🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب حج الصبيان:
باب: بچوں کا حج کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ (یعنی بال بچوں میں) حج کرایا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1859]
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا: انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامانِ سفر (بال بچوں) میں حج کرایا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيدصحابي صغير
👤←👥الجعد بن أوس المدني، أبو يزيد، أبو زيد
Newالجعد بن أوس المدني ← السائب بن يزيد الكندي
ثقة
👤←👥القاسم بن مالك المزني، أبو جعفر
Newالقاسم بن مالك المزني ← الجعد بن أوس المدني
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← القاسم بن مالك المزني
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1859 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1859
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز ؒنے حضرت سائب بن یزید ؓ سے مدد کے بارے میں پوچھا تھا۔
حضرت سائب بن یزید ؓ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ تھے اور وہ اس وقت بالغ تھے۔
اس سے بھی بچے حج کا کرنا ثابت ہو گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1859
حدیث حاشیہ:
(1)
بچے کا حج کرنا جائز اور درست ہے۔
اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک عورت نے اپنا بچہ اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:
آیا اس کا حج صحیح ہے؟ آپ نے فرمایا:
’‘ہاں، البتہ اس کا ثواب تجھے ملے گا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3254(1336)
اس سے معلوم ہوا کہ بچے کا حج مشروع ہے لیکن یہ حج فرض کو ساقط نہیں کرے گا بلکہ بلوغ کے بعد اسے حج واجب دوبارہ کرنا ہو گا کیونکہ بچہ بالغ ہونے تک مرفوع القلم ہے، لہذا اس پر حج فرض نہیں۔
اگر بچہ اپنا حج فاسد کر دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا ضروری نہیں اور نہ اس پر فدیہ ہی واجب ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت سائب بن یزید ؓ کے حج کرنے سے اپنے قائم کردہ عنوان کو ثابت کیا ہے کیونکہ حج کے وقت یہ دونوں حضرات نابالغ تھے، اس کے باوجود انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔
وھو المقصود
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]

Sahih Bukhari Hadith 1859 in Urdu