🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب النسك شاة:
باب: قرآن مجید میں «نسك» سے مراد بکری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، مِثْلَهُ.
اور محمد بن یوسف سے روایت ہے کہ ہم کو ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← كعب بن عجرة الأنصاري
ثقة
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥ورقاء بن عمر اليشكري، أبو بشر
Newورقاء بن عمر اليشكري ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← ورقاء بن عمر اليشكري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1818 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1818
حدیث حاشیہ:
یعنی آیت کریمہ ﴿فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ میں بکری مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1818]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1818
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے قرآنی آیت میں لفظ نسك کی وضاحت ہوئی کہ اس سے مراد بکری ہے، چنانچہ حضرت مجاہد کی بیان کردہ روایت کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ وہ شخص روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی سے اس کا فدیہ ادا کرے۔
(البقرة: 196: 2)
اور آیت کریمہ میں نسك سے مراد بکری ہے۔
(فتح الباري: 24/4)
ابوداود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1859)
لیکن اس روایت میں حضرت نافع اور حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے درمیان ایک واسطہ ہے جس کے متعلق محدثین کا اختلاف ہے، نیز صحیح بخاری کے مقابلے میں اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں۔
واللہ أعلم۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے جوؤں کی تکلیف کے باعث اپنا سر منڈوایا تھا، رکاوٹ پڑنے کی وجہ سے یہ کام نہیں کیا تھا۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جسے بیت اللہ تک پہنچنے کی امید ہو وہ ٹھہرا رہے حتی کہ وہاں جانے سے نا امید ہو جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1818]