🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب هل يجعل شعر المرأة ثلاثة قرون:
باب: اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَعْنِي ثَلَاثَةَ قُرُونٍ"، وَقَالَ وَكِيعٌ: قَالَ سُفْيَانُ: نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا.
ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کر دیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1262 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1262
حدیث حاشیہ:
بعض حضرات کا موقف ہے کہ فوت شدہ عورت کے بال ویسے ہی چھوڑ دیے جائیں، انہیں گوندھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ ایک زینت ہے اور میت کو اس کی ضرورت نہیں۔
حضرت ام عطیہ ؓ نے ازخود اس کی تین چوٹیاں بنائی ہیں۔
یہ ان کا اپنا فعل ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر حاصل نہیں۔
لیکن اس موقف کی کوئی اصل نہیں، کیونکہ حضرت ام عطیہ ؓ نے کوئی کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بغیر نہیں کیا، چنانچہ سعید بن منصور نے اس روایت کو بایں الفاظ بیان کیا ہے، حضرت ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا:
اسے طاق مرتبہ غسل دو اور اس کے بالوں کی مینڈھیاں بنا دو۔
امام ابن حبان ؒ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ حضرت ام عطیہ ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا:
اسے تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو اور اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دو۔
(صحیح ابن حبان (الإحسان)
: 15/5، حدیث: 3022، و فتح الباري: 172/3)
اس بنا پر فوت شدہ عورت کے بال گوندھنا اور ان کی مینڈھیاں بنانا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1262]