کی اکثریت نے اختیار کیا ہے۔
اس کے متعلق حدیث: 990 کے تحت ہم نے تفصیل سے اپنی گزارشات پیش کی ہیں۔
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے پانچ احادیث ذکر کی ہیں:
حدیث ابو قتادہ (444)
حدیث انس ؓ (380)
، حدیث عبداللہ بن عمر ؓ (937)
، حدیث جابر بن عبداللہ ؓ (930)
اور حدیث عبداللہ بن عمر ؓ (397)
یہ تمام روایات پہلے ذکر ہو چکی ہیں اور ان کے متعلق مسائل بھی ذکر ہو چکے ہیں۔
امام بخاری ؒ نے دو معلق روایات بھی ذکر کی ہیں:
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی حدیث کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
اسی طرح حضرت عتبان بن مالک ؓ کی حدیث (425)
بھی پہلے بیان ہو چکی ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ امام بخاری کا مقصد ان حضرات کی تردید کرنا ہے جو کہتے ہیں کہ دن کے اوقات میں نوافل چار چار رکعت سے ادا کیے جائیں۔
جمہور کا موقف ہے کہ دو دو رکعت پر سلام پھیر کر انہیں پڑھا جائے، خواہ دن کے وقت پڑھے جائیں یا رات کو۔
امام ابو حنیفہ اور صاحبین دن کی نماز میں اختیار دیتے ہیں، البتہ چار چار کر کے ادا کرنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔
(فتح الباري: 65/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1167]
Sahih Bukhari Hadith 1167 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي