🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب التطوع بعد المكتوبة:
باب: فرضوں کے بعد سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1173
وَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا. تَابَعَهُ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَأَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ.
ان سے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ) میری بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھتے اور یہ ایسا وقت ہوتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو کثیر بن فرقد اور ایوب نے بھی نافع سے روایت کیا اور ابن ابی الزناد نے اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا۔ اس میں «في بيته» کے بدل «في أهله‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1173]
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) مجھے میری ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے بعد ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ ابن ابی زناد رحمہ اللہ نے کہا کہ موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ نے حضرت نافع رحمہ اللہ کے حوالے سے «فِي بَيْتِهِ» کی بجائے «فِي أَهْلِهِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ کثیر بن فرقد رحمہ اللہ اور ایوب رحمہ اللہ نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے بیان کرنے میں عبیداللہ رحمہ اللہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1173 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1173
حدیث حاشیہ:
یہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس لیے کہا کہ فجر سے پہلے اور عشاء کی نماز کے بعد اور ٹھیک دوپہر کو گھر کے کام کاجی لوگوں کو بھی اجازت لے کر جانا چاہیے، اس وقت غیر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے مل سکتے۔
اس لیے ابن عمر ؓ نے ان سنتوں کا حال اپنی بہن ام المؤمنین حفصہ ؓ سے سن کر معلوم کیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1173]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1173
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے مذکورہ سنتیں تنہا پڑھی تھیں۔
معیت سے مراد صرف مقدار میں متابعت ہے۔
اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کیا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ دن کے اوقات میں لوگوں کے ساتھ مصروف گفتگو ہوتے، اس لیے دن کے وقت فرض نماز کے بعد سنتیں مسجد میں ادا کرتے تھے جبکہ رات کے اوقات میں اپنے گھر میں ہوتے اور گھر ہی میں سنتیں ادا کرتے۔
جمعہ پڑھانے کے بعد جلدی گھر واپس آ جاتے اور قیلولہ فرماتے، اس لیے جمعہ کے بعد کی سنتیں بھی گھر میں ادا کرتے جبکہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے اور اس کے بعد سنتوں کو مسجد میں ادا کرتے تھے۔
(فتح الباري: 66/3)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ظہر سے پہلے چار سنت پڑھنے کا ذکر ہے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1888(730)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت فجر پڑھتے نہیں دیکھا، انہیں اپنی بہن حضرت حفصہ ؓ کے حوالے سے بیان کیا اور معذرت کی کہ اس وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ آپ اس وقت مخلوق سے قطع تعلق ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔
واللہ أعلم۔
(2)
آخر میں امام بخاری ؒ نے کثیر بن فرقد کی متابعت بیان کی ہے جو ہمیں متصل سند سے دستیاب نہیں ہو سکی، البتہ ایوب کی متابعت کو خود امام بخاری ؒ نے اپنی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1180)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1173]

Sahih Bukhari Hadith 1173 in Urdu